سترہواں پارہ (اقْتَرَبَ لِلنَّاسِ).. غفلت سے بیداری، انبیاء کی دعائیں اور حج کے اسرار

Spread the love

رمضان قرآن سیریز: سترہواں پارہ (اقْتَرَبَ لِلنَّاسِ)

 غفلت سے بیداری، انبیاء کی دعائیں اور حج کے اسرار

سترہواں پارہ انسانیت کے لیے ایک "الارم کلاک” کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس کا آغاز ہی غفلت کی نیند سونے والوں کو جھنجھوڑنے سے ہوتا ہے۔ یہ پارہ جہاں ہمیں بتاتا ہے کہ حساب کا وقت سر پر آ چکا ہے، وہیں یہ انبیاء علیہم السلام کی زندگیوں کے ان نازک موڑ کا تذکرہ کرتا ہے جہاں انہوں نے اللہ کو پکارا اور ناممکن ممکن ہو گیا۔ دوسرے حصے میں سورہ الحج کے ذریعے ہمیں کائنات کی سب سے بڑی عبادت "حج” اور "قربانی” کی اصل روح سے روشناس کرایا گیا ہے۔


1. حساب کا قرب اور انسانی غفلت

پارے کا آغاز ایک لرزہ خیز آیت سے ہوتا ہے: "لوگوں کے حساب کا وقت قریب آگیا ہے اور وہ غفلت میں منہ موڑے ہوئے ہیں”۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب بھی ان کے پاس کوئی نئی نصیحت آتی ہے، وہ اسے کھیل تماشے کے طور پر سنتے ہیں۔ یہ نکتہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ موت اور قیامت کا وقت متعین ہے، اور ہر گزرتا لمحہ ہمیں اس کے قریب کر رہا ہے۔ عقلمند وہ ہے جو اس دنیا کی عارضی زندگی کے بجائے آخرت کی دائمی پیشی کی تیاری کرے۔

2. کائنات کا توازن: توحید کی عقلی دلیل

سورہ الانبیاء میں توحید کی ایک بہت بڑی عقلی دلیل دی گئی ہے: "اگر زمین و آسمان میں اللہ کے سوا اور بھی خدا ہوتے تو یہ کائنات درہم برہم ہو جاتی”۔ یعنی نظامِ کائنات کا ایک ترتیب سے چلنا اس بات کا ثبوت ہے کہ اسے چلانے والی ذات ایک ہی ہے۔ ساتھ ہی یہ بتایا گیا کہ کائنات کی ہر زندہ چیز کو اللہ نے "پانی” سے پیدا کیا ہے۔ یہ وہ سائنسی حقیقت ہے جسے آج کی دنیا تسلیم کر رہی ہے، لیکن قرآن نے اسے چودہ سو سال پہلے بیان کر دیا تھا۔

3. حضرت ابراہیمؑ کی حق گوئی اور معجزۂ نار

اس پارے میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی جوانی کا وہ مشہور واقعہ ہے جب انہوں نے اپنی قوم کے بتوں کو توڑ کر ثابت کیا کہ یہ مٹی اور پتھر کے خدا کسی نفع و نقصان کے مالک نہیں۔ قوم نے غصے میں آ کر انہیں دہکتی ہوئی آگ میں ڈال دیا، لیکن اللہ کے حکم سے آگ ان کے لیے "سلامتی اور ٹھنڈک” بن گئی۔ یہ واقعہ سکھاتا ہے کہ اگر ایمان مضبوط ہو اور اللہ پر بھروسہ کامل ہو، تو کائنات کی آگ بھی گلزار بن سکتی ہے۔

4. انبیاء کی آزمائشیں اور ان کی مستجاب دعائیں

اس پارے کی انفرادیت یہ ہے کہ اس میں انبیاء کی مختلف دعاؤں کا تذکرہ ہے:

  • حضرت ایوبؑ: جب بیماری نے گھیر لیا تو پکارا: "اے میرے رب! مجھے تکلیف پہنچی ہے اور تو سب سے بڑا رحم کرنے والا ہے”۔ اللہ نے انہیں شفا دی اور سب کچھ واپس لوٹا دیا۔

  • حضرت یونسؑ: مچھلی کے پیٹ کے اندھیروں میں پکارا: "لا الہ الا انت سبحانک انی کنت من الظالمین” (آیتِ کریمہ)۔ اللہ نے انہیں غم سے نجات دی۔

  • حضرت زکریاؑ: بے اولادی کے عالم میں پکارا: "اے میرے رب! مجھے اکیلا نہ چھوڑ”۔ اللہ نے انہیں بڑھاپے میں یحییٰؑ عطا کیے۔ یہ دعائیں امت کے لیے یہ سبق ہیں کہ اللہ کے سوا کوئی مشکل کشا نہیں۔

5. رحمت للعالمین ﷺ کی آمد

اللہ تعالیٰ نے سورہ الانبیاء کے آخر میں اپنے حبیب ﷺ کی شان بیان کرتے ہوئے فرمایا: "اور ہم نے آپ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا ہے"۔ آپ ﷺ کی رحمت صرف مسلمانوں کے لیے نہیں، بلکہ کافروں، جانوروں، درختوں اور جنات تک کے لیے عام ہے۔ یہ آیت نبی ﷺ کے مقامِ محمود اور آپ کی عالمگیر شفقت کی علامت ہے۔

6. قیامت کا ہولناک زلزلہ

سورہ الحج کا آغاز قیامت کی منظر کشی سے ہوتا ہے۔ اللہ فرماتا ہے کہ "قیامت کا زلزلہ ایک بڑی سخت چیز ہے”۔ اس دن کی ہولناکی ایسی ہوگی کہ دودھ پلانے والی مائیں اپنے بچوں کو بھول جائیں گی اور حاملہ عورتوں کے حمل گر جائیں گے۔ لوگ نشے کی حالت میں نظر آئیں گے حالانکہ وہ نشے میں نہیں ہوں گے بلکہ اللہ کا عذاب اتنا سخت ہوگا۔ یہ تنبیہ انسان کو اپنے رب کی طرف رجوع کرنے پر مجبور کرتی ہے۔

7. تخلیقِ انسانی اور دوبارہ جی اٹھنا

کچھ لوگ مرنے کے بعد دوبارہ اٹھائے جانے پر شک کرتے ہیں۔ اللہ نے انہیں سمجھانے کے لیے انسانی تخلیق کے مراحل بیان کیے کہ "پہلے مٹی، پھر نطفہ، پھر لوتھڑا، پھر گوشت کی بوٹی”۔ جو اللہ ایک مٹی اور حقیر قطرے سے انسان بنا سکتا ہے، وہ بوسیدہ ہڈیوں میں دوبارہ روح پھونکنے پر بھی قادر ہے۔ اسی طرح اللہ خشک زمین پر بارش برسا کر اسے زندہ کر دیتا ہے، جو اس کی قدرت کی نشانی ہے۔

8. حج کا اعلان اور قربانی کی روح

اس پارے میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کو حکم دیا گیا کہ وہ لوگوں میں "حج” کا اعلان کریں۔ اللہ فرماتا ہے کہ لوگ دور دراز کے راستوں سے پیدل اور اونٹنیوں پر سوار ہو کر اللہ کے گھر آئیں۔ قربانی کے حوالے سے ایک عظیم نکتہ بیان کیا گیا کہ "اللہ کو ان (جانوروں) کا گوشت اور خون نہیں پہنچتا، بلکہ اسے تمہارا تقویٰ پہنچتا ہے”۔ یہ بتاتا ہے کہ ہر عبادت کی روح "اخلاص” اور "خدا خوفی” ہے۔

9. مظلوموں کو جہاد کی پہلی اجازت

ہجرت کے بعد جب کفار کے مظالم حد سے بڑھ گئے، تو اسی پارے میں اللہ نے مسلمانوں کو پہلی بار اپنی حفاظت کے لیے لڑنے (جہاد) کی اجازت دی: "اجازت دے دی گئی ان لوگوں کو جن سے لڑائی کی جا رہی ہے، اس لیے کہ ان پر ظلم ہوا”۔ یہ اسلام کے نظامِ دفاع کی بنیاد تھی تاکہ حق غالب ہو اور باطل مٹ جائے۔

10. معبودانِ باطل کی بے بسی (مکھی کی مثال)

پارے کے آخر میں اللہ نے ایک عجیب مثال دی ہے۔ فرمایا کہ "اے لوگو! ایک مثال سنو، جنہیں تم اللہ کے سوا پکارتے ہو، وہ سب مل کر ایک مکھی بھی پیدا نہیں کر سکتے، بلکہ اگر مکھی ان سے کوئی چیز چھین کر لے جائے تو وہ اس سے واپس بھی نہیں لے سکتے”۔ کتنا کمزور ہے پکارنے والا اور کتنا کمزور ہے وہ جسے پکارا جا رہا ہے! یہ مثال شرک کی جڑوں کو کاٹ کر رکھ دیتی ہے۔


💡 سترہویں پارے سے حاصل ہونے والے 5 عملی اسباق

  1. غفلت کا تدارک: دن بھر کے کاموں میں سے کچھ وقت نکال کر اپنی آخرت اور حساب کتاب کے بارے میں سوچیں، کیونکہ وقت بہت کم ہے۔

  2. آیتِ کریمہ کا ورد: جب بھی کسی بڑی مصیبت میں پھنس جائیں، تو حضرت یونسؑ کی دعا "لا الہ الا انت سبحانک انی کنت من الظالمین” کا کثرت سے ورد کریں۔

  3. تقویٰ کی قربانی: عید الاضحیٰ یا عام حالات میں جب بھی اللہ کے نام پر کچھ خرچ کریں، تو دکھاوے کے بجائے نیت میں اخلاص اور تقویٰ پیدا کریں۔

  4. اللہ سے امید: حضرت زکریاؑ اور ایوبؑ کے قصوں سے یہ سیکھیں کہ بیماری ہو یا کوئی اور پریشانی، اللہ کے گھر سے کبھی ناامید نہیں ہونا چاہیے۔

  5. نبی ﷺ کی سنت پر عمل: چونکہ آپ ﷺ رحمت للعالمین ہیں، اس لیے دوسروں کے لیے باعثِ تکلیف بننے کے بجائے باعثِ رحمت اور آسانی بننے کی کوشش کریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے