رمضان قرآن سیریز: اکیسواں پارہ (اُتْلُ مَا أُوْحِیَ)
حکمت، کائناتی حقائق اور خاندانی نظام
یہ پارہ اپنی نوعیت میں انتہائی متنوع ہے۔ اس میں ایک طرف تو حکیم لقمان کی وہ دانشمندانہ نصیحتیں ہیں جو رہتی دنیا تک کے لیے تربیتِ اولاد کا بہترین نصاب ہیں، تو دوسری طرف سورہ الروم میں عالمی سیاست اور مستقبل کی پیشگوئی کے ذریعے اللہ کی قدرت دکھائی گئی ہے۔ سورہ السجدہ دلوں میں خشیتِ الٰہی پیدا کرتی ہے اور سورہ الاحزاب اسلامی معاشرت اور خاندانی قوانین کی بنیاد رکھتی ہے۔
1. وحی سے تعلق اور نماز کی حقیقی روح
پارے کی پہلی آیت (سورہ العنکبوت: 45) میں اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ اور ان کے ذریعے پوری امت کو دو بڑے حکم دیے۔ پہلا یہ کہ وحی (قرآن) کی تلاوت کریں اور دوسرا یہ کہ نماز قائم کریں۔ یہاں اللہ نے واضح فرمایا کہ "بے شک نماز بے حیائی اور برائی سے روکتی ہے”۔ اس کا مفصل مطلب یہ ہے کہ اگر نماز صحیح طریقے سے، اللہ کی موجودگی کے احساس کے ساتھ پڑھی جائے، تو وہ انسان کے اندر ایک ایسا اخلاقی نظام پیدا کر دیتی ہے جو اسے گناہوں کی طرف مائل ہونے سے پہلے ہی روک لیتا ہے۔
2. اہلِ کتاب سے مکالمے کا اسلامی ضابطہ
اسلام صرف جنگ کا نہیں بلکہ مکالمے کا دین بھی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ جب تم یہودیوں اور عیسائیوں (اہلِ کتاب) سے دین کے بارے میں بات کرو، تو تمہارا انداز انتہائی نرم اور شائستہ ہونا چاہیے۔ بحث کا مقصد نیچا دکھانا نہیں بلکہ حق کی تلاش ہونا چاہیے۔ البتہ جو لوگ ظلم اور ہٹ دھرمی پر اتر آئیں، ان کے ساتھ سختی کی جا سکتی ہے۔ یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ دعوتِ دین میں اخلاق سب سے بڑا ہتھیار ہے۔
3. ہجرت اور رزق کے خوف کا خاتمہ
سورہ العنکبوت کے آخری حصے میں ان مسلمانوں کو تسلی دی گئی ہے جو ایمان بچانے کے لیے اپنا وطن چھوڑنے پر مجبور تھے۔ اللہ نے فرمایا کہ میری زمین بہت وسیع ہے، اگر ایک جگہ تم پر زمین تنگ کر دی جائے تو دوسری جگہ ہجرت کر جاؤ۔ رزق کے حوالے سے فرمایا کہ بہت سے جانور ایسے ہیں جو اپنا رزق اٹھا کر نہیں پھرتے لیکن اللہ انہیں پالتا ہے، تو کیا وہ تمہیں رزق نہیں دے گا؟ یہ نکتہ توکل اور معاشی تنگی کے خوف کو ختم کرنے کے لیے بیان ہوا ہے۔
4. عالمی پیشگوئی: رومیوں کی فتح کا اعلان
سورہ الروم کا آغاز ایک عظیم معجزے سے ہوتا ہے۔ اس وقت کی دو بڑی طاقتوں، روم اور فارس (ایران) کے درمیان جنگ ہوئی جس میں رومیوں کو شکست ہو گئی۔ مشرکینِ مکہ اس پر خوش تھے کیونکہ وہ مشرک ایرانیوں کے حامی تھے۔ اللہ نے قرآن میں اعلان کیا کہ رومی "بضع سنین” (تین سے نو سال) کے اندر دوبارہ غالب آ جائیں گے اور اس دن مومن اللہ کی مدد پر خوش ہوں گے۔ یہ پیشگوئی چند سال بعد بالکل سچی ثابت ہوئی، جس نے ثابت کر دیا کہ کائنات کا اقتدار صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے۔
5. فطرتِ انسانی اور اللہ کی نشانیاں
اللہ تعالیٰ نے اس پارے میں انسانی نفسیات اور کائنات کے نظام پر غور کرنے کی دعوت دی ہے۔ فرمایا کہ اللہ نے انسانوں کو ایک خاص "فطرت” پر پیدا کیا ہے (یعنی دینِ اسلام)۔ کائنات کی نشانیاں جیسے آسمان و زمین کی تخلیق، تمہاری زبانوں اور رنگوں کا مختلف ہونا، رات کو نیند کے ذریعے سکون اور بجلی کی کڑک میں خوف و امید کی کیفیت—یہ سب اس لیے ہیں تاکہ عقل والے اللہ کی وحدانیت کو پہچانیں۔
6. معاشی اصلاح: سود کا نقصان اور زکوٰۃ کا نفع
سورہ الروم میں اسلامی معیشت کا ایک بڑا اصول بیان ہوا ہے۔ اللہ فرماتا ہے کہ جو مال تم سود پر دیتے ہو تاکہ وہ دوسرے کے مال میں مل کر بڑھ جائے، وہ اللہ کے نزدیک ہرگز نہیں بڑھتا بلکہ وہ برکت سے خالی ہے۔ اس کے مقابلے میں جو زکوٰۃ تم اللہ کی رضا کے لیے دیتے ہو، وہ حقیقت میں تمہارے مال کو کئی گنا بڑھا دیتی ہے۔ یہ آیت واضح کرتی ہے کہ ظاہری اضافہ سود میں ہے لیکن روحانی اور حقیقی برکت زکوٰۃ میں ہے۔
7. سورہ لقمان: حکمتِ الٰہی کا ظہور
سورہ لقمان کا آغاز ان لوگوں کی تعریف سے ہوتا ہے جو نیکوکار (محسنین) ہیں۔ اللہ نے اس سورت میں حضرت لقمان کا تذکرہ فرمایا جنہیں اللہ نے بے پناہ حکمت اور دانائی عطا کی تھی۔ انہوں نے اپنے بیٹے کو جو نصیحتیں کیں، وہ صرف ایک باپ کا بیٹے کو پیغام نہیں بلکہ قیامت تک آنے والے والدین کے لیے تربیت کا ایک مکمل فریم ورک ہے۔
8. حضرت لقمان کی نصیحت: توحید اور حقوق اللہ
حضرت لقمان نے اپنی گفتگو کا آغاز سب سے اہم نکتہ یعنی "توحید” سے کیا۔ انہوں نے فرمایا: "اے میرے پیارے بیٹے! اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرانا، بے شک شرک بہت بڑا ظلم ہے”۔ اس کے بعد اللہ نے خود والدین کے حقوق بیان فرمائے کہ ان کا شکر ادا کرو، لیکن یہ حد بھی مقرر کر دی کہ اگر والدین تمہیں اللہ کی نافرمانی یا شرک پر مجبور کریں، تو ان کی بات نہ مانو، مگر دنیاوی معاملات میں ان کے ساتھ حسنِ سلوک جاری رکھو۔
9. تربیتِ اولاد: بندگی اور اخلاقیات کا امتزاج
حکیم لقمان نے اپنے بیٹے کو مزید سکھایا کہ اللہ کا علم اتنا وسیع ہے کہ اگر رائی کے دانے کے برابر بھی کوئی چیز کسی چٹان یا زمین کی گہرائی میں چھپی ہو، اللہ اسے نکال لائے گا۔ انہوں نے نماز قائم کرنے، نیکی کا حکم دینے، برائی سے روکنے اور مصیبت پر صبر کرنے کی تلقین کی۔ یہ وہ بنیادی ستون ہیں جن پر ایک مسلمان کی شخصیت کی تعمیر ہوتی ہے۔
10. باوقار شخصیت کے معاشرتی اصول
پندرہ نکات کی اس فہرست میں دسواں نکتہ حضرت لقمان کی اخلاقی تعلیمات کا ہے۔ انہوں نے فرمایا کہ لوگوں سے منہ پھیر کر بات نہ کرو (یعنی تکبر نہ کرو)، زمین پر اکڑ کر نہ چلو کیونکہ اللہ مغروروں کو پسند نہیں کرتا۔ اپنی چال میں میانہ روی رکھو اور اپنی آواز کو دھیما رکھو کیونکہ سب سے ناپسندیدہ آواز گدھے کی ہوتی ہے۔ یہ ہدایات بتاتی ہیں کہ اسلام میں "مینرز” اور اخلاق کی کتنی اہمیت ہے۔
11. غیب کا علم: پانچ کلیدی حقیقتیں
سورہ لقمان کے اختتام پر اللہ نے ان پانچ غیبی چیزوں کا ذکر کیا ہے جن کا علم کائنات میں کسی اور کے پاس نہیں: (1) قیامت کا وقت، (2) بارش کب اور کہاں برسے گی، (3) ماں کے پیٹ میں بچہ کیسا ہوگا (انجام کے لحاظ سے)، (4) انسان کل کیا کمائے گا، اور (5) وہ کس زمین پر مرے گا۔ یہ نکتہ انسان کو اپنی بے بسی کا احساس دلاتا ہے اور اللہ کی عظمت کا معترف بناتا ہے۔
12. سورہ السجدہ: خالقِ کائنات کی عظمت
سورہ السجدہ ہمیں تخلیقِ کائنات اور انسانی زندگی کے مقصد کی طرف لے جاتی ہے۔ اللہ فرماتا ہے کہ اس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں پیدا کیا اور پھر عرش پر مستوی ہوا۔ اس نے انسان کو مٹی سے بنایا اور پھر اس میں اپنی طرف سے روح پھونکی۔ یہ سورت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ہماری زندگی محض اتفاق نہیں بلکہ ایک عظیم خالق کا شاہکار ہے۔
13. سچے مومنوں کی راتیں اور اجرِ عظیم
اس پارے میں اللہ کے پیارے بندوں کی ایک خاص صفت بیان ہوئی ہے کہ جب دنیا سو رہی ہوتی ہے، تو ان کے "پہلو بستروں سے الگ رہتے ہیں”۔ یعنی وہ رات کے اندھیرے میں اٹھ کر اپنے رب کو پکارتے ہیں (تہجد)۔ اللہ فرماتا ہے کہ ان کے ان اعمال کے بدلے میں نے ان کے لیے ایسی آنکھوں کی ٹھنڈک (جنت کی نعمتیں) چھپا رکھی ہے جس کا کوئی تصور بھی نہیں کر سکتا۔
14. سورہ الاحزاب: دل کی وحدانیت اور منہ بولے بیٹوں کی حقیقت
پارے کے آخر میں سورہ الاحزاب شروع ہوتی ہے جس میں معاشرتی اصلاحات کا ذکر ہے۔ اللہ نے فرمایا کہ کسی انسان کے سینے میں دو دل نہیں ہوتے (یعنی انسان ایک وقت میں دو متضاد عقیدوں پر نہیں چل سکتا)۔ یہاں جاہلیت کی ایک رسم کو ختم کیا گیا کہ "منہ بولا بیٹا” حقیقی بیٹے کی طرح نہیں ہوتا۔ اللہ نے حکم دیا کہ انہیں ان کے اصل باپوں کے نام سے پکارو، یہی اللہ کے نزدیک انصاف ہے۔
15. نبی ﷺ کا مقام اور مسلمانوں کی ذمہ داری
پارے کا اختتام نبی کریم ﷺ کی عظمت کے بیان پر ہوتا ہے۔ اللہ فرماتا ہے کہ نبی ﷺ مومنوں کے لیے ان کی اپنی جانوں سے بھی زیادہ مقدم ہیں۔ آپ ﷺ کی ازواجِ مطہرات تمام مسلمانوں کی مائیں ہیں۔ یہ نکتہ ہمیں سکھاتا ہے کہ ایمان کی تکمیل کے لیے نبی ﷺ سے محبت اور ان کی حرمت کا تحفظ سب سے پہلی شرط ہے۔
اکیسویں پارے سے حاصل ہونے والے 5 عملی اسباق
نماز کی کوالٹی: اپنی نماز کو ایسا بنائیں کہ وہ آپ کو گناہوں اور فحاشی سے روکنے والی ڈھال بن جائے۔
تربیتِ اولاد: حضرت لقمان کی طرح اپنے بچوں کو نصیحت کریں؛ پہلے توحید، پھر نماز اور پھر اچھے اخلاق سکھائیں۔
عاجزی کا راستہ: تکبر اور بلند آواز میں بات کرنے سے گریز کریں، کیونکہ بہترین انسان وہ ہے جس کے لہجے میں مٹھاس اور چال میں وقار ہو۔
تہجد کی عادت: اللہ کے ان خاص بندوں میں شامل ہونے کی کوشش کریں جن کے پہلو راتوں کو بستروں سے دور رہتے ہیں۔
سود سے بیزاری: اپنے کاروبار اور لین دین کو سود کی لعنت سے پاک رکھیں تاکہ مال میں اللہ کی برکت شامل ہو۔


