رمضان قرآن سیریز: چودہواں پارہ (رُبَمَا)
تحفظِ قرآن، تخلیقِ انسانی اور کائناتی نعمتوں کا اعتراف
چودہواں پارہ دو مکی سورتوں پر مشتمل ہے۔ اس کا آغاز سورہ الحجر کے بقیہ حصے سے ہوتا ہے، جس میں حق و باطل کی کشمکش، شیطان کا انسان کو بہکانے کا چیلنج اور سابقہ اقوام کی ہلاکت کے عبرتناک قصے موجود ہیں۔ اس کے بعد سورہ النحل (شہد کی مکھی) شروع ہوتی ہے، جسے "سورۃ النعم” (نعمتوں کی سورت) بھی کہا جاتا ہے، کیونکہ اس میں اللہ تعالیٰ نے اپنی بے شمار مادی اور روحانی نعمتوں کا تذکرہ کر کے انسان کو شکر گزاری کی دعوت دی ہے۔
1. قرآن کی حفاظت کا الٰہی وعدہ
پارے کے آغاز میں اللہ تعالیٰ نے ایک ایسا اعلان فرمایا ہے جو چودہ سو سال سے جوں کا توں برقرار ہے اور قیامت تک رہے گا: "بے شک یہ ذکر (قرآن) ہم نے ہی نازل کیا ہے اور ہم ہی اس کے محافظ ہیں”۔ یہ آیت قرآن کے معجزہ ہونے کی سب سے بڑی دلیل ہے۔ دنیا کی تمام کتابوں میں تحریف ہوئی، لیکن قرآن کا ایک ایک لفظ اور اعراب اللہ کی حفاظت میں ہے۔ یہاں یہ پیغام ہے کہ باطل قوتیں چاہے کتنا ہی زور لگا لیں، وہ اس نورِ الٰہی کو بجھا نہیں سکتیں۔
2. تخلیقِ آدمؑ اور ابلیس کا تکبر
اس پارے میں حضرت آدمؑ کی تخلیق کا تذکرہ ہے کہ انہیں "کھنکھناتی مٹی” سے بنایا گیا، جبکہ جنات (ابلیس) کو "آگ کے شعلے” سے پیدا کیا گیا۔ جب فرشتوں کو سجدے کا حکم ہوا تو ابلیس نے اپنے مادی جوہر (آگ) پر فخر کرتے ہوئے انکار کر دیا۔ اللہ نے اسے اپنی بارگاہ سے نکال دیا، جس پر اس نے قیامت تک انسانوں کو بہکانے کا چیلنج کیا۔ اللہ نے واضح فرما دیا کہ "میرے مخلص بندوں پر تیرا کوئی زور نہیں چلے گا”۔ یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ تکبر شیطان کا راستہ ہے اور بندگی ہی انسان کی اصل معراج ہے۔
3. جہنم کے سات دروازے اور جنت کی ابدی راحت
شیطان کے پیروکاروں کے لیے اللہ نے جہنم کا وعدہ کیا ہے جس کے سات مخصوص دروازے ہیں، جہاں ہر گروہ اپنے جرم کے مطابق داخل ہوگا۔ دوسری طرف متقین کے لیے جنت کے باغات کا تذکرہ ہے جہاں ان کے دلوں سے ہر قسم کا کینہ اور بغض نکال دیا جائے گا اور وہ "بھائیوں کی طرح” آمنے سامنے بیٹھے ہوں گے۔ یہ منظر کشی مومن کے دل میں خوف اور تڑپ پیدا کرتی ہے کہ وہ اپنے باطن کو پاک کر کے اس ابدی راحت کا مستحق بنے۔
4. حضرت ابراہیمؑ کو بشارت اور قومِ لوطؑ کی تباہی
پارے میں وہ واقعہ بیان ہوا ہے جب فرشتے انسانی شکل میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس آئے، وہ پہلے ڈر گئے لیکن فرشتوں نے انہیں صاحبزادے (حضرت اسحاقؑ) کی بشارت دی۔ ساتھ ہی انہوں نے بتایا کہ وہ قومِ لوطؑ کو ہلاک کرنے جا رہے ہیں۔ حضرت لوطؑ کی قوم اپنی بدکاریوں کی وجہ سے اس مقام پر پہنچ چکی تھی جہاں توبہ کی گنجائش ختم ہو گئی تھی۔ ان کی بستیوں کو الٹ دیا گیا اور ان پر نشان زدہ پتھروں کی بارش ہوئی۔ یہ قصہ بتاتا ہے کہ جب کوئی قوم فطرت کے خلاف جنگ چھیڑتی ہے، تو قدرت اسے نشانِ عبرت بنا دیتی ہے۔
5. اصحابِ الحجر (قومِ ثمود) اور اصحابِ الايكہ کا انجام
"الحجر” اس وادی کا نام ہے جہاں قومِ ثمود بستی تھی۔ وہ پہاڑوں کو تراش کر قلعہ نما گھر بناتے تھے اور اپنی معاشی و فنی طاقت پر مغرور تھے۔ انہوں نے اللہ کی نشانیوں کو جھٹلایا تو ایک زوردار چنگھاڑ نے انہیں ہلاک کر دیا۔ اسی طرح "اصحاب الايكہ” (جنگل والے) کی سرکشی کا ذکر بھی ہے جنہیں ان کے گناہوں کی پاداش میں پکڑ لیا گیا۔ یہ قصے ثابت کرتے ہیں کہ مضبوط عمارتیں اور پہاڑ بھی اللہ کے عذاب کے سامنے ڈھال نہیں بن سکتے۔
6. "سبعاً من المثانی”: سورہ فاتحہ کا عظیم تحفہ
اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا کہ ہم نے آپ کو "سبعاً من المثانی” (بار بار دہرائی جانے والی سات آیات یعنی سورہ فاتحہ) اور "قرآنِ عظیم” عطا کیا ہے۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ایک مومن کے پاس اگر قرآن کی دولت ہے تو اسے دنیا کی رنگینیوں اور کافروں کے مال و متاع کی طرف للچائی ہوئی نظروں سے نہیں دیکھنا چاہیے۔ قرآن دنیا کی ہر نعمت سے بڑھ کر ہے۔
7. سورہ النحل: کائناتی نعمتوں کا تفصیلی بیان
سورہ النحل کا آغاز ہی اللہ کی قدرت کے اعتراف سے ہوتا ہے۔ آسمان سے بارش کا برسنا، اس سے چارہ اگنا، جانوروں کی تخلیق جن سے ہم سواری، گوشت، دودھ اور لباس حاصل کرتے ہیں—یہ سب اللہ کے فضل کی نشانیاں ہیں۔ اللہ فرماتا ہے کہ اگر تم اللہ کی نعمتوں کو گننا چاہو تو گن نہیں سکتے۔ یہ سورت انسان کو احساس دلاتی ہے کہ وہ کتنا محتاج ہے اور اس کا رب کتنا کریم ہے جو بن مانگے سب کچھ دے رہا ہے۔
8. شہد کی مکھی کی مثال اور شفا کا راز
اس پارے کا ایک منفرد موضوع "شہد کی مکھی” (نحل) ہے۔ اللہ نے اس چھوٹی سی مخلوق کو الہام (وحی) کیا کہ وہ پہاڑوں اور درختوں میں گھر بنائے اور ہر طرح کے پھلوں کا رس چوسے۔ اس کے پیٹ سے مختلف رنگوں کا مشروب (شہد) نکلتا ہے جس میں "لوگوں کے لیے شفا” ہے۔ جدید سائنس آج اس حیرت انگیز نظام کو تسلیم کرتی ہے۔ یہ اللہ کی قدرت کی نشانی ہے کہ وہ ایک ننھی سی جان سے انسان کے لیے بہترین دوا اور غذا تیار کرواتا ہے۔
9. معاشرتی انصاف کا منشور (عدل و احسان)
دسویں رکوع میں قرآن کی وہ آیت ہے جسے "اسلام کا جامع اخلاقی ضابطہ” کہا جاتا ہے اور جو اکثر جمعہ کے خطبہ میں پڑھی جاتی ہے: "بے شک اللہ عدل، احسان اور رشتہ داروں کو دینے کا حکم دیتا ہے اور فحاشی، برائی اور سرکشی سے روکتا ہے”۔ یہ ایک ہی آیت پورے اسلامی نظامِ زندگی کو سمیٹے ہوئے ہے۔ اگر معاشرہ صرف اس ایک آیت پر عمل پیرا ہو جائے تو ظلم و ستم کا خاتمہ ہو جائے اور ہر طرف امن و سکون ہو۔
10. حضرت ابراہیمؑ: ایک مکمل امت اور نمونہِ عمل
پارے کے آخر میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی تعریف ان الفاظ میں کی گئی ہے کہ وہ اکیلے ہی ایک "امت” تھے۔ وہ اللہ کے فرماں بردار تھے، یکسو تھے اور کبھی مشرکوں میں سے نہیں تھے۔ انہوں نے اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا کیا، اسی لیے اللہ نے انہیں دنیا میں بھی حسنہ (بہترین مقام) دیا اور آخرت میں بھی وہ صالحین میں ہوں گے۔ ہمیں حکم دیا گیا کہ ہم ملتِ ابراہیمی کی پیروی کریں، جو کہ خالص توحید کا راستہ ہے۔
چودہویں پارے سے حاصل ہونے والے 5 عملی اسباق
قرآن سے تعلق: یہ یقین رکھیں کہ قرآن کی حفاظت اللہ کے ذمے ہے، اس لیے اس کی تلاوت اور اس پر عمل کو اپنی زندگی کا مقصد بنا لیں۔
شکر گزاری: اپنے اردگرد پھیلی ہوئی اللہ کی نعمتوں (پانی، اناج، لباس، جانور) پر غور کریں اور "الحمدللہ” کو اپنی زبان کا وظیفہ بنا لیں۔
تکبر سے دوری: ابلیس کے انجام سے سبق حاصل کریں اور اپنی کسی بھی خوبی یا مال و دولت پر غرور نہ کریں، کیونکہ یہ سب مٹی ہو جانے والا ہے۔
عدل و احسان: اپنے معاملات میں انصاف سے کام لیں اور دوسروں کے ساتھ بھلائی (احسان) کا رویہ رکھیں، چاہے وہ آپ کے دشمن ہی کیوں نہ ہوں۔
شہد اور قدرتی علاج: سنتِ نبوی اور قرآنی تعلیمات کی روشنی میں شہد اور دیگر قدرتی نعمتوں کو اپنی صحت کے لیے استعمال کریں اور اسے اللہ کی نشانی مانیں۔


