رمضان قرآن سیریز: چوبیسواں پارہ (فَمَنْ اَظْلَمُ)
توبہ کی قبولیت، دعوتِ حق اور کائناتی نشانیاں
چوبیسواں پارہ امید اور خوف کا ایک حسین امتزاج ہے۔ اس میں جہاں اللہ کی بے پایاں رحمت کا ذکر ہے کہ وہ تمام گناہوں کو معاف کر سکتا ہے، وہیں فرعون کے دربار میں ایک مردِ مومن کی جرات مندانہ پکار کا تذکرہ بھی ہے۔ یہ پارہ ہمیں سکھاتا ہے کہ حق کا راستہ اختیار کرنے والوں کے لیے فرشتے بھی دعائیں کرتے ہیں۔
1. سورہ الزمر: اللہ کی رحمت سے مایوسی کی ممانعت
اس پارے کا آغاز اللہ کے اس عظیم وعدے سے ہوتا ہے جو گناہ گاروں کے لیے سب سے بڑی خوشخبری ہے۔ اللہ فرماتا ہے: "اے میرے وہ بندو جنہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا ہے (گناہ کیے ہیں)، اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو، یقیناً اللہ تمام گناہوں کو معاف کر دیتا ہے”۔ یہ نکتہ توبہ کے دروازے کو ہمیشہ کھلا رکھنے کا پیغام دیتا ہے اور انسان کو مایوسی کے اندھیروں سے نکال کر امید کی روشنی کی طرف لاتا ہے۔
2. گروہوں کی شکل میں حشر (جنت اور جہنم کی طرف روانگی)
سورہ الزمر کے آخر میں قیامت کا وہ منظر بیان ہوا ہے جس کی وجہ سے اس سورت کا نام "الزمر” (گروہ) رکھا گیا۔ کافروں کو گروہوں کی شکل میں جہنم کی طرف ہانکا جائے گا، جبکہ متقی لوگوں کو گروہوں کی صورت میں عزت و احترام کے ساتھ جنت کی طرف لے جایا جائے گا۔ جب وہ جنت کے دروازوں پر پہنچیں گے تو فرشتے "سلامٌ علیکم” کے ساتھ ان کا استقبال کریں گے۔ یہ منظر کشی انسان کو انجام کی فکر کرنے پر ابھارتی ہے۔
3. سورہ غافر: اللہ کی صفات اور توبہ کی قبولیت
سورہ غافر کا آغاز اللہ کی ان صفات سے ہوتا ہے جو ایک گناہ گار کے لیے تسلی کا باعث ہیں۔ اللہ "گناہوں کو بخشنے والا”، "توبہ قبول کرنے والا” اور "سخت سزا دینے والا” بھی ہے۔ اس سورت کا مرکزی پیغام یہ ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور اسی کی طرف سب کو لوٹ کر جانا ہے۔ یہ سورت ہمیں اللہ کی قدرت اور اس کی مغفرت پر کامل یقین دلاتی ہے۔
4. حاملینِ عرش فرشتوں کی مومنوں کے لیے دعائیں
اس پارے میں ایک بہت ہی ایمان افروز حقیقت بیان کی گئی ہے کہ وہ فرشتے جنہوں نے اللہ کے عرش کو اٹھا رکھا ہے اور جو عرش کے گرد موجود ہیں، وہ نہ صرف اللہ کی تسبیح کرتے ہیں بلکہ زمین پر موجود ایمان والوں کے لیے مغفرت کی دعائیں بھی کرتے ہیں۔ وہ اللہ سے عرض کرتے ہیں کہ "اے رب! جو لوگ توبہ کریں انہیں بخش دے اور انہیں دوزخ کے عذاب سے بچا”۔ یہ نکتہ ایک مومن کو احساس دلاتا ہے کہ وہ اس کائنات میں تنہا نہیں ہے۔
5. فرعون کے دربار میں "مردِ مومن” کی پکار
سورہ غافر میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے واقعے کا ایک خاص پہلو بیان ہوا ہے۔ فرعون کے اپنے خاندان کا ایک شخص جو چھپ کر ایمان لا چکا تھا، اس نے اس وقت جرات کا مظاہرہ کیا جب فرعون حضرت موسیٰؑ کو قتل کرنے کا منصوبہ بنا رہا تھا۔ اس مردِ مومن نے کہا: "کیا تم ایک شخص کو صرف اس لیے قتل کرتے ہو کہ وہ کہتا ہے میرا رب اللہ ہے؟” اس نے اپنی قوم کو دنیا کی بے ثباتی اور آخرت کی ہمیشگی کی طرف بلایا۔ یہ واقعہ حق گوئی اور جرات کی بہترین مثال ہے۔
6. دعا کی اہمیت: "مجھ سے مانگو، میں دوں گا”
اللہ تعالیٰ نے اس پارے میں دعا کی اہمیت کو واضح کرتے ہوئے فرمایا: "تم مجھے پکارو، میں تمہاری دعائیں قبول کروں گا”۔ اللہ نے یہ بھی واضح کر دیا کہ جو لوگ تکبر کی وجہ سے اس سے نہیں مانگتے، وہ ذلیل ہو کر جہنم میں داخل ہوں گے۔ یہ نکتہ ہمیں سکھاتا ہے کہ اللہ کے سامنے اپنی عاجزی کا اظہار کرنا اور اس سے مانگنا بندگی کی روح ہے۔
7. سورہ فُصِّلَت: قرآن ایک رہنمائی اور شفا
سورہ فُصِّلَت کا آغاز قرآن کی حقانیت سے ہوتا ہے۔ اللہ فرماتا ہے کہ یہ کتاب رحمن و رحیم کی طرف سے نازل کی گئی ہے جس کی آیات کو کھول کر بیان کیا گیا ہے۔ یہ قرآن ہدایت پانے والوں کے لیے "نور اور شفا” ہے، جبکہ وہ لوگ جو اس سے منہ موڑتے ہیں، ان کے کانوں میں بہرا پن ہے اور ان کی آنکھوں پر پردہ ہے۔ یہ سورت قرآن سے تعلق مضبوط کرنے کی دعوت دیتی ہے۔
8. انسانی اعضاء کی گواہی
قیامت کے دن کا ایک لرزہ خیز منظر اس پارے میں بیان ہوا ہے کہ جب اللہ کے دشمن جہنم کی طرف لائے جائیں گے، تو ان کے کان، ان کی آنکھیں اور ان کی کھالیں (جسم) ان کے خلاف گواہی دیں گے۔ جب وہ اپنے اعضاء سے پوچھیں گے کہ "تم نے ہمارے خلاف گواہی کیوں دی؟” تو وہ جواب دیں گے کہ "ہمیں اس اللہ نے گویائی (بولنے کی طاقت) دی جس نے ہر چیز کو بولنا سکھایا”۔ یہ نکتہ ہمیں گناہوں سے بچنے کی تاکید کرتا ہے کہ ہمارے اپنے اعضاء ہمارے خلاف گواہ ہیں۔
9. استقامت کا اجر اور فرشتوں کی بشارت
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جن لوگوں نے کہا کہ "ہمارا رب اللہ ہے” اور پھر وہ اس پر ڈٹ گئے (استقامت اختیار کی)، ان پر فرشتے نازل ہوتے ہیں اور کہتے ہیں کہ "تم ڈرو نہیں اور نہ غم کھاؤ، بلکہ اس جنت کی خوشخبری سنو جس کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے”۔ استقامت ہی وہ صفت ہے جو انسان کو اللہ کا مقرب بناتی ہے۔
10. برائی کا جواب بھلائی سے دینا
اس پارے میں ایک اعلیٰ اخلاقی سبق دیا گیا ہے کہ برائی کو اس طریقے سے دور کرو جو بہترین ہو۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ تمہارا دشمن تمہارا بہترین دوست بن جائے گا۔ یہ مقام صرف ان لوگوں کو ملتا ہے جو صبر کرنے والے ہیں اور بڑی خوش نصیبی والے ہیں۔ یہ نکتہ معاشرتی امن اور اخلاقی برتری کا سنہری اصول ہے۔
چوبیسویں پارے سے حاصل ہونے والے 5 عملی اسباق
مایوسی گناہ ہے: گناہ کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو، اللہ کی رحمت اس سے بڑی ہے۔ سچی توبہ کر کے نئے سفر کا آغاز کریں۔
دعا کو ہتھیار بنائیں: اپنی ہر چھوٹی بڑی ضرورت کے لیے اللہ کو پکاریں، وہ سننے اور قبول کرنے والا ہے۔
حق گوئی کی جرات: مشکل حالات میں بھی حق کا ساتھ دیں، جیسے فرعون کے دربار میں مردِ مومن نے دیا۔
اعضاء کا صحیح استعمال: یاد رکھیں کہ ہمارے ہاتھ، پاؤں اور آنکھیں کل قیامت میں گواہ ہوں گے، انہیں صرف نیکی کے کاموں میں لگائیں۔
اخلاقی برتری: دشمنی کا جواب دوستی اور برائی کا جواب بھلائی سے دے کر لوگوں کے دل جیتیں۔



