بیسواں پارہ (اَمَّنْ خَلَقَ).. توحید کے دلائل، قصصِ انبیاء اور آزمائشِ ایمان کا فلسفہ

Spread the love

رمضان قرآن سیریز: بیسواں پارہ (اَمَّنْ خَلَقَ)

 توحید کے دلائل، قصصِ انبیاء اور آزمائشِ ایمان کا فلسفہ

بیسواں پارہ ہمیں کائنات کے ذرے ذرے میں اللہ کی وحدانیت دکھاتا ہے اور پھر تاریخِ انسانی کے ان اوراق کو کھولتا ہے جہاں مصلحتِ الٰہی نے ایک کمزور بچے (موسیٰؑ) کو وقت کے سب سے بڑے جابر (فرعون) کے گھر میں پالا۔ یہ پارہ ہمیں بتاتا ہے کہ طاقت اور دولت (فرعون و قارون) اللہ کے سامنے ہیچ ہیں، اور اصل قوت صرف ایمان کی ہے۔


1. سورہ النمل: "کون ہے جس نے تخلیق کیا؟” (عقلی دلائل)

پارے کا آغاز ان سوالات سے ہوتا ہے جو انسان کے ضمیر کو جھنجھوڑ دیتے ہیں۔ اللہ فرماتا ہے: "بھلا وہ کون ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور آسمان سے پانی برسایا؟” پھر فرمایا: "کون ہے جو بے قرار کی پکار سنتا ہے جب وہ اسے پکارتا ہے؟” ہر سوال کے بعد اللہ فرماتا ہے: "کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور معبود بھی ہے؟” یہ آیات انسان کو فطرت کے مشاہدے کے ذریعے توحید کی طرف لاتی ہیں اور یہ ثابت کرتی ہیں کہ کائنات کا انتظام صرف ایک اللہ کے ہاتھ میں ہے۔

2. قیامت کی نشانیاں اور "دابۃ الارض” کا خروج

اسی پارے میں قیامت کے قریب رونما ہونے والے ایک بڑے واقعے کا ذکر ہے کہ اللہ زمین سے ایک جانور (دابۃ الارض) نکالے گا جو لوگوں سے کلام کرے گا کہ لوگ ہماری آیات پر یقین نہیں رکھتے تھے۔ اس کے بعد صور پھونکے جانے کا تذکرہ ہے جس سے سب گھبرا جائیں گے۔ یہ منظر کشی انسان کو آخرت کی جوابدہی کے لیے تیار کرتی ہے کہ دنیا کا یہ میلہ ایک دن ختم ہونے والا ہے۔

3. سورہ القصص: مغلوب قوموں کے لیے اللہ کا وعدہ

سورہ القصص کا آغاز حضرت موسیٰؑ اور فرعون کے قصے سے ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ فرعون نے زمین میں سرکشی کی اور لوگوں کو گروہوں میں تقسیم کر کے ایک گروہ (بنی اسرائیل) کو کمزور کر دیا تھا۔ اللہ نے ارادہ کیا کہ وہ ان کمزوروں پر احسان کرے، انہیں پیشوا بنائے اور انہیں زمین کا وارث بنا دے۔ یہ سورت دنیا بھر کے مظلوموں کے لیے ایک نویدِ سحر ہے کہ جب اللہ چاہے تو کمزوروں کو اقتدار بخش دیتا ہے۔

4. حضرت موسیٰؑ کی ولادت اور دریا کا سفر (ایمان افروز واقعہ)

اس پارے کا سب سے جذباتی حصہ وہ ہے جب فرعون کے ڈر سے حضرت موسیٰؑ کی والدہ نے انہیں اللہ کے حکم پر ایک صندوق میں ڈال کر دریا کے سپرد کر دیا۔ اللہ نے ماں کے دل کو ڈھارس بندھائی کہ "ہم اسے تمہاری طرف واپس لائیں گے”۔ وہ صندوق تیرتا ہوا فرعون کے محل پہنچ گیا۔ فرعون کی بیوی (حضرت آسیہؓ) نے اسے دیکھ کر کہا کہ "یہ میری اور تمہاری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے”۔ یوں اللہ نے وقت کے جابر کے گھر میں اس کے دشمن کی پرورش کا انتظام کر دیا۔

5. جوانی کے واقعات اور مدین کی طرف ہجرت

حضرت موسیٰؑ جب جوان ہوئے تو ان سے نادانستہ طور پر ایک قبطی (مصری) قتل ہو گیا۔ آپؑ نے فوراً توبہ کی اور اللہ سے معافی مانگی۔ جب آپؑ کو پتا چلا کہ فرعون کے لوگ آپؑ کے قتل کا مشورہ کر رہے ہیں، تو آپؑ مصر سے نکل کر "مدین” کی طرف روانہ ہو گئے۔ یہاں آپؑ کی ملاقات حضرت شعیبؑ سے ہوئی، جن کی بیٹیوں کی آپؑ نے کنویں پر پانی پلانے میں مدد کی تھی۔ یہ واقعہ حضرت موسیٰؑ کی حیا، طاقت اور امانت داری کو ظاہر کرتا ہے۔

6. مدین میں قیام اور نکاح

حضرت شعیبؑ نے حضرت موسیٰؑ کی سیرت سے متاثر ہو کر اپنی ایک بیٹی کا نکاح آپؑ سے کر دیا، جس کے عوض آپؑ نے آٹھ یا دس سال وہاں بکریاں چرائیں۔ یہ حصہ ہمیں سکھاتا ہے کہ محنت اور مزدوری کرنا انبیاء کی سنت ہے اور رشتہ طے کرتے وقت لڑکے کی امانت داری اور کردار کو ترجیح دینی چاہیے۔

7. کوہِ طور پر وحی اور فرعون کو دعوت

مدین کی مدت پوری کر کے جب موسیٰؑ واپس جا رہے تھے، تو وادیِ طویٰ میں آپؑ نے آگ دیکھی۔ وہاں اللہ نے آپؑ کو پکارا اور نبوت سے سرفراز کیا۔ آپؑ کو دو بڑے معجزات (عصا اور یدِ بیضا) دیے گئے۔ اللہ نے حکم دیا کہ فرعون کے پاس جاؤ کیونکہ وہ سرکش ہو گیا ہے۔ موسیٰؑ نے اپنے بھائی ہارونؑ کی مدد مانگی، جسے اللہ نے قبول کیا۔ فرعون کے دربار میں جا کر جب موسیٰؑ نے حق کی بات کی، تو اس نے تکبر کیا اور اسے جادو قرار دیا۔

8. قارون کا قصہ: دولت کا فتنہ اور عبرتناک انجام

اس پارے میں قارون کا مفصل ذکر ہے جو حضرت موسیٰؑ کی قوم سے تھا لیکن فرعون کا حامی بن گیا تھا۔ اللہ نے اسے اتنے خزانے دیے تھے کہ ان کی چابیاں اٹھانا ایک طاقتور جماعت کے لیے بھی مشکل تھا۔ وہ اپنی دولت پر اتراتا تھا اور کہتا تھا کہ یہ مجھے میرے علم کی وجہ سے ملی ہے۔ جب اس نے حد پار کی تو اللہ نے اسے اس کے محلات اور خزانوں سمیت "زمین میں دھنسا دیا”۔ یہ واقعہ سبق دیتا ہے کہ مال و دولت اگر انسان کو مغرور کر دے تو وہ اللہ کے عذاب سے نہیں بچا سکتا۔

9. سورہ العنکبوت: آزمائشِ ایمان کا قانون

پارے کے آخری حصے میں سورہ العنکبوت شروع ہوتی ہے۔ اس کی پہلی ہی آیات میں ایک عظیم فلسفہ بیان ہوا ہے: "کیا لوگوں نے یہ گمان کر رکھا ہے کہ وہ صرف یہ کہنے پر چھوڑ دیے جائیں گے کہ ‘ہم ایمان لائے’ اور انہیں آزمایا نہیں جائے گا؟” اللہ واضح فرماتا ہے کہ ایمان کا دعویٰ کرنے والوں کو آزمایا جائے گا تاکہ سچے اور جھوٹے میں فرق ہو سکے۔ یہ آزمائش کبھی جان، کبھی مال اور کبھی حالات کے ذریعے آتی ہے۔

10. مکڑی کا جالا: باطل کے سہارے کی حقیقت

اس سورت کا نام "العنکبوت” (مکڑی) اس لیے رکھا گیا کیونکہ اللہ نے مشرکین کے معبودوں کی مثال مکڑی کے جالے سے دی ہے۔ اللہ فرماتا ہے کہ جنہوں نے اللہ کے سوا دوسروں کو سہارا بنایا، ان کی مثال مکڑی جیسی ہے جس نے ایک گھر بنایا، اور تمام گھروں میں سب سے کمزور گھر مکڑی کا جالا ہوتا ہے۔ یعنی باطل قوتیں بظاہر جتنا بھی زور لگا لیں، اللہ کے سامنے ان کی حیثیت ایک نازک جالے سے زیادہ نہیں ہے۔


 بیسویں پارے سے حاصل ہونے والے 5 عملی اسباق

  1. توکل علی اللہ: حضرت موسیٰؑ کی والدہ کے واقعے سے سیکھیں کہ جب انسان اللہ پر بھروسہ کر کے اپنا معاملہ اس کے سپرد کر دیتا ہے، تو اللہ ناممکن حالات میں بھی راستہ نکال دیتا ہے۔

  2. توبہ میں جلدی: حضرت موسیٰؑ سے جب غلطی ہوئی تو انہوں نے فوراً معافی مانگی۔ ہمیں بھی چاہیے کہ گناہ ہوتے ہی اللہ کی طرف رجوع کریں۔

  3. دولت پر غرور سے بچیں: قارون کے انجام کو یاد رکھیں؛ دولت اللہ کا فضل ہے، اسے اپنی قابلیت نہ سمجھیں اور اس میں غریبوں کا حق ادا کریں۔

  4. آزمائش پر صبر: جب ایمان کی وجہ سے مشکلات آئیں، تو سمجھ لیں کہ یہ اللہ کی طرف سے امتحانی پرچہ ہے جس میں صبر و استقامت کے ذریعے ہی کامیابی ممکن ہے۔

  5. کردار کی بلندی: مدین کے واقعے سے سبق لیں کہ ایک نوجوان کے لیے حیا اور دیانتداری ہی اس کی اصل پہچان اور کامیابی کا ذریعہ ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے