رمضان قرآن سیریز: سولہواں پارہ (قَالَ اَلَمْ)
غیبی حکمتیں، معجزاتِ انبیاء اور دعوتِ حق کا اسلوب
سولہواں پارہ قرآنی داستانوں کا وہ مجموعہ ہے جو انسانی عقل کو حیران اور ایمان کو مضبوط کر دیتا ہے۔ اس میں حضرت موسیٰؑ اور حضرت خضرؑ کا پراسرار سفر، ذوالقرنین کی فتوحات، حضرت مریمؑ کی عفت اور حضرت عیسیٰؑ کی بن باپ پیدائش جیسے عظیم واقعات بیان ہوئے ہیں۔ اس کے بعد سورہ طہٰ میں حضرت موسیٰؑ کی فرعون کے ساتھ کشمکش کا وہ نقشہ کھینچا گیا ہے جو داعیانِ حق کے لیے ہمت اور حوصلے کا عظیم درس ہے۔
1. حضرت موسیٰؑ اور حضرت خضرؑ: ظاہر بمقابلہ باطن
پارے کا آغاز حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت خضر علیہ السلام کے واقعے کے بقیہ حصے سے ہوتا ہے۔ خضرؑ نے تین ایسے کام کیے جو بظاہر غلط نظر آتے تھے (کشتی میں سوراخ کرنا، ایک لڑکے کو قتل کرنا اور گرتی ہوئی دیوار بنانا)۔ حضرت موسیٰؑ ان پر خاموش نہ رہ سکے۔ آخر میں خضرؑ نے ان کے پیچھے چھپی غیبی حکمتیں بتائیں کہ اللہ کس طرح اپنے بندوں کو بڑے نقصان سے بچانے کے لیے چھوٹا نقصان پہنچاتا ہے۔ یہ واقعہ ہمیں سکھاتا ہے کہ اللہ کے ہر فیصلے میں حکمت ہوتی ہے، چاہے وہ ہماری عقل میں نہ آئے۔
2. ذوالقرنین اور یاجوج ماجوج کی دیوار
سورہ الکہف کے آخر میں ایک عادل بادشاہ ذوالقرنین کا تذکرہ ہے جسے اللہ نے مشرق اور مغرب کی سلطنت عطا کی تھی۔ انہوں نے ایک ایسی قوم کی مدد کی جو یاجوج ماجوج کے فتنے سے پریشان تھی۔ ذوالقرنین نے پگھلے ہوئے لوہے اور تانبے سے ایک ناقابلِ تسخیر دیوار کھڑی کر دی۔ یہ قصہ بتاتا ہے کہ اصل حکمران وہ ہے جو اپنی طاقت کو کمزوروں کی حفاظت اور اللہ کی رضا کے لیے استعمال کرے۔
3. اعمال کی بربادی اور کلماتِ الٰہی کی وسعت
سورہ الکہف کے اختتام پر ان لوگوں کا ذکر ہے جو قیامت کے دن سب سے زیادہ خسارے میں ہوں گے؛ وہ جنہوں نے دنیا میں بڑی محنت کی لیکن ان کا ایمان درست نہ تھا، لہذا ان کے اعمال ضائع ہو گئے۔ پارے کے آخر میں اللہ کی عظمت کا بیان ہے کہ اگر تمام سمندر سیاہی بن جائیں تب بھی اللہ کی باتیں (کلمات) ختم نہیں ہوں گی، چاہے ایسے سات سمندر اور بھی آ جائیں۔
4. سورہ مریم: حضرت زکریاؑ کی دعا اور حضرت یحییٰؑ کی ولادت
سورہ مریم کا آغاز حضرت زکریا علیہ السلام کی پرسوز دعا سے ہوتا ہے۔ انہوں نے انتہائی بڑھاپے میں وارث کے لیے اللہ کو پکارا، جس پر اللہ نے انہیں حضرت یحییٰؑ کی خوشخبری دی۔ یہ واقعہ ثابت کرتا ہے کہ اللہ کے ہاں اسباب کوئی معنی نہیں رکھتے، وہ جب چاہے بانجھ پن اور بڑھاپے کے باوجود زندگی کی لہر دوڑا سکتا ہے۔
5. حضرت مریمؑ اور حضرت عیسیٰؑ کی معجزانہ پیدائش
اس پارے کا سب سے رقت آمیز حصہ حضرت مریمؑ کا قصہ ہے۔ اللہ کے حکم سے وہ بن باپ کے حاملہ ہوئیں اور سخت آزمائش سے گزریں۔ جب وہ بچے (عیسیٰؑ) کو لے کر اپنی قوم میں آئیں تو لوگوں نے تہمت لگائی۔ اس وقت پالنے میں موجود حضرت عیسیٰؑ نے کلام کیا اور اپنی نبوت و بندگی کا اعلان کر کے اپنی والدہ کی پاکدامنی ثابت کی۔ یہاں قرآن نے عیسائیوں کے اس عقیدے کی تردید کی کہ عیسیٰؑ اللہ کے بیٹے ہیں، بلکہ واضح کیا کہ وہ اللہ کے برگزیدہ بندے اور رسول ہیں۔
6. حضرت ابراہیمؑ کی اپنے والد کو نرم دعوت
سورہ مریم میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کا اپنے مشرک والد (آزر) کو دعوت دینے کا اسلوب بیان ہوا ہے۔ آپؑ نے انتہائی ادب اور محبت سے "یا ابتی” (اے میرے پیارے ابا جان) کہہ کر انہیں سمجھایا۔ اگرچہ والد نے سختی کی اور گھر سے نکالنے کی دھمکی دی، مگر ابراہیمؑ نے ان کے لیے دعا کی اور نرمی کا دامن نہیں چھوڑا، جو آج کے نوجوانوں کے لیے والدین سے اختلاف کے باوجود ادب کا بہترین نمونہ ہے۔
7. سورہ طہٰ: قرآن باعثِ مشقت نہیں
سورہ طہٰ کا آغاز نبی کریم ﷺ کی تسلی سے ہوتا ہے کہ "ہم نے یہ قرآن آپ پر اس لیے نازل نہیں کیا کہ آپ مشقت میں پڑ جائیں”۔ یہ سورت مشرکینِ مکہ کے مظالم کے دور میں نازل ہوئی تاکہ مسلمانوں کے دلوں کو ڈھارس بندھائی جائے کہ آخر کار غلبہ حق کا ہی ہوگا۔
8. حضرت موسیٰؑ کی کوہِ طور پر پکار اور دعا
اس پارے میں حضرت موسیٰؑ کی نبوت کے آغاز کا منظر ہے۔ جب انہوں نے آگ دیکھی اور وہاں پہنچے تو اللہ نے انہیں براہِ راست ہم کلامی کا شرف بخشا۔ حضرت موسیٰؑ نے دعوتِ حق کے لیے اللہ سے چند چیزیں مانگیں: "اے میرے رب! میرا سینہ کھول دے، میرا کام آسان کر دے اور میری زبان کی گرہ کھول دے”۔ یہ دعا ہر اس شخص کے لیے مشعلِ راہ ہے جو دین کی خدمت کرنا چاہتا ہے۔
9. جادوگروں کا مقابلہ اور عظیم سجدہ
حضرت موسیٰؑ اور فرعون کے دربار کے جادوگروں کے درمیان مقابلہ اس پارے کا کلائمکس ہے۔ جب موسیٰؑ کے عصا نے جادوگروں کے فریب کو نگل لیا، تو وہ حق کو پہچان گئے اور فرعون کی موت کی دھمکیوں کے سامنے جھکنے کے بجائے اللہ کے سامنے سجدے میں گر گئے۔ یہ ایمان کی وہ طاقت تھی جس نے چند لمحوں میں جادوگروں کو اولیاء اللہ کی صف میں کھڑا کر دیا۔
10. سامری کا بچھڑا اور بنی اسرائیل کی گمراہی
پارے کے آخر میں سامری کا فتنہ بیان ہوا ہے جس نے حضرت موسیٰؑ کی غیر موجودگی میں بنی اسرائیل کو بچھڑے کی پوجا پر لگا دیا تھا۔ حضرت موسیٰؑ نے واپس آ کر اس بت کو جلا کر دریا میں بہا دیا اور قوم کو دوبارہ توحید کی طرف بلایا۔ یہ واقعہ بتاتا ہے کہ شرک ایک ایسی بیماری ہے جو کسی بھی وقت ایمان کی بنیادوں پر حملہ کر سکتی ہے، اس لیے ہمیشہ بیدار رہنے کی ضرورت ہے۔
سولہویں پارے سے حاصل ہونے والے 5 عملی اسباق
صبر اور خاموشی: حضرت خضرؑ کے واقعے سے سیکھیں کہ زندگی کے پریشان کن واقعات کے پیچھے اللہ کی کوئی بڑی بہتری چھپی ہوتی ہے، لہٰذا جزع فزع کے بجائے صبر کریں۔
ادبِ دعوت: والدین یا بڑوں کو دین کی طرف بلاتے وقت حضرت ابراہیمؑ کی طرح نرمی اور محبت بھرا لہجہ اختیار کریں، چاہے وہ کتنا ہی غلط کیوں نہ ہوں۔
دعا کی طاقت: جب حالات بظاہر ناممکن نظر آئیں، تو حضرت زکریاؑ کی طرح اللہ کو پکاریں، وہ ناممکن کو ممکن بنانے والا ہے۔
ثابت قدمی: فرعون کے جادوگروں کی طرح جب حق واضح ہو جائے تو پھر کسی دنیاوی طاقت یا جان کے خوف کو خاطر میں نہ لائیں۔
ذکرِ الٰہی سے کام کی آسانی: حضرت موسیٰؑ کی دعا "رب اشرح لی صدری” کو اپنی روزمرہ زندگی کا حصہ بنائیں تاکہ آپ کی مشکلات آسان ہوں۔



