رمضان قرآن سیریز: ساتواں پارہ (وَ إِذَا سَمِعُوْا)
حق کی پہچان، معاشرتی حدود اور دلائلِ توحید
ساتواں پارہ قرآنی تعلیمات کا ایک نہایت خوبصورت سنگم ہے۔ یہ پارہ سورہ المائدہ کے آخری حصے اور سورہ الانعام کے ابتدائی نصف پر مشتمل ہے۔ جہاں المائدہ میں حلال و حرام، قسموں کے کفارے اور حضرت عیسیٰؑ کے حوالے سے عقائد کی تصحیح کی گئی ہے، وہاں سورہ الانعام کے آغاز سے ہی کلام کا رخ مکہ کے مشرکانہ ماحول کی طرف مڑ جاتا ہے اور کائنات کی تخلیق، ستاروں کی گردش اور عقل و دانش کے ذریعے توحیدِ باری تعالیٰ کو ثابت کیا گیا ہے۔ یہ پارہ بندے کو جذباتی رقت (آنسوؤں) سے شروع کر کے عقلی یقین تک لے جاتا ہے۔
1. حق کی پہچان اور اہلِ کتاب کی رقتِ قلبی
پارے کا آغاز ان سچے اہلِ کتاب (نصاریٰ) کے تذکرے سے ہوتا ہے جن کے دلوں میں تعصب نہیں تھا۔ جب وہ نبی کریم ﷺ پر نازل ہونے والا کلام سنتے ہیں تو حق کی پہچان کی وجہ سے ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو جاتے ہیں اور وہ پکار اٹھتے ہیں کہ "اے ہمارے رب! ہم ایمان لے آئے، پس ہمیں گواہی دینے والوں میں لکھ لے”۔ یہ حصہ ہمیں سکھاتا ہے کہ علم کا اصل مقصد دل میں نرمی اور حق کے سامنے سرِ تسلیم خم کرنا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے اس اخلاص اور اعترافِ حق کے بدلے انہیں جنت کی دائمی نعمتوں کی خوشخبری سنائی ہے، جو اس بات کی دلیل ہے کہ جو شخص بھی صدقِ دل سے حق کو ڈھونڈتا ہے، اللہ اسے ضائع نہیں فرماتا۔
2. قسموں کے احکام اور ان کا کفارہ
انسانی معاشرے میں بات بات پر قسم کھانے کا رواج عام ہو جاتا ہے، جس کی اصلاح کے لیے یہاں اہم ضابطے دیے گئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ لغو (بغیر سوچے سمجھے کھائی جانے والی) قسموں پر گرفت نہیں فرماتا، لیکن جو قسمیں انسان پختہ ارادے کے ساتھ کھاتا ہے، ان کی پاسداری لازم ہے۔ اگر ایسی قسم ٹوٹ جائے تو اس کا کفارہ ادا کرنا ضروری ہے، جو کہ دس مسکینوں کو کھانا کھلانا، یا انہیں کپڑے پہنانا، یا ایک غلام آزاد کرنا ہے، اور اگر اس کی طاقت نہ ہو تو تین دن کے روزے رکھنا ہیں۔ یہ حکم زبان کی حفاظت اور اللہ کے نام کی حرمت کو برقرار رکھنے کے لیے دیا گیا ہے تاکہ انسان اپنی گفتگو میں سنجیدگی پیدا کرے۔
3. شراب اور جوئے کی قطعی اور حتمی حرمت
سورہ المائدہ کے اس حصے میں شراب، جوا، بتوں کے تھان اور فال کے تیروں کو "رجس” (گندگی) اور شیطانی کام قرار دے کر ہمیشہ کے لیے حرام کر دیا گیا۔ اللہ تعالیٰ نے واضح فرمایا کہ شیطان ان چیزوں کے ذریعے تمہارے درمیان دشمنی اور بغض پیدا کرنا چاہتا ہے اور تمہیں اللہ کی یاد اور نماز سے روکنا چاہتا ہے۔ یہ حکم ایک ایسے معاشرے میں آیا جہاں شراب نوشی رگ و پے میں بسی تھی، لیکن "فَہَلْ اَنْتُمْ مُّنْتَہُوْنَ” (کیا تم باز آتے ہو؟) کے ایک ہی سوال پر صحابہ نے شراب کے مٹکے گلیوں میں بہا دیے۔ یہ معاشی اور اخلاقی پاکیزگی کا وہ منشور ہے جس نے انسانیت کو ذہنی غلامی سے نجات دلائی۔
4. حالتِ احرام میں شکار اور حدودِ حرم کا تقدس
حج اور عمرہ کے دوران جب انسان احرام کی حالت میں ہوتا ہے، تو اس پر خشکی کا شکار کرنا حرام کر دیا جاتا ہے۔ یہ حکم دراصل انسان کے صبر اور نظم و ضبط کا امتحان ہے تاکہ دیکھا جائے کہ وہ اللہ کے خوف سے اپنے جذبات اور خواہشات پر کتنا قابو پاتا ہے۔ اگر کوئی جان بوجھ کر شکار کرے تو اس پر بدلے میں جانور کی قربانی یا اس کے برابر صدقہ لازم آتا ہے۔ سمندر کے شکار کو اس حالت میں بھی حلال رکھا گیا ہے تاکہ مسافروں کے لیے آسانی رہے۔ یہ احکامات کعبہ اور حدودِ حرم کی اس عظمت کو ظاہر کرتے ہیں جہاں پرندے اور جانور بھی امن پا جاتے ہیں۔
5. کعبہ کی مرکزیت اور شعائرِ اللہ کی حرمت
اللہ تعالیٰ نے کعبہ کو (جو کہ ایک محترم گھر ہے) انسانوں کے قیام، امن اور بقا کا ذریعہ بنایا ہے۔ اس کے ساتھ ہی عزت والے مہینوں، قربانی کے جانوروں اور ان کے گلے میں پڑی ہوئی علامات (قلائد) کو بھی محترم قرار دیا گیا ہے۔ یہ سب اس لیے ہے تاکہ انسان کو یقین ہو جائے کہ اللہ زمین و آسمان کی ہر چیز سے واقف ہے اور اس نے اپنے گھر کو پوری دنیا کے لیے برکت اور امن کا مرکز بنایا ہے۔ یہاں سے یہ سبق ملتا ہے کہ جب تک کعبہ کی مرکزیت اور شعائرِ اللہ کا احترام قائم رہے گا، انسانیت کا نظام استوار رہے گا۔
6. معجزۂ مائدہ (آسمانی دسترخوان) کا تذکرہ
سورہ المائدہ کا نام جس واقعے پر رکھا گیا ہے، وہ اسی پارے کے آخر میں بیان ہوا ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حواریوں نے مطالبہ کیا کہ کیا آپ کا رب آسمان سے ہمارے لیے کھانے کا دسترخوان (مائدہ) اتار سکتا ہے؟ حضرت عیسیٰؑ نے انہیں اللہ سے ڈرنے کی تاکید کی لیکن ان کے اصرار پر (تاکہ دلوں کو اطمینان ہو اور وہ معجزہ دیکھ سکیں) دعا فرمائی۔ اللہ نے دسترخوان اتارنے کا وعدہ فرمایا لیکن ساتھ ہی یہ تنبیہ بھی کی کہ اس کے بعد جو کفر کرے گا اسے ایسی سزا دی جائے گی جو جہانوں میں کسی کو نہ ملی ہو۔ یہ واقعہ بتاتا ہے کہ معجزات کے بعد ذمہ داری بڑھ جاتی ہے اور اللہ کی نعمتوں کا شکر لازم ہو جاتا ہے۔
7. میدانِ حشر میں حضرت عیسیٰؑ کی عظیم گواہی
سورہ المائدہ کا اختتام ایک نہایت لرزہ خیز اور پر اثر منظر پر ہوتا ہے، جہاں قیامت کے دن اللہ تعالیٰ تمام انبیاء کو جمع کرے گا اور حضرت عیسیٰؑ سے پوچھے گا کہ "کیا تم نے لوگوں سے کہا تھا کہ مجھے اور میری ماں کو خدا بنا لو؟” حضرت عیسیٰؑ نہایت عاجزی سے اللہ کی پاکی بیان کریں گے اور عرض کریں گے کہ "اگر میں نے ایسی بات کہی ہوتی تو تجھے ضرور علم ہوتا، میں نے تو وہی کہا تھا جس کا تو نے حکم دیا کہ صرف اللہ کی عبادت کرو”۔ وہ عرض کریں گے کہ اگر تو انہیں سزا دے تو یہ تیرے بندے ہیں اور اگر معاف کر دے تو تو غالب اور حکمت والا ہے۔ یہ منظر عیسائیوں کے غلط عقیدے (تثلیث) کی جڑ کاٹ دیتا ہے اور خالص توحید کو واضح کرتا ہے۔
8. آغازِ سورہ الانعام: کائنات کی تخلیق اور توحیدِ مطلق
پارے کے دوسرے حصے میں سورہ الانعام شروع ہوتی ہے، جو کہ مکی سورت ہے اور اس کا موضوع عقیدہ ہے۔ پہلی ہی آیت میں اللہ نے اعلان فرمایا کہ تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے زمین و آسمان بنائے اور اندھیرے اور روشنی پیدا کی۔ مشرکین جو اللہ کے ساتھ دوسروں کو شریک ٹھہراتے تھے، انہیں جھنجھوڑا گیا کہ جب تخلیق اللہ کی ہے تو عبادت کسی اور کی کیوں؟ یہاں مادہ پرستی کا رد کیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ مٹی سے پیدا ہونے والا انسان ایک دن اپنے رب کی طرف لوٹ کر جائے گا، اس لیے موت سے پہلے زندگی کے مقصد کو پہچاننا ضروری ہے۔
9. رسالت پر اعتراضات اور ان کے منطقی جوابات
کفارِ مکہ یہ اعتراض کرتے تھے کہ نبی ہم جیسا انسان کیوں ہے؟ اس کے ساتھ کوئی فرشتہ کیوں نہیں اترا؟ اللہ تعالیٰ نے جواب دیا کہ اگر ہم فرشتہ اتارتے تو وہ بھی انسان ہی کی شکل میں ہوتا (تاکہ تم اسے دیکھ سکو) اور پھر تمہارا شبہ وہیں کا وہیں رہتا۔ نیز، اگر فرشتہ اتارا جاتا اور پھر بھی تم ایمان نہ لاتے تو فوراً ہلاک کر دیے جاتے۔ یہ حصہ واضح کرتا ہے کہ انسانوں کی رہنمائی کے لیے انسان ہی بہترین نمونہ ہو سکتا ہے، کیونکہ فرشتے کی پیروی انسان کے لیے ممکن نہ ہوتی۔ رسول کا کام صرف پیغام پہنچانا ہے، زبردستی منوانا نہیں۔
10. حضرت ابراہیم علیہ السلام کا مناظرہ اور مشاہدہِ فطرت
اس پارے میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کا وہ مشہور واقعہ بیان ہوا ہے جہاں وہ اپنی قوم کو شرک سے نکالنے کے لیے فطرت کی نشانیوں سے استدلال کرتے ہیں۔ آپؑ نے باری باری ستارے، چاند اور سورج کو دیکھا اور جب وہ سب غروب ہو گئے تو فرمایا کہ "میں ڈوب جانے والوں (زوال پذیر چیزوں) سے محبت نہیں کرتا”۔ اس عقلی سفر کے ذریعے آپؑ نے ثابت کیا کہ جو چیز وقت کے ساتھ بدل جائے یا غائب ہو جائے وہ خدا نہیں ہو سکتی۔ آپؑ نے اعلان کیا کہ "میں نے اپنا رخ اس ذات کی طرف کر لیا جس نے زمین و آسمان کو پیدا کیا اور میں مشرکوں میں سے نہیں ہوں”۔ یہ توحید تک پہنچنے کا ایک مثالی فلسفیانہ انداز ہے۔
11. انبیاء کی لڑی اور ہدایت کا ایک ہی راستہ
قرآنِ کریم نے یہاں بیک وقت 18 انبیاءِ کرام کا ذکر کیا ہے، جن میں حضرت اسحاقؑ، یعقوبؑ، نوحؑ، داؤدؑ، سلیمانؑ، ایوبؑ، یوسفؑ، موسیٰؑ، ہارونؑ، زکریاؑ، یحییٰؑ، عیسیٰؑ، الیاسؑ، اسماعیلؑ، الیسعؑ، یونسؑ اور لوطؑ شامل ہیں۔ ان سب کا ذکر کر کے یہ واضح کیا گیا کہ ان سب کا دین ایک ہی تھا اور یہ سب اللہ کے برگزیدہ بندے تھے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم نے ان سب کو ہدایت دی اور اگر یہ لوگ (فرضِ محال) شرک کرتے تو ان کے اعمال بھی ضائع ہو جاتے۔ نبی کریم ﷺ کو حکم دیا گیا کہ آپ ان انبیاء کے راستے کی پیروی کریں، جس کا مطلب یہ ہے کہ اسلام تمام پچھلے ادیان کی اصل روح کو سمیٹے ہوئے ہے۔
12. علمِ غیب کی چابیاں اور اللہ کی وسعتِ قدرت
پارے کے آخری حصے میں اللہ کے علم کی وہ وسعت بیان کی گئی ہے جو انسان کو ورطۂ حیرت میں ڈال دیتی ہے۔ فرمایا گیا کہ "غیب کی چابیاں اللہ ہی کے پاس ہیں، جنہیں اس کے سوا کوئی نہیں جانتا”۔ وہ جانتا ہے جو کچھ خشکی میں ہے اور جو کچھ سمندروں میں ہے۔ زمین کی تاریکیوں میں گرنے والا کوئی دانہ، یا کوئی خشک و تر چیز ایسی نہیں جو اللہ کے علم میں نہ ہو اور لوحِ محفوظ میں درج نہ ہو۔ یہ تصور انسان کے اندر یہ احساس پیدا کرتا ہے کہ وہ کبھی تنہا نہیں ہے، اس کا رب اس کے ہر ارادے، ہر عمل اور کائنات کے ہر ذرے سے باخبر ہے۔
💡 ساتویں پارے سے حاصل ہونے والے 5 عملی اسباق
حق کے لیے دل کو نرم رکھیں: جب بھی قرآن کی کوئی بات یا حق کا کوئی پہلو سامنے آئے، تو اسے انا کا مسئلہ بنانے کے بجائے قبول کریں اور اللہ سے ہدایت مانگیں۔
زبان کی حفاظت: بات بات پر قسم کھانے سے پرہیز کریں اور اگر کوئی پختہ قسم ٹوٹ جائے تو سستی کے بجائے اس کا شرعی کفارہ ادا کریں۔
نشے اور جوئے سے دوری: اپنی کمائی اور اپنی صحت کو شیطانی کاموں (شراب، جوا، نشہ) سے پاک رکھیں، کیونکہ یہ چیزیں صرف بربادی لاتی ہیں۔
تخلیقِ کائنات میں غور و فکر: ستاروں، سورج، چاند اور اپنے اردگرد کی فطرت کو دیکھ کر اللہ کی معرفت حاصل کریں، جیسا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کیا۔
خوفِ خدا اور تنہائی کا احساس: یہ یقین رکھیں کہ اللہ آپ کے دل کے ارادوں اور زمین و آسمان کے ہر ذرے سے واقف ہے، یہ احساس آپ کو گناہوں سے بچانے میں سب سے زیادہ مددگار ثابت ہوگا۔

