نواں پارہ (قَالَ الْمَلَاُ)..باطل کی سرکشی، معجزاتِ الٰہی اور نصرتِ خداوندی کے ضابطے

Spread the love

رمضان قرآن سیریز: نواں پارہ (قَالَ الْمَلَاُ)

 باطل کی سرکشی، معجزاتِ الٰہی اور نصرتِ خداوندی کے ضابطے

نواں پارہ دعوت اور تربیت کا ایک عظیم سنگم ہے۔ اس کا بڑا حصہ سورہ الاعراف کے بقیہ قصوں پر مشتمل ہے، جس میں خاص طور پر حضرت موسیٰ علیہ السلام اور فرعون کے درمیان حق و باطل کی طویل کشمکش کو بیان کیا گیا ہے۔ اس کے بعد سورہ الانفال شروع ہوتی ہے، جو کہ غزوۂ بدر (اسلام کی پہلی فیصلہ کن جنگ) کے پس منظر میں نازل ہوئی، جس میں مالِ غنیمت کی تقسیم اور اہلِمین کی صفات کا تذکرہ ہے۔ یہ پارہ ہمیں بتاتا ہے کہ جب باطل اپنی طاقت کے نشے میں اندھا ہو جاتا ہے، تو اللہ کی غیبی مدد کیسے کمزوروں کو وارث بنا دیتی ہے۔


1. حضرت موسیٰؑ اور فرعون: حق کی پہلی پکار

پارے کے آغاز میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کی فرعون کے دربار میں آمد اور اسے توحید کی دعوت دینے کا ذکر ہے۔ فرعون، جو اپنی خدائی کا دعویٰ کرتا تھا، اس نے مطالبہ کیا کہ اگر تم سچے ہو تو کوئی نشانی دکھاؤ۔ حضرت موسیٰؑ نے اپنا عصا پھینکا جو ایک عظیم اژدہا بن گیا اور اپنا ہاتھ گریبان سے نکالا تو وہ سورج کی طرح چمکنے لگا۔ یہاں یہ نکتہ ملتا ہے کہ داعیِ حق کو ہر حال میں دلیل اور معجزے کے ساتھ میدان میں نکلنا چاہیے، چاہے سامنے وقت کا کتنا ہی بڑا جابر کیوں نہ ہو۔ فرعون نے ان معجزات کو "جادو” قرار دے کر چیلنج کیا، جس نے حق و باطل کے درمیان ایک بڑے مقابلے کی بنیاد رکھی۔

2. جادوگروں کا مقابلہ اور ایمان کی تبدیلی

فرعون نے ملک بھر سے ماہر جادوگر جمع کیے تاکہ حضرت موسیٰؑ کو مغلوب کر سکے، لیکن جب حضرت موسیٰؑ کے عصا نے ان کے تمام جادوئی کرشموں کو نگل لیا، تو جادوگر فوراً پہچان گئے کہ یہ جادو نہیں بلکہ معجزہ ہے۔ وہ اسی وقت سجدے میں گر گئے اور فرعون کی موت کی دھمکیوں کے باوجود اپنے ایمان پر قائم رہے۔ مفسرین فرماتے ہیں کہ یہ "ایمان کی وہ مٹھاس” تھی جس نے چند لمحوں میں انسان کے خوف کو ختم کر دیا۔ یہ واقعہ ہمیں سکھاتا ہے کہ جب حقیقت کھل کر سامنے آ جائے، تو دنیا کے بڑے سے بڑے اقتدار کی پرواہ کیے بغیر اسے قبول کر لینا چاہیے۔

3. فرعون پر نو نشانیاں اور پے در پے عذاب

جب فرعون اور اس کی قوم نے ضد نہ چھوڑی، تو اللہ تعالیٰ نے ان پر پے در پے مختلف عذاب بھیجے جنہیں "نو نشانیاں” کہا گیا ہے۔ ان میں طوفان، ٹڈیاں، گھن (جوئیں)، مینڈک اور خون شامل تھے۔ جب بھی کوئی عذاب آتا، وہ حضرت موسیٰؑ سے دعا کی درخواست کرتے کہ ہم ایمان لے آئیں گے، لیکن عذاب ٹلتے ہی وہ پھر سرکشی کرنے لگتے۔ یہ انسانی نفسیات کا وہ پہلو ہے جہاں انسان مشکل میں اللہ کو یاد کرتا ہے اور آسانی میں اسے بھول جاتا ہے۔ آخر کار ان کی بدعہدی کی وجہ سے اللہ نے انہیں سمندر میں غرق کر دیا اور بنی اسرائیل کو ان کا وارث بنا دیا۔

4. بنی اسرائیل کی لغزشیں اور بچھڑے کی پرستش

سمندر پار کرنے کے بعد بنی اسرائیل نے جب ایک قوم کو بتوں کی پوجا کرتے دیکھا، تو انہوں نے مطالبہ کیا کہ "ہمارے لیے بھی ایسا ہی معبود بنا دیں”۔ حضرت موسیٰؑ نے انہیں سختی سے ٹوکا۔ بعد ازاں، جب حضرت موسیٰؑ طورِ سینا پر چالیس دن کے لیے تشریف لے گئے، تو پیچھے سے سامری نے سونے کا ایک بچھڑا بنا لیا اور قوم اس کی پرستش کرنے لگی۔ یہ واقعہ بتاتا ہے کہ طویل غلامی کی وجہ سے ان کے عقائد میں بگاڑ آ گیا تھا۔ اللہ نے ان کی توبہ صرف اسی صورت میں قبول فرمائی کہ وہ آپس میں ایک دوسرے کو قتل کریں، جو کہ ایک سخت ترین سزا تھی تاکہ آئندہ کوئی شرک کی جرات نہ کر سکے۔

5. میثاقِ بنی آدم: فطرتِ انسانی کا عہد

اس پارے میں "عہدِ الست” کا تذکرہ ہے، یعنی وہ وقت جب اللہ تعالیٰ نے تمام انسانوں کی روحوں کو پیدا کر کے ان سے پوچھا تھا: "کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟” اور سب نے جواب دیا تھا: "کیوں نہیں! ہم گواہ ہیں”۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ قیامت کے دن کوئی یہ عذر پیش نہ کر سکے کہ ہم تو اپنے رب کو جانتے ہی نہیں تھے۔ مفسرین کے مطابق ہر انسان کے دل میں توحید کی جو تڑپ ہے، وہ اسی قدیم عہد کا اثر ہے۔ یہ انسانی فطرت کی وہ بنیاد ہے جو اسے ہر دور میں سچائی کی طرف مائل کرتی ہے۔

6. سبت والوں کا واقعہ اور بندر بنائے جانے کا عبرتناک انجام

بنی اسرائیل کی ایک بستی جو سمندر کے کنارے آباد تھی، انہیں ہفتے کے دن (Sabbath) مچھلی کے شکار سے روکا گیا تھا۔ انہوں نے اللہ کے حکم سے بچنے کے لیے حیلے بازی شروع کر دی (ہفتے کو جال بچھاتے اور اتوار کو مچھلیاں نکالتے)۔ ان کے اس مذاق اور حکمِ الٰہی کی تضحیک پر اللہ نے ان پر عذاب نازل کیا اور انہیں "ذلیل بندر” بنا دیا۔ یہ واقعہ ہمیں خبردار کرتا ہے کہ اللہ کے احکامات میں اپنی مرضی کے "چور راستے” نکالنا اور حیلے سازی کرنا اللہ کے غضب کو دعوت دینا ہے، چاہے وہ عمل بظاہر نیکی ہی کیوں نہ لگے۔

7. سورہ الانفال: غزوۂ بدر اور مالِ غنیمت کا قانون

پارے کے آخری حصے میں سورہ الانفال شروع ہوتی ہے۔ یہ سورت ہجرت کے دوسرے سال غزوۂ بدر کے بعد نازل ہوئی۔ مسلمانوں میں مالِ غنیمت (انفال) کی تقسیم کے حوالے سے کچھ اختلاف ہوا، تو اللہ نے فرمایا کہ "انفال اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہیں”۔ یعنی مال کے لیے جھگڑا نہ کرو بلکہ آپس میں صلح رکھو۔ یہاں سے یہ ضابطہ ملا کہ جہاد کا مقصد مال جمع کرنا نہیں بلکہ کلمۃ اللہ کی بلندی ہونا چاہیے۔ اللہ نے اس سورت میں مسلمانوں کو اپنی وہ غیبی مدد بھی یاد دلائی جو ہزار فرشتوں کی صورت میں نازل ہوئی تھی۔

8. سچے مومنین کی پانچ صفات

سورہ الانفال کے آغاز میں ہی اللہ تعالیٰ نے کامل ایمان والوں کی پانچ خصوصیات بیان فرمائی ہیں: (1) جب اللہ کا ذکر کیا جائے تو ان کے دل ڈر جاتے ہیں۔ (2) جب قرآن کی تلاوت کی جائے تو ان کا ایمان بڑھ جاتا ہے۔ (3) وہ صرف اپنے رب پر توکل کرتے ہیں۔ (4) وہ نماز قائم کرتے ہیں۔ (5) اللہ کے دیے ہوئے رزق میں سے خرچ کرتے ہیں۔ یہ وہ اوصاف ہیں جو انسان کو ظاہری عبادت سے بلند کر کے باطنی طہارت تک لے جاتے ہیں اور اسے اللہ کا سچا محبوب بنا دیتے ہیں۔


youtube channel visit karain

نویں پارے سے حاصل ہونے والے 5 عملی اسباق

  1. حق پر استقامت: جادوگروں کی طرح اپنے ایمان میں اتنے مضبوط ہوں کہ دنیا کا کوئی ڈر یا لالچ آپ کو حق کے راستے سے نہ ہٹا سکے۔

  2. حیلہ سازی سے بچیں: اللہ کے احکامات کو ان کی روح کے ساتھ مانیں، اپنی سہولت کے لیے دین کے احکام میں تبدیلی یا حیلے نہ ڈھونڈیں۔

  3. توکل الٰہی: غزوۂ بدر کا سبق یہ ہے کہ اگر آپ حق پر ہیں تو تعداد کی کمی سے نہ ڈریں، اللہ کی غیبی مدد ہمیشہ سچے مومنوں کے ساتھ ہوتی ہے۔

  4. تلاوت سے ایمان کی جلا: روزانہ قرآن کی تلاوت کا اہتمام کریں اور غور کریں کہ کیا اسے سن کر آپ کے ایمان میں اضافہ ہو رہا ہے؟

  5. شکر گزاری: بنی اسرائیل کو جب بھی نعمت ملی انہوں نے ناشکری کی، ہمیں چاہیے کہ ہم ہر حال میں اللہ کے شکر گزار بنیں تاکہ نعمتیں چھین نہ لی جائیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے