رمضان قرآن سیریز: آٹھواں پارہ (وَلَوْ اَنَّنَا)
حق کے دلائل، انسانی تاریخ کے عبرتناک سبق اور حلال و حرام کے ضابطے
آٹھواں پارہ ایمانی اور نظریاتی پختگی کے لیے نہایت اہم ہے۔ اس کا پہلا حصہ سورہ الانعام کے خاتمے پر مشتمل ہے جس میں مشرکانہ رسوم و رواج کا قلع قمع کر کے خالص توحید اور انسانی حقوق کے دس بنیادی اصول بیان کیے گئے ہیں۔ دوسرا حصہ سورہ الاعراف سے شروع ہوتا ہے، جو قرآن کی طویل ترین سورتوں میں سے ایک ہے۔ اس میں تخلیقِ آدمؑ، شیطان کی دشمنی اور سابقہ اقوام (نوحؑ، ہودؑ، صالحؑ، لوطؑ اور شعیبؑ) کے قصوں کے ذریعے انسان کو یہ سمجھایا گیا ہے کہ حق کو جھٹلانے کا انجام کتنا ہولناک ہوتا ہے۔
1. ہٹ دھرمی کا علاج اور ایمان کی حقیقت
پارے کے آغاز میں اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کی نفسیات بیان فرمائی ہے جو محض ضد کی بنا پر ایمان نہیں لاتے۔ فرمایا گیا کہ اگر ہم ان پر فرشتے بھی اتار دیں، مردے ان سے باتیں کرنے لگیں اور ہم کائنات کی ہر چیز ان کی آنکھوں کے سامنے جمع کر دیں، تب بھی یہ ایمان لانے والے نہیں کیونکہ ان کے دلوں پر مہر لگ چکی ہے۔ یہاں یہ عظیم نکتہ سمجھایا گیا ہے کہ ہدایت صرف معجزات دیکھنے سے نہیں بلکہ "طلبِ صادق” اور اللہ کی توفیق سے ملتی ہے۔ مومن کو چاہیے کہ وہ ظاہری اسباب کے بجائے اللہ کے کلام پر یقین رکھے اور اکثریت کی گمراہی کو دیکھ کر پریشان نہ ہو، کیونکہ اکثریت اکثر حق سے غافل ہوتی ہے۔
2. حلال و حرام کے الٰہی ضابطے اور مشرکانہ رسوم کا رد
اس حصے میں کھانے پینے کی اشیاء کے حوالے سے اسلامی قانون کو واضح کیا گیا ہے۔ مشرکین نے اپنی طرف سے بہت سے جانوروں کو بتوں کے نام پر حرام کر رکھا تھا، قرآن نے ان خود ساختہ پابندیوں کو ختم کیا۔ حکم دیا گیا کہ صرف وہ جانور کھاؤ جس پر ذبح کے وقت اللہ کا نام لیا گیا ہو، اور جس پر اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو وہ فسق (گناہ) ہے۔ یہ عقیدۂ توحید کا عملی اظہار ہے کہ انسان کی غذا بھی اللہ کے حکم کے تابع ہونی چاہیے۔ مفسرین فرماتے ہیں کہ رزقِ حلال کا انسان کے عمل اور دعا کی قبولیت پر گہرا اثر پڑتا ہے، اس لیے اس معاملے میں ذرہ برابر بھی سمجھوتہ نہیں کرنا چاہیے۔
3. زندگی کے دس سنہری اصول (محکماتِ دین)
سورہ الانعام کے آخر میں اللہ تعالیٰ نے دس ایسی وصیتیں فرمائی ہیں جو تمام آسمانی مذاہب کا نچوڑ ہیں۔ ان میں شرک سے بچنا، والدین کے ساتھ حسنِ سلوک، غربت کے ڈر سے بچوں کو قتل نہ کرنا، بے حیائی کے کاموں (ظاہری ہوں یا چھپے ہوئے) سے دور رہنا، کسی کو ناحق قتل نہ کرنا، یتیم کے مال کی حفاظت کرنا، ناپ تول میں انصاف کرنا، بات کرتے وقت عدل کا دامن نہ چھوڑنا (خواہ اپنے رشتہ داروں کا معاملہ ہو)، اللہ کے عہد کو پورا کرنا اور صراطِ مستقیم کی پیروی کرنا شامل ہیں۔ یہ وہ اخلاقی منشور ہے جو ایک پرامن اور عادلانہ معاشرے کی بنیاد رکھتا ہے۔
4. سورہ الاعراف: تخلیقِ آدمؑ اور ابلیس کا تکبر
یہاں سے ایک نیا سلسلہ شروع ہوتا ہے جس میں انسانیت کی ابتدا کا ذکر ہے۔ اللہ نے حضرت آدمؑ کو پیدا کیا اور فرشتوں کو سجدے کا حکم دیا، مگر ابلیس نے "انا” اور "تکبر” کی وجہ سے انکار کر دیا اور کہا کہ میں آگ سے پیدا ہوا ہوں اور یہ مٹی سے، اس لیے میں بہتر ہوں۔ یہ تکبر ہی تھا جس نے اسے راندہِ درگاہ کر دیا۔ اس واقعے سے سبق ملتا ہے کہ "نسلی تفاخر” اور "میں” کی تکرار شیطانی صفت ہے، جبکہ عاجزی رحمانی صفت ہے۔ شیطان نے قیامت تک انسانوں کو بہکانے کا چیلنج کیا ہے، اس لیے انسان کو ہر پل اپنے ازلی دشمن سے ہوشیار رہنا چاہیے۔
5. لباس کی اہمیت اور شیطانی سازش
اللہ تعالیٰ نے انسان کو لباس جیسی نعمت عطا فرمائی جو اس کی ستر پوشی بھی کرتا ہے اور زینت بھی۔ قرآن نے خبردار کیا کہ شیطان کا سب سے پہلا وار انسان کی حیا اور لباس پر ہوتا ہے، جیسا کہ اس نے جنت میں حضرت آدمؑ اور حواؑ کے ساتھ کیا۔ اللہ نے فرمایا کہ بہترین لباس "تقویٰ کا لباس” ہے، یعنی انسان ظاہری لباس کے ساتھ ساتھ اپنی روح کو بھی گناہوں سے پاک رکھے۔ آج کے دور میں جب بے حیائی عام ہو رہی ہے، یہ قرآنی سبق ہمیں اپنی اقدار کی حفاظت کی دعوت دیتا ہے۔
6. اصحابِ اعراف اور اہل جفت و نار کا مکالمہ
اس پارے میں قیامت کے دن کا ایک عجیب منظر پیش کیا گیا ہے۔ جنت اور دوزخ کے درمیان ایک دیوار ہے جسے "اعراف” کہا جاتا ہے۔ اس پر وہ لوگ ہوں گے جن کی نیکیاں اور گناہ برابر ہوں گے۔ وہ جنت والوں کو دیکھ کر ان کی نعمتوں پر رشک کریں گے اور دوزخ والوں کے انجام کو دیکھ کر پناہ مانگیں گے۔ آخر کار اللہ کی رحمت سے انہیں بھی جنت میں داخل کر دیا جائے گا۔ اس منظر کشی کا مقصد انسان کو یہ بتانا ہے کہ ایک ایک نیکی کی قیمت کیا ہے، اور انسان کو اپنی نیکیوں پر مغرور ہونے کے بجائے ہمیشہ اللہ کے فضل کا امیدوار رہنا چاہیے۔
7. حضرت نوحؑ اور حضرت ہودؑ کے عبرتناک قصے
پارے کے آخری حصے میں قوموں کے عروج و زوال کی داستان شروع ہوتی ہے۔ حضرت نوحؑ نے ساڑھے نو سو سال اپنی قوم کو توحید کی دعوت دی لیکن انہوں نے تمسخر اڑایا، جس کا نتیجہ ایک عظیم طوفان کی شکل میں نکلا۔ اس کے بعد قومِ عاد (حضرت ہودؑ کی قوم) کا ذکر ہے جنہیں اللہ نے بڑی جسمانی طاقت اور وسائل دیے تھے، مگر انہوں نے تکبر کیا اور اپنے نبی کو جھٹلایا۔ اللہ نے ایک زوردار آندھی کے ذریعے انہیں جڑ سے اکھاڑ پھینکا۔ یہ واقعات بتاتے ہیں کہ مادی ترقی اللہ کے عذاب کو نہیں روک سکتی اگر قوم کی اخلاقیات تباہ ہو جائیں۔
8. حضرت صالحؑ، حضرت لوطؑ اور حضرت شعیبؑ کی پکار
پارے کے اختتام پر مزید تین انبیاء کے قصے ہیں۔ قومِ ثمود (حضرت صالحؑ) نے اللہ کی نشانی "اونٹنی” کی بے حرمتی کی تو انہیں ایک چنگھاڑ نے ہلاک کر دیا۔ قومِ لوطؑ اپنی بدکاری (ہم جنس پرستی) کی وجہ سے الٹ دی گئی اور ان پر پتھروں کی بارش ہوئی۔ قومِ مدین (حضرت شعیبؑ) جو ناپ تول میں کمی اور معاشی استحصال کرتی تھی، انہیں بھی اللہ کے عذاب نے پکڑ لیا۔ یہ تمام قصے چیخ چیخ کر کہہ رہے ہیں کہ اللہ کی زمین پر اس کی نافرمانی کر کے کوئی نہیں بچ سکتا۔ نجات صرف اللہ کی بندگی اور نبی کی اطاعت میں ہے۔
chakwal plus youtube channel
آٹھویں پارے سے حاصل ہونے والے 5 عملی اسباق
تکبر سے بچیں: اپنی اصل (مٹی) کو یاد رکھیں اور کبھی کسی کو اپنے سے کمتر نہ سمجھیں، کیونکہ تکبر ابلیس کا راستہ ہے۔
رزقِ حلال کی فکر: اس بات کو یقینی بنائیں کہ آپ جو کچھ کھا رہے ہیں وہ شرعی طور پر حلال ہو اور اس پر اللہ کا نام لیا گیا ہو، کیونکہ غذا سے ہی عمل کی توفیق ملتی ہے۔
حیا اور لباس کی حفاظت: اپنے لباس اور اپنی نگاہوں میں حیا پیدا کریں، کیونکہ یہ ایمان کا حصہ ہے اور شیطان کا پہلا نشانہ انسان کی شرم و حیا ہی ہوتی ہے۔
ناپ تول اور معاملات میں دیانت: چاہے دکان ہو یا دفتر، اپنے فرائض کی ادائیگی میں ڈنڈی نہ ماریں، کیونکہ قومِ شعیبؑ کی تباہی کی ایک بڑی وجہ معاشی بددیانتی تھی۔
تاریخ سے عبرت: دنیا کی رنگینیوں اور طاقت کے نشے میں اللہ کو نہ بھولیں، پچھلی قوموں کے کھنڈرات ہمیں پکار رہے ہیں کہ اصل کامیابی آخرت کی کامیابی ہے۔


