رمضان قرآن سیریز: بائیسویں پارہ (وَمَنْ يَّقْنُتْ)
نبویؐ عظمت، شکر گزاری اور خالقِ کائنات کی پہچان
بائیسواں پارہ امتِ مسلمہ کو اخلاقی بلندی اور کائناتی حقائق کی طرف متوجہ کرتا ہے۔ اس میں جہاں نبی کریم ﷺ کی شانِ اقدس اور آپ کے گھرانے کے آداب بیان ہوئے ہیں، وہیں حضرت داؤدؑ اور حضرت سلیمانؑ کے واقعات کے ذریعے شکر گزاری کی اہمیت واضح کی گئی ہے۔ سورہ فاطر اللہ کی صفتِ تخلیق کو اجاگر کرتی ہے اور سورہ یٰسین دلوں کو ایمان کی روشنی سے منور کرتی ہے۔
1. امہات المؤمنین کی عظمت اور خاص آداب
پارے کا آغاز سورہ الاحزاب کی ان آیات سے ہوتا ہے جہاں نبی کریم ﷺ کی ازواجِ مطہرات (امہات المؤمنین) کو مخاطب کیا گیا ہے۔ اللہ نے فرمایا کہ "اے نبی کی بیویو! تم عام عورتوں کی طرح نہیں ہو”۔ انہیں حکم دیا گیا کہ وہ بات کرتے ہوئے لہجے میں ایسی نرمی نہ لائیں جس سے کوئی بیمار دل والا شخص غلط امید باندھے، بلکہ صاف اور سیدھی بات کریں۔ نیز انہیں اپنے گھروں میں وقار کے ساتھ ٹھہرنے اور جاہلیت کی نمائش سے بچنے کی تلقین کی گئی۔ یہ آیات اسلامی معاشرت میں خواتین کے مقام اور ان کی پردہ داری کے اعلیٰ معیار قائم کرتی ہیں۔
2. نبی ﷺ کے گھرانے کی پاکیزگی (آیتِ تطہیر)
اسی پارے میں وہ مشہور آیت (آیتِ تطہیر) ہے جس میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: "اللہ تو یہی چاہتا ہے کہ اے (نبی کے) اہلِ بیت! تم سے ناپاکی کو دور رکھے اور تمہیں ایسا پاک کر دے جیسا پاک کرنے کا حق ہے”۔ یہ آیت اہلِ بیتِ اطہار کی فضیلت اور ان کی روحانی پاکیزگی پر مہرِ تصدیق ثبت کرتی ہے، جو ہر مسلمان کے لیے عقیدت و محبت کا مرکز ہے۔
3. ختمِ نبوت کا عظیم اعلان
سورہ الاحزاب میں عقیدۂ ختمِ نبوت کی بنیاد رکھتے ہوئے واضح طور پر فرما دیا گیا: "محمد (ﷺ) تمہارے مَردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں، بلکہ وہ اللہ کے رسول ہیں اور تمام نبیوں میں آخری (خاتم النبیین) ہیں”۔ یہ آیت دو ٹوک الفاظ میں اعلان کرتی ہے کہ نبوت کا سلسلہ آپ ﷺ پر مکمل ہو چکا ہے اور اب قیامت تک کوئی نیا نبی نہیں آئے گا۔ یہ نکتہ اسلام کے بنیادی عقائد میں سب سے اہم ہے۔
4. درود و سلام کا حکم اور تعظیمِ رسول ﷺ
اس پارے کی ایک انتہائی خوبصورت آیت میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ "بے شک اللہ اور اس کے فرشتے نبی (ﷺ) پر درود بھیجتے ہیں، اے ایمان والو! تم بھی ان پر درود و سلام بھیجو”۔ یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ نبی ﷺ کی ذاتِ مبارکہ پر درود بھیجنا محض ایک وظیفہ نہیں بلکہ اللہ کی سنت ہے اور مومنوں کے لیے آپ ﷺ سے اپنی محبت کے اظہار کا بہترین طریقہ ہے۔
5. حجاب اور جلباب کا حکم
معاشرتی اصلاح کے تسلسل میں اللہ نے نبی کریم ﷺ کو حکم دیا کہ وہ اپنی بیویوں، بیٹیوں اور مسلمان عورتوں سے فرما دیں کہ وہ (باہر نکلتے وقت) اپنی چادروں (جلباب) کا ایک حصہ اپنے اوپر لٹکا لیا کریں۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ ان کی پہچان ایک باحیا اور شریف خاتون کے طور پر ہو تاکہ انہیں چھیڑا نہ جائے۔ یہ آیت اسلامی حجاب کے عملی ضابطے کو واضح کرتی ہے۔
6. سورہ سبا: حضرت داؤدؑ اور سلیمانؑ پر انعامات
سورہ سبا میں اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤدؑ اور حضرت سلیمانؑ کا ذکر فرمایا جنہیں عظیم سلطنت اور معجزات دیے گئے تھے۔ حضرت داؤدؑ کے لیے لوہا نرم کر دیا گیا اور پہاڑ و پرندے ان کے ساتھ تسبیح کرتے تھے۔ حضرت سلیمانؑ کے لیے ہواؤں کو مسخر کیا گیا اور جنات ان کے تابع تھے۔ ان واقعات سے یہ سبق ملتا ہے کہ جب اللہ کسی کو طاقت اور اقتدار دے تو اسے حضرت داؤدؑ و سلیمانؑ کی طرح عاجزی اور شکر گزاری کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔
7. قومِ سبا کی ناشکری اور سیلابِ عرم
شکر گزاروں کے ذکر کے بعد ناشکری کرنے والی "قومِ سبا” کا تذکرہ ہے۔ یہ یمن کی ایک بہت خوشحال قوم تھی جن کے باغات اور زراعت مثالی تھی۔ لیکن جب انہوں نے اللہ کی نعمتوں کی ناشکری کی اور تکبر کیا، تو اللہ نے ان پر "سیلابِ عرم” بھیج دیا جس نے ان کے ہرے بھرے باغات کو جھاڑیوں اور کڑوے پھلوں میں بدل دیا۔ یہ واقعہ عبرت ہے کہ ناشکری نعمتوں کو زوال میں بدل دیتی ہے۔
8. سورہ فاطر: اللہ کی صفتِ تخلیق اور فرشتوں کا ذکر
سورہ فاطر اللہ کی بڑائی سے شروع ہوتی ہے، وہ اللہ جو آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے والا (فاطر) ہے۔ اس میں فرشتوں کی تخلیق کا ذکر ہے جن کے دو، تین اور چار پر (wings) ہیں۔ اللہ جس طرح چاہتا ہے اپنی تخلیق میں اضافہ کرتا ہے۔ اس سورت کا مرکزی پیغام یہ ہے کہ عزت، رزق اور قدرت صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے، اس لیے انسان کو صرف اسی کا محتاج ہونا چاہیے۔
9. شیطان کی دشمنی اور دنیا کا دھوکہ
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ دنیا کی زندگی تمہیں دھوکے میں نہ ڈال دے اور وہ بڑا دھوکہ باز (شیطان) تمہیں اللہ کے بارے میں فریب نہ دے۔ اللہ نے صاف لفظوں میں تنبیہ کی کہ "شیطان تمہارا دشمن ہے، اس لیے اسے اپنا دشمن ہی سمجھو”۔ وہ تمہیں اپنے گروہ میں شامل کر کے جہنم کی طرف لے جانا چاہتا ہے۔ یہ آیت ہمیں اپنے اصل دشمن سے باخبر رہنے کی تلقین کرتی ہے۔
10. سورہ یٰسین: قرآن کی حقانیت اور ایک بستی کا واقعہ
پارے کے آخر میں سورہ یٰسین شروع ہوتی ہے، جسے "قرآن کا دل” کہا گیا ہے۔ اس کا آغاز قرآن کی عظمت اور نبی ﷺ کی رسالت کی گواہی سے ہوتا ہے۔ اس میں ایک بستی کا قصہ بیان ہوا ہے جس کی طرف تین رسول بھیجے گئے، لیکن بستی والوں نے انہیں جھٹلایا۔ وہاں ایک مردِ مومن (حبیب نجار) دوڑتا ہوا آیا اور اپنی قوم کو ایمان کی دعوت دی، جسے قوم نے شہید کر دیا۔ اللہ نے اسے جنت کی خوشخبری دی اور قوم پر عذاب نازل کیا۔ یہ واقعہ حق کے لیے کھڑے ہونے والے مخلصین کی عظمت کو بیان کرتا ہے۔



