رمضان قرآن سیریز: تیئیسواں پارہ (وَمَا لِيَ)
رسالت کی حقانیت، تسلیم و رضا اور انبیاء کے صبر کی داستانیں
تیئیسواں پارہ ہمیں ایمان کے ان اعلیٰ درجات کی طرف لے جاتا ہے جہاں انسان اپنے رب کے حکم کے سامنے مکمل سرِ تسلیم خم کر دیتا ہے۔ اس پارے میں حضرت ابراہیمؑ کی عظیم قربانی، حضرت ایوبؑ کا صبر اور حضرت داؤدؑ و سلیمانؑ کی حکمت و سلطنت کا ذکر ہے۔ یہ پارہ سکھاتا ہے کہ آزمائش جتنی بھی بڑی ہو، اللہ کی رحمت اس سے بڑی ہے۔
1. سورہ یٰسین: قیامت اور کائناتی نشانیاں
پارے کا آغاز سورہ یٰسین کے آخری حصے سے ہوتا ہے، جس میں اللہ تعالیٰ نے مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونے پر عقلی دلیلیں دی ہیں۔ اللہ فرماتا ہے کہ کیا انسان نہیں دیکھتا کہ ہم نے اسے ایک نطفے سے پیدا کیا اور اب وہ صریح جھگڑالو بن گیا؟ وہ کہتا ہے کہ "ان بوسیدہ ہڈیوں کو کون زندہ کرے گا؟” اللہ فرماتا ہے: "وہی زندہ کرے گا جس نے انہیں پہلی بار پیدا کیا تھا”۔ پارے کے اس حصے میں "کُن فَيَکُون” کی قدرت کا بیان ہے کہ اللہ جب کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو بس "ہو جا” کہتا ہے اور وہ ہو جاتی ہے۔
2. سورہ الصافات: توحید اور فرشتوں کی صف بندی
سورہ الصافات کا آغاز صف بستہ فرشتوں کے تذکرے سے ہوتا ہے جو اللہ کے احکامات کی بجا آوری کے لیے ہمہ وقت تیار رہتے ہیں۔ اس سورت کا مرکزی پیغام توحیدِ باری تعالیٰ ہے اور ان مشرکین کی تردید ہے جو فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں قرار دیتے تھے۔ اللہ نے واضح فرمایا کہ کائنات کا ذرہ ذرہ اس کی وحدانیت کی گواہی دیتا ہے اور شیطانوں کو آسمانی خبریں چرانے سے روکنے کے لیے شہابِ ثاقب کا انتظام کیا گیا ہے۔
3. حضرت ابراہیمؑ اور ذبحِ عظیم کا واقعہ
اس پارے کا ایک انتہائی رقت آمیز اور ایمان افروز حصہ حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی قربانی کا تذکرہ ہے۔ حضرت ابراہیمؑ نے خواب دیکھا کہ وہ اپنے بیٹے کو ذبح کر رہے ہیں۔ جب بیٹے سے مشورہ کیا تو اس پیکرِ تسلیم و رضا نے جواب دیا: "ابا جان! آپ کو جو حکم دیا گیا ہے اسے کر گزریں، آپ مجھے ان شاء اللہ صبر کرنے والوں میں پائیں گے”۔ جب باپ نے بیٹے کو پیشانی کے بل لٹایا، تو اللہ نے پکارا کہ "اے ابراہیم! تو نے خواب سچ کر دکھایا”۔ اللہ نے جنت سے ایک مینڈھا بھیجا اور یہ سنت قیامت تک کے لیے قربانی کی شکل میں جاری کر دی۔
4. حضرت یونسؑ: مچھلی کے پیٹ سے نجات کا راز
سورہ الصافات میں حضرت یونس علیہ السلام کا قصہ بھی بیان ہوا ہے کہ جب وہ اپنی قوم سے ناراض ہو کر نکلے اور مچھلی نے انہیں نگل لیا۔ اندھیروں میں انہوں نے اللہ کو پکارا (لا الہ الا انت سبحانک انی کنت من الظالمین)۔ اللہ فرماتا ہے کہ اگر وہ اللہ کی تسبیح کرنے والوں میں سے نہ ہوتے، تو قیامت تک مچھلی کے پیٹ میں ہی رہتے۔ یہ واقعہ ہمیں سکھاتا ہے کہ مشکل ترین وقت میں بھی اللہ کا ذکر ہی نجات کا واحد ذریعہ ہے۔
5. سورہ ص: قرآن کی عظمت اور مخالفین کا تکبر
سورہ ص کا آغاز حروفِ مقطعات سے ہوتا ہے اور قرآن کی عظمت کو بیان کیا گیا ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ کافروں کو نبی کریم ﷺ پر اس لیے اعتراض تھا کہ آپ ﷺ ان سب کو ایک خدا کی طرف بلاتے ہیں۔ ان کا انکار حق کی وجہ سے نہیں بلکہ "تکبر” (عزۃ و شقاق) کی وجہ سے تھا۔ اللہ نے انہیں پچھلی قوموں کے انجام سے ڈرایا جنہوں نے اپنے دور کے انبیاء کی تکذیب کی تھی۔
6. حضرت داؤدؑ: خلافتِ ارضی اور پرندوں کی تسبیح
سورہ ص میں حضرت داؤد علیہ السلام کی عظمت کا ذکر ہے جنہیں اللہ نے قوت اور رجوع کرنے والا دل عطا کیا تھا۔ پہاڑ اور پرندے ان کے ساتھ تسبیح کرتے تھے۔ اللہ نے انہیں زمین پر اپنا خلیفہ بنایا اور ہدایت دی کہ لوگوں کے درمیان "حق” کے ساتھ فیصلہ کریں اور اپنی خواہشات کی پیروی نہ کریں۔ یہ نکتہ حکمرانوں کے لیے عدل و انصاف کا بہترین نصاب ہے۔
7. حضرت سلیمانؑ: سلطنت اور کمالِ عاجزی
حضرت داؤدؑ کے بیٹے حضرت سلیمانؑ کا ذکر کرتے ہوئے اللہ فرماتا ہے کہ وہ بہترین بندے تھے اور بہت زیادہ رجوع کرنے والے تھے۔ انہیں تیز رفتار گھوڑوں اور ہواؤں پر تصرف عطا کیا گیا تھا، لیکن اس قدر عظیم سلطنت کے باوجود وہ اللہ کی یاد سے کبھی غافل نہیں ہوئے۔ جب انہوں نے گھوڑوں کا معائنہ کیا اور نماز کا وقت آ گیا، تو اللہ کی محبت کو دنیا کی ہر چیز پر مقدم رکھا۔ یہ واقعہ طاقت اور بندگی کے خوبصورت امتزاج کو ظاہر کرتا ہے۔
8. حضرت ایوبؑ: 18 سالہ صبر اور اللہ کی رحمت
اس پارے میں صبر کی علامت حضرت ایوب علیہ السلام کا ذکر ہے۔ آپؑ کو شدید بیماری اور آزمائش نے گھیرا، لیکن آپؑ کی زبان پر کوئی شکایت نہ آئی۔ آپؑ نے بس اتنی دعا کی: "اے اللہ! مجھے تکلیف پہنچی ہے اور تو سب سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے”۔ اللہ نے آپؑ کی دعا قبول کی، زمین سے چشمہ نکالا جس میں غسل کرنے سے آپؑ کو شفا ملی اور آپؑ کا گھر بار اور خوشحالی دوبارہ لوٹا دی۔ یہ قصہ مصیبت زدہ لوگوں کے لیے امید کی کرن ہے۔
9. تخلیقِ آدمؑ اور ابلیس کا تکبر
پارے کے آخری حصے میں حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق کا واقعہ دوبارہ بیان ہوا ہے تاکہ انسان کو اس کے اصل دشمن "ابلیس” سے باخبر رکھا جائے۔ جب اللہ نے فرشتوں کو آدمؑ کے سامنے سجدے کا حکم دیا تو ابلیس نے اپنے آگ سے بنے ہونے پر فخر کیا اور مٹی سے بنے انسان کو سجدہ کرنے سے انکار کر دیا۔ اس تکبر کی وجہ سے وہ راندۂ درگاہ ہوا، جس سے یہ سبق ملتا ہے کہ علم کے باوجود "انا” اور "تکبر” انسان کو ہلاکت کے گڑھے میں گرا دیتا ہے۔
10. سورہ الزمر: اخلاصِ دین اور اللہ کی رحمت کا پکار
پارے کے بالکل آخر میں سورہ الزمر شروع ہوتی ہے جس کا موضوع "اخلاص” (Sincerity) ہے۔ اللہ فرماتا ہے کہ دین کو اللہ کے لیے خالص کر کے اس کی بندگی کرو۔ اسی سورت میں وہ مشہور آیت ہے جہاں اللہ گناہ گاروں کو پکارتا ہے: "اے میرے وہ بندو جنہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا ہے، اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو، اللہ تمام گناہوں کو معاف کر دیتا ہے”۔ یہ پیغام گناہ گاروں کے لیے توبہ کا دروازہ کھولتا ہے۔
YouTube Channel Chakwal Plus
تیئیسویں پارے سے حاصل ہونے والے 5 عملی اسباق
تسلیم و رضا: حضرت اسماعیلؑ کی طرح اللہ کے حکم کے سامنے اپنی مرضی کو قربان کر دینا ہی سچی بندگی ہے۔
صبر کا صلہ: حضرت ایوبؑ کی زندگی ہمیں سکھاتی ہے کہ بیماری اور پریشانی میں اللہ سے شکوہ کرنے کے بجائے اسی سے شفا اور مدد مانگنی چاہیے۔
ذکر کی طاقت: حضرت یونسؑ کے واقعے سے معلوم ہوا کہ اللہ کی تسبیح انسان کو ناممکن مصائب سے بھی نکال سکتی ہے۔
تکبر سے بچاؤ: ابلیس کے واقعے سے سبق لیں کہ کبھی اپنی قابلیت یا اصل پر غرور نہ کریں، کیونکہ عاجزی ہی اللہ کو پسند ہے۔
توبہ کی امید: اللہ کی رحمت بہت وسیع ہے، کتنے ہی گناہ کیوں نہ ہو جائیں، سچی توبہ سے سب معاف ہو سکتے ہی


