انیسواں پارہ (وَقَالَ الَّذِيْنَ)..رحمن کے بندوں کی پہچان اور انبیاء کی دعوت کا تسلسل

Spread the love

رمضان قرآن سیریز: انیسواں پارہ (وَقَالَ الَّذِيْنَ)

رحمن کے بندوں کی پہچان اور انبیاء کی دعوت کا تسلسل

انیسواں پارہ ہمیں ایک طرف تو اللہ کے پسندیدہ بندوں کی زندگیوں کا نقشہ دکھاتا ہے اور دوسری طرف انسانی تاریخ کے ان بڑے معرکوں کی تفصیل بتاتا ہے جو حق اور باطل کے درمیان پیش آئے۔ اس پارے کا مرکزی مقصد یہ ہے کہ انسان کو بتایا جائے کہ کفر اور ہٹ دھرمی کا انجام ہمیشہ تباہی ہے، جبکہ اللہ کی بندگی اور عاجزی ہی کامیابی کا واحد راستہ ہے۔


1. عباد الرحمن: اللہ کے محبوب بندوں کی 12 صفات

پارے کا آغاز سورہ الفرقان کے اس حصے سے ہوتا ہے جہاں اللہ تعالیٰ نے اپنے خاص بندوں (عباد الرحمن) کا تذکرہ فرمایا ہے۔ ان کی صفات یہ ہیں: وہ زمین پر عاجزی سے چلتے ہیں، جاہلوں کے منہ نہیں لگتے، راتیں سجدوں میں گزارتے ہیں، جہنم کے عذاب سے ڈرتے ہیں، خرچ میں اعتدال رکھتے ہیں (نہ بخل نہ فضول خرچی)، شرک نہیں کرتے، ناحق قتل نہیں کرتے، زنا نہیں کرتے، توبہ میں جلدی کرتے ہیں، جھوٹی گواہی نہیں دیتے، لغو کاموں سے وقار کے ساتھ گزر جاتے ہیں اور اللہ کی آیات سن کر اندھے بہرے نہیں بنتے۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہیں جنت کے بالا خانے ملیں گے۔

2. سورہ الشعراء: حق کی آواز اور معجزاتِ موسیٰؑ

سورہ الشعراء کا بڑا حصہ حضرت موسیٰ علیہ السلام اور فرعون کے مفصل واقعے پر مشتمل ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ جب حضرت موسیٰؑ کو نبوت ملی تو آپؑ نے اللہ سے اپنے بھائی ہارونؑ کی مدد مانگی۔ فرعون کے دربار میں پہنچ کر آپؑ نے اسے اللہ کی طرف بلایا، لیکن اس نے اپنی طاقت کا رعب دکھایا۔ یہاں جادوگروں کے ساتھ مقابلے کی پوری تفصیل ہے کہ کس طرح موسیٰؑ کا عصا اژدہا بنا اور جادوگروں کے سحر کو نگل گیا۔ یہ واقعہ ثابت کرتا ہے کہ سچا معجزہ جادو پر ہمیشہ غالب رہتا ہے۔

3. بحیرہ قلزم کا پھٹنا اور فرعون کا غرق ہونا

اس پارے میں وہ لمحہ بڑی تفصیل سے بیان ہوا ہے جب بنی اسرائیل سمندر کے کنارے پہنچ گئے اور پیچھے سے فرعون کا لشکر آ گیا۔ جب قوم گھبرا گئی تو موسیٰؑ نے فرمایا: "کلا! ان معی ربی سیہدین” (ہرگز نہیں! میرا رب میرے ساتھ ہے، وہ ضرور رہنمائی کرے گا)۔ اللہ کے حکم سے سمندر میں بارہ راستے بن گئے، بنی اسرائیل پار ہو گئے اور فرعون اپنے لشکر سمیت غرق ہو گیا۔ یہ واقعہ مظلوموں کے لیے اللہ کی غیبی مدد کی عظیم مثال ہے۔

4. حضرت ابراہیمؑ: بت شکنی اور توحید کی لاجواب دلیل

سورہ الشعراء میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کا اپنی قوم سے مکالمہ مذکور ہے۔ آپؑ نے ان سے پوچھا کہ "تم جن کی پوجا کرتے ہو، کیا وہ تمہاری بات سنتے ہیں؟” جب قوم نے کہا کہ ہم تو اپنے باپ دادا کی پیروی کر رہے ہیں، تو ابراہیمؑ نے اللہ کی صفات بیان کیں: "وہ جس نے مجھے پیدا کیا، جو مجھے کھلاتا ہے، جو مجھے شفا دیتا ہے اور جو مجھے دوبارہ زندہ کرے گا”۔ آپؑ کی یہ دعا کہ "اے میرے رب! مجھے قیامت کے دن رسوا نہ کرنا” ہر مومن کے لیے دلی تڑپ کا پیغام ہے۔

5. حضرت نوحؑ اور پست طبقے کے لوگوں کا ساتھ

حضرت نوح علیہ السلام کی دعوت کا تذکرہ کرتے ہوئے بتایا گیا کہ ان کی قوم کے سرداروں نے اعتراض کیا کہ "ہم آپ پر ایمان کیسے لائیں جبکہ آپ کے ساتھ تو معاشرے کے پست اور غریب لوگ ہیں؟” حضرت نوحؑ نے واضح فرمایا کہ مجھے ان کے کاموں سے غرض نہیں، میرا اجر اللہ کے پاس ہے اور میں کسی ایمان والے کو اپنے سے دور نہیں کروں گا۔ یہ نکتہ بتاتا ہے کہ دین میں معیار "تقویٰ” ہے نہ کہ "سماجی حیثیت”۔

6. قومِ عاد اور مادی ترقی کا زوال

حضرت ہود علیہ السلام نے اپنی قوم "عاد” کو نصیحت کی کہ تم اونچے مقام پر فضول یادگاریں بناتے ہو اور ایسے مضبوط قلعے تعمیر کرتے ہو جیسے تمہیں ہمیشہ یہاں رہنا ہے۔ انہوں نے اپنی جسمانی طاقت پر فخر کیا لیکن اللہ نے انہیں ایک تیز آندھی کے ذریعے تباہ کر دیا۔ یہ سبق دیتا ہے کہ مادی تعمیرات اللہ کے عذاب کو نہیں روک سکتیں۔

7. قومِ ثمود اور معجزاتی اونٹنی کا انجام

حضرت صالح علیہ السلام کی قوم "ثمود” پہاڑوں کو تراش کر گھر بنانے میں ماہر تھی۔ انہوں نے معجزے کے طور پر ایک اونٹنی مانگی، لیکن اس کی بے حرمتی کی اور اسے ذبح کر دیا۔ اس کے نتیجے میں ایک چنگھاڑ نے انہیں ختم کر دیا۔ یہ واقعہ ہمیں اللہ کی نشانیوں کا احترام کرنے کی تلقین کرتا ہے۔

8. حضرت لوطؑ اور اخلاقی بے راہ روی کا انجام

اس پارے میں حضرت لوط علیہ السلام کی قوم کی بدکاریوں کا تذکرہ ہے کہ وہ عورتوں کو چھوڑ کر مردوں کی طرف مائل ہوتے تھے۔ حضرت لوطؑ نے انہیں بہت سمجھایا لیکن وہ اپنی ضد پر قائم رہے۔ آخر کار ان کی بستی کو الٹ دیا گیا اور ان پر پتھروں کی بارش ہوئی۔ یہ واقعہ جنسی پاکیزگی اور فطری حدود کی اہمیت کو واضح کرتا ہے۔

9. قومِ مدین: ناپ تول اور معاشی انصاف

حضرت شعیب علیہ السلام نے اپنی قوم کو ناپ تول میں کمی سے روکا اور فرمایا کہ لوگوں کو ان کی چیزیں کم کر کے نہ دو اور زمین پر فساد نہ پھیلاؤ۔ جب انہوں نے نافرمانی کی تو ایک بادل (سائبان) کے عذاب نے انہیں جلا کر رکھ دیا۔ یہ نکتہ معاشی دیانتداری کو ایمان کا حصہ قرار دیتا ہے۔

10. سورہ النمل: اللہ کا کلام اور موسیٰؑ کی پکار

پارے کے آخر میں سورہ النمل شروع ہوتی ہے۔ اس کا آغاز قرآن کی حقانیت سے ہوتا ہے اور پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام کا وہ واقعہ بیان ہوا ہے جب انہوں نے وادیِ مقدس میں آگ دیکھی۔ وہاں اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنی پکار سے نوازا اور معجزات (یدِ بیضا اور عصا) عطا کیے۔ یہ سورت بتاتی ہے کہ اللہ کس طرح اپنے بندوں کو ہدایت کے لیے منتخب کرتا ہے اور انہیں بڑی ذمہ داریاں سونپتا ہے۔


💡 انیسویں پارے سے حاصل ہونے والے 5 عملی اسباق

  1. عاجزی اختیار کریں: عباد الرحمن بننے کے لیے اپنے اندر عاجزی پیدا کریں اور تکبر سے بچیں، خاص طور پر جاہلوں سے الجھنے کے بجائے "سلام” کہہ کر آگے بڑھ جائیں۔

  2. اللہ پر توکل: جب بھی حالات مشکل ہوں، حضرت موسیٰؑ کا یہ جملہ یاد رکھیں کہ "میرا رب میرے ساتھ ہے”۔ اللہ پر کامل بھروسہ ہی کامیابی کی کنجی ہے۔

  3. دین میں برابری: لوگوں کو ان کی غربت یا ظاہری حالت کی وجہ سے حقیر نہ سمجھیں؛ اللہ کے نزدیک وہی معزز ہے جو زیادہ متقی ہے۔

  4. تجارتی دیانتداری: حضرت شعیبؑ کی قوم کے انجام سے ڈریں اور اپنے لین دین میں ہمیشہ سچائی اور پورا ناپ تول اختیار کریں۔

  5. معجزاتِ الٰہی پر غور: کائنات کے واقعات اور انبیاء کے قصے اس لیے ہیں کہ ہم اپنی اصلاح کریں اور اللہ کی قدرت کا اعتراف کریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے