رمضان قرآن سیریز: پندرہواں پارہ (سُبْحٰنَ الَّذِیْٓ)
سفرِ معراج، والدین کے حقوق اور اصحابِ کہف کا ایمان افروز قصہ
پندرہواں پارہ روحانیت، اخلاقیات اور تاریخ کا ایک حسین امتزاج ہے۔ پارے کا آغاز کائنات کے سب سے بڑے سفر "معراج” کے تذکرے سے ہوتا ہے، جس کے بعد انسانی زندگی کے گزارنے کے 14 بنیادی اصول بیان کیے گئے ہیں۔ دوسرے حصے میں سورہ الکہف شروع ہوتی ہے، جو ہمیں سکھاتی ہے کہ مشکل ترین حالات میں بھی اپنے ایمان کی حفاظت کیسے کی جاتی ہے۔
1. معجزۂ اسراء و معراج: کائناتی سفر
پارے کی پہلی آیت "اسراء” (رات کا سفر) کا تذکرہ کرتی ہے، جس میں اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے (محمد ﷺ) کو رات کے ایک حصے میں مسجدِ حرام سے مسجدِ اقصٰی تک کی سیر کرائی۔ یہ سفر اللہ کی قدرت کی نشانیوں میں سے ایک بڑا نشان تھا تاکہ رسول اللہ ﷺ کا سینہ اطمینان سے بھر جائے اور دنیا کو پتا چل جائے کہ اللہ کے لیے کچھ بھی ناممکن نہیں۔ یہ سفر مکہ کے کٹھن حالات میں نبی ﷺ کے لیے ایک عظیم اعزاز اور تسلی کا ذریعہ تھا۔
2. اسلامی معاشرت کا چارٹر (14 سنہری احکامات)
سورہ بنی اسرائیل میں اللہ تعالیٰ نے 14 ایسے احکامات دیے ہیں جنہیں اسلامی ریاست کا "میگنا کارٹا” کہا جا سکتا ہے۔ ان میں شرک سے بچنا، والدین کے ساتھ حسنِ سلوک، رشتہ داروں، مسکینوں اور مسافروں کے حقوق، فضول خرچی سے ممانعت (فضول خرچ کو شیطان کا بھائی کہا گیا)، تنگیِ رزق کے ڈر سے اولاد کا قتل نہ کرنا، زنا کے قریب نہ جانا، ناحق قتل کی ممانعت، یتیم کے مال کی حفاظت، ناپ تول میں دیانت، اور تکبر سے بچنا شامل ہیں۔ یہ وہ اصول ہیں جو ایک صالح معاشرے کی بنیاد رکھتے ہیں۔
3. والدین کے حقوق: "اف” تک نہ کہو
والدین کے حوالے سے اس پارے میں جو ہدایات دی گئی ہیں وہ بے مثال ہیں۔ اللہ نے اپنی عبادت کے بعد دوسرا بڑا حق والدین کا رکھا ہے۔ حکم دیا گیا کہ جب وہ بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو انہیں "اف” تک نہ کہو (یعنی بیزاری کا اظہار بھی نہ کرو) اور نہ ہی انہیں جھڑکوں، بلکہ ان سے نرمی اور عزت سے بات کرو۔ ان کے لیے دعا کرو: "اے میرے رب! ان پر ویسے ہی رحم فرما جیسے انہوں نے بچپن میں مجھ پر رحم کیا”۔
4. حقیقتِ روح اور انسانی علم کی حد
اس پارے میں ایک بہت گہرا سوال بیان ہوا ہے جو مشرکین نے نبی ﷺ سے کیا تھا کہ "روح کیا ہے؟” اللہ نے جواب دیا: "کہہ دیجیے کہ روح میرے رب کا ایک حکم ہے اور تمہیں (انسان کو) بہت تھوڑا علم دیا گیا ہے”۔ یہ آیت بتاتی ہے کہ انسانی عقل کی ایک حد ہے اور کائنات کی بہت سی حقیقتیں ایسی ہیں جن کا مکمل علم صرف خالقِ کائنات کے پاس ہے۔
5. قرآن کا چیلنج اور عظمت
کفارِ مکہ قرآن کو انسانی کلام قرار دیتے تھے، جس کے جواب میں اللہ نے چیلنج کیا کہ "اگر تمام انسان اور جنات مل کر بھی اس قرآن جیسا کلام لانا چاہیں تو ہرگز نہیں لا سکیں گے، چاہے وہ ایک دوسرے کے کتنے ہی مددگار کیوں نہ بن جائیں”۔ یہ چیلنج آج بھی برقرار ہے اور قرآن کی حقانیت کی سب سے بڑی دلیل ہے۔ ساتھ ہی یہ بتایا گیا کہ یہ قرآن مومنوں کے لیے "شفا اور رحمت” ہے، جبکہ ظالموں کے لیے نقصان کا باعث ہے۔
6. سورہ الکہف کا آغاز اور فتنہ دجال سے حفاظت
پارے کے دوسرے حصے میں سورہ الکہف شروع ہوتی ہے۔ احادیث کے مطابق جو شخص اس سورت کی ابتدائی اور آخری 10 آیات یاد کرے گا، وہ فتنہ دجال سے محفوظ رہے گا۔ یہ سورت مادی دنیا کی چکا چوند کے مقابلے میں "ایمانی نور” کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے اور بتاتی ہے کہ اصل کامیابی اللہ کی رضا میں ہے۔
7. قصہ اصحابِ کہف: ایمان کی خاطر ہجرت
اس پارے کا سب سے اہم واقعہ "اصحابِ کہف” کا ہے، جو چند ایسے نوجوانوں کا گروہ تھا جنہوں نے ایک ظالم و مشرک بادشاہ (دقیانوس) کے سامنے کلمہ حق بلند کیا۔ جب ان کی جان کو خطرہ ہوا تو وہ اپنا ایمان بچانے کے لیے ایک غار میں چھپ گئے۔ اللہ نے ان پر ایسی نیند طاری کی کہ وہ تین سو نو (309) سال تک سوتے رہے۔ یہ واقعہ بتاتا ہے کہ جب بندہ اللہ کے لیے سب کچھ چھوڑ دیتا ہے، تو اللہ پہاڑوں اور غاروں کو بھی اس کے لیے محفوظ پناہ گاہ بنا دیتا ہے۔
8. غار سے بیداری اور قدرت کا کرشمہ
جب وہ نوجوان تین صدیوں بعد بیدار ہوئے تو انہیں محسوس ہوا کہ شاید وہ ایک دن یا اس کا کچھ حصہ سوئے ہیں۔ جب ان میں سے ایک غلہ لینے شہر گیا تو اس کے پرانے سکے دیکھ کر حقیقت کھلی کہ زمانہ بدل چکا ہے۔ اللہ نے اس واقعے کے ذریعے لوگوں کو مرنے کے بعد دوبارہ جی اٹھنے (قیامت) پر یقین دلایا اور یہ ثابت کیا کہ وقت اللہ کے ہاتھ میں ہے، وہ جب چاہے اسے روک دے یا بدل دے۔
9. دو باغ والوں کی مثال: مال و دولت کی آزمائش
پارے کے آخر میں دو شخصوں کی مثال دی گئی ہے جن میں سے ایک کو اللہ نے انگوروں اور کھجوروں کے دو بہترین باغات دیے تھے۔ وہ اپنے مال اور افرادی قوت پر مغرور ہو گیا اور کہنے لگا کہ یہ نعمتیں مجھ سے کبھی نہیں چھینیں گی اور نہ ہی قیامت آئے گی۔ اس کے غریب دوست نے اسے سمجھایا لیکن وہ نہ مانا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ کے عذاب نے اس کے باغات کو تباہ کر دیا اور وہ ہاتھ ملتا رہ گیا۔ یہ مثال بتاتی ہے کہ مال و دولت ایک آزمائش ہے، اصل سرمایہ اللہ پر ایمان ہے۔
10. شیطان کی ازلی دشمنی (آدمؑ و ابلیس)
اس پارے میں ایک بار پھر حضرت آدمؑ اور ابلیس کا تذکرہ ہے، جہاں ابلیس کے سجدہ نہ کرنے کی وجہ اس کا "جن” ہونا اور اپنی اصل پر فخر کرنا بیان کی گئی ہے۔ اللہ نے انسانوں کو متنبہ کیا کہ کیا تم اللہ کو چھوڑ کر شیطان اور اس کی اولاد کو اپنا دوست بناتے ہو؟ حالانکہ وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔ یہ ہمیں اپنے دشمن کی پہچان کرواتا ہے تاکہ ہم اس کے دھوکوں سے بچ سکیں۔
Chakwal Plus Youtube Channel
پندرہویں پارے سے حاصل ہونے والے 5 عملی اسباق
والدین کی خدمت: روزانہ اپنے والدین کے ساتھ وقت گزاریں اور ان کے ساتھ نرم لہجے میں بات کریں، یہ عمل حج اور جہاد سے بھی بڑا درجہ رکھتا ہے۔
سچی دوستی اور ماحول: اصحابِ کہف کی طرح ایسے دوست بنائیں جو آپ کے ایمان کی حفاظت میں مددگار ہوں، نہ کہ وہ جو آپ کو دنیا میں مگن کر دیں۔
تکبر کا علاج: اپنی دولت، اولاد یا کامیابی پر فخر نہ کریں بلکہ اسے اللہ کی امانت سمجھیں اور "ماشاء اللہ لا قوۃ الا باللہ” پڑھنے کی عادت ڈالیں۔
سورہ الکہف کی تلاوت: ہر جمعہ کو سورہ الکہف پڑھنے کا اہتمام کریں تاکہ آپ فتنوں کے اس دور میں دجالی اثرات سے محفوظ رہ سکیں۔
معاشرتی ذمہ داری: قرآن کے دیے ہوئے 14 ضابطوں (عدل، احسان، یتیم کی حفاظت وغیرہ) کو اپنی عملی زندگی کا حصہ بنائیں۔انشاءاللہ سولہویں روزہ کو سولہویں پارہ کا مکمل خلاصہ ملاحظہ فرمائیں۔ شکریہ



