رمضان قرآن سیریز: اٹھارہواں پارہ (قَدْ اَفْلَحَ)
کامیابی کا معیار، عفت و حیا اور معاشرتی آداب
اٹھارہواں پارہ انسانی زندگی کے ان پہلوؤں کو اجاگر کرتا ہے جو اسے "مومنِ کامل” بناتے ہیں۔ پارے کا آغاز فلاح پانے والے مومنوں کی صفات سے ہوتا ہے، جس کے بعد سورہ النور میں خاندانی نظام کی حفاظت، پردے کے احکامات اور بدگوئی سے بچنے کی سخت ہدایات دی گئی ہیں۔ آخر میں سورہ الفرقان کے ذریعے حق اور باطل کے درمیان فرق کرنے والے اصول بیان کیے گئے ہیں۔
1. کامیاب مومنوں کی 7 صفات
پارے کا آغاز اس خوشخبری سے ہوتا ہے کہ "یقیناً مومن کامیاب ہو گئے”۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی سات نمایاں صفات بیان فرمائیں: جو اپنی نمازوں میں خشوع اختیار کرتے ہیں، فضول کاموں اور باتوں سے دور رہتے ہیں، زکوٰۃ ادا کرتے ہیں، اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں، امانتوں اور عہد کا پاس رکھتے ہیں اور اپنی نمازوں کی پابندی کرتے ہیں۔ یہ صفات بتاتی ہیں کہ کامیابی صرف دعوے میں نہیں بلکہ کردار میں چھپی ہے۔
2. انسانی ارتقاء اور کائناتی نعمتیں
سورہ المؤمنون میں اللہ تعالیٰ نے انسانی تخلیق کے سات مراحل (مٹی سے لے کر ایک مکمل جیتی جاگتی مخلوق بننے تک) کا ذکر کر کے اپنی قدرت کا احساس دلایا ہے۔ اس کے بعد آسمان سے بارش کے برسنے، پھلدار باغات کے اگنے اور جانوروں میں انسانوں کے لیے نفع رکھے جانے کا تذکرہ ہے، تاکہ انسان اپنے رب کی ربوبیت کو پہچانے اور شکر گزار بنے۔
3. انبیاء کی دعوت اور منکرین کا انجام
اس پارے میں حضرت نوحؑ، حضرت موسیٰؑ، حضرت ہارونؑ اور حضرت عیسیٰؑ کا مختصر ذکر کر کے یہ واضح کیا گیا کہ تمام انبیاء کا دین ایک ہی تھا، مگر ان کی قوموں نے ضد اور تکبر کی بنا پر انہیں جھٹلایا۔ اللہ نے ظالموں کو ہلاک کر دیا اور مخلص بندوں کو نجات عطا فرمائی۔ یہ تذکرہ ہمیں بتاتا ہے کہ حق کا راستہ ہمیشہ آزمائشوں سے بھرا ہوتا ہے لیکن انجام حق پرستوں کا ہی ہوتا ہے۔
4. سورہ النور: عفت و حیا کا تحفظ
سورہ النور ایک ایسی سورت ہے جسے "اخلاقیات کا مینار” کہا جا سکتا ہے۔ اس میں زنا کی سزا (سو کوڑے) بیان کی گئی اور بدکاری کو معاشرے کے لیے ایک مہلک زہر قرار دیا گیا۔ اسلام نے نہ صرف گناہ کی سزا دی بلکہ ان تمام راستوں کو بھی بند کر دیا جو گناہ کی طرف لے جاتے ہیں، تاکہ معاشرہ پاکیزہ رہے۔
5. واقعۂ اِفک اور سیدہ عائشہؓ کی براءت
اس پارے کا ایک انتہائی جذباتی اور اہم حصہ "واقعۂ اِفک” ہے، جب منافقین نے ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا پر تہمت لگائی۔ اللہ تعالیٰ نے سورہ النور کی دس سے زائد آیات نازل فرما کر آپؓ کی پاکدامنی کی گواہی دی اور افواہیں پھیلانے والوں کی سخت مذمت کی۔ یہ واقعہ ہمیں سکھاتا ہے کہ کسی کی عزت پر کیچڑ اچھالنا کتنا بڑا گناہ ہے اور بغیر تحقیق کے کسی بات کو آگے پھیلانا اللہ کے نزدیک سخت ناپسندیدہ ہے۔
6. گھروں میں داخلے کے آداب (استئذان)
معاشرتی پردے کو برقرار رکھنے کے لیے اللہ نے حکم دیا کہ دوسروں کے گھروں میں اجازت لیے بغیر داخل نہ ہو، پہلے سلام کرو اور پھر داخلے کی اجازت مانگو۔ اگر گھر میں کوئی نہ ہو یا تمہیں واپس جانے کو کہا جائے تو برا مانے بغیر واپس لوٹ جاؤ۔ یہ آداب آج کے دور میں نجی زندگی (Privacy) کے احترام کا بہترین نمونہ ہیں۔
7. نظروں کی حفاظت اور حجاب کے احکامات
اللہ تعالیٰ نے مومن مردوں اور عورتوں کو حکم دیا کہ وہ اپنی "نظریں نیچی رکھیں” اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں۔ عورتوں کو خاص طور پر حکم دیا گیا کہ وہ اپنی زینت (آرائش) کو ظاہر نہ کریں سوائے اپنے محرم رشتہ داروں کے، اور اپنی اوڑھنیوں کو اپنے سینوں پر ڈال کر رکھیں۔ یہ احکامات حیا کی اس چادر کو مضبوط کرتے ہیں جو معاشرے کو بگاڑ سے بچاتی ہے۔
8. آیتِ نور: اللہ زمین و آسمان کا نور ہے
اس پارے میں قرآن کی ایک عظیم الشان آیت ہے جسے "آیتِ نور” کہا جاتا ہے۔ اللہ نے اپنی ذات کو زمین و آسمان کے نور سے تشبیہ دی ہے اور ایک ایسی مثال بیان فرمائی ہے (چراغ، فانوس اور زیتون کے مبارک تیل کی) جو روح کو منور کر دیتی ہے۔ یہ آیت ہمیں بتاتی ہے کہ ہدایت کا اصل سرچشمہ صرف اللہ کی ذات ہے اور وہی جسے چاہتا ہے اپنے نور کی طرف رہنمائی فرماتا ہے۔
9. نکاح کی ترغیب اور پاکدامنی
اللہ تعالیٰ نے معاشرے میں نکاح کو عام کرنے کا حکم دیا اور فرمایا کہ اگر کوئی غریب ہے تو اللہ اپنے فضل سے اسے غنی کر دے گا۔ جو لوگ نکاح کی استطاعت نہیں رکھتے، انہیں حکم دیا گیا کہ وہ پاکدامنی اختیار کریں یہاں تک کہ اللہ ان کے لیے اسباب پیدا کر دے۔ یہ نکتہ فحاشی کے خاتمے اور خاندانی استحکام کے لیے کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔
10. سورہ الفرقان: حق و باطل کا معیار
پارے کے آخر میں سورہ الفرقان شروع ہوتی ہے، جس کا نام ہی "حق و باطل میں فرق کرنے والی کتاب” (قرآن) پر رکھا گیا ہے۔ اس میں کفار کے ان اعتراضات کا جواب دیا گیا ہے جو وہ نبی کریم ﷺ اور قرآن پر کرتے تھے۔ اللہ نے واضح فرمایا کہ کائنات کی بادشاہت صرف اس کے لیے ہے اور اس نے ہر چیز کو ایک خاص اندازے پر پیدا کیا ہے۔
💡 اٹھارہویں پارے سے حاصل ہونے والے 5 عملی اسباق
نماز میں خشوع: اپنی نمازوں کو محض ایک حرکت بنانے کے بجائے ان میں توجہ اور عاجزی پیدا کریں، یہی کامیابی کی پہلی سیڑھی ہے۔
تحقیقِ خبر: سوشل میڈیا یا عام زندگی میں جب بھی کوئی منفی بات سنیں، تو بغیر تصدیق کے اسے آگے نہ پھیلائیں (سبقِ واقعۂ اِفک)۔
حیا کا کلچر: مرد ہوں یا خواتین، نظروں کی حفاظت کو اپنی عادت بنائیں کیونکہ نظر کا بھٹکنا ہی گناہ کی بنیاد بنتا ہے۔
گھریلو آداب: دوسروں کے گھروں یا کمروں میں داخل ہوتے وقت دستک دینے اور اجازت لینے کی سنت کو زندہ کریں۔
نکاح میں آسانی: معاشرے میں نکاح کو سادہ اور آسان بنائیں تاکہ برائی کے راستے بند ہوں اور اللہ کی برکتیں شاملِ حال رہیں۔


