رمضان قرآن سیریز: تیرہواں پارہ (وَمَا أُبَرِّئُ)
نفس کی پاکیزگی، کائناتی حقائق اور اللہ کی پوشیدہ تدبیر
تیرہواں پارہ ہمیں زندگی کے دو مختلف پہلوؤں سے روشناس کرواتا ہے۔ ایک طرف حضرت یوسف علیہ السلام کی زندگی کے عروج کی داستان ہے جو ثابت کرتی ہے کہ "صبر” کا پھل کتنا میٹھا ہوتا ہے، اور دوسری طرف سورہ الرعد اور سورہ ابراہیم کے ذریعے یہ پیغام دیا گیا ہے کہ کائنات کا ذرہ ذرہ اللہ کی حمد بیان کر رہا ہے۔ یہ پارہ ہمیں سکھاتا ہے کہ جب انسان اپنے نفس پر قابو پا لیتا ہے اور اللہ کے فیصلوں پر راضی ہو جاتا ہے، تو اللہ اسے ذلت کے گڑھوں سے نکال کر عزت کے تخت پر بٹھا دیتا ہے۔
1. نفسِ امارہ اور عصمتِ یوسفؑ کا اعتراف
پارے کا آغاز حضرت یوسف علیہ السلام کے اس حکیمانہ قول سے ہوتا ہے کہ "میں اپنے نفس کی برأت نہیں کرتا، کیونکہ نفس تو برائی پر اکسانے والا ہے”۔ یہ وہ وقت تھا جب عزیزِ مصر کی اہلیہ (زلیخا) نے اپنی غلطی کا اعتراف کر لیا اور حضرت یوسفؑ کی پاکدامنی ثابت ہو گئی۔ یہاں یہ بڑا سبق ملتا ہے کہ انسان کتنا ہی نیک کیوں نہ ہو، اسے اپنے نفس سے ہوشیار رہنا چاہیے اور ہمیشہ اللہ کی پناہ مانگنی چاہیے۔ حضرت یوسفؑ کی کامیابی کا راز یہی تھا کہ انہوں نے اپنی نیکی کا کریڈٹ لینے کے بجائے اسے اللہ کا فضل قرار دیا۔
2. قید خانے سے ایوانِ شاہی تک کا سفر
حضرت یوسفؑ نے قید خانے میں برسوں گزارے، لیکن جب بادشاہِ مصر نے ایک عجیب خواب دیکھا جس کی تعبیر کوئی نہ دے سکا، تو حضرت یوسفؑ کو یاد کیا گیا۔ آپؑ نے نہ صرف خواب کی درست تعبیر دی (کہ ملک میں سات سال قحط آئے گا) بلکہ اس بحران سے نکلنے کا پورا معاشی منصوبہ بھی پیش کیا۔ بادشاہ آپؑ کی دانشمندی اور کردار سے اتنا متاثر ہوا کہ آپؑ کو ملک کے خزانے کا نگران (وزیرِ خزانہ) بنا دیا۔ یہ نکتہ ہمیں سکھاتا ہے کہ قابلیت اور دیانتداری کبھی ضائع نہیں ہوتی، اللہ مشکل حالات کو ہی بڑی کامیابی کا راستہ بنا دیتا ہے۔
3. بھائیوں کی آمد اور یوسفؑ کی الٰہی تدبیر
قحط کے دوران جب یوسفؑ کے بھائی غلہ لینے مصر آئے، تو انہوں نے اپنے بھائی کو نہیں پہچانا، لیکن یوسفؑ نے انہیں پہچان لیا۔ آپؑ نے کمالِ حکمت سے اپنے چھوٹے بھائی (بنیامین) کو روکنے کی تدبیر کی تاکہ خاندان کو دوبارہ اکٹھا کیا جا سکے۔ یہاں حضرت یوسفؑ کی فراست ظاہر ہوتی ہے کہ انہوں نے بدلہ لینے کے بجائے اصلاح کا راستہ اپنایا۔ یہ حصہ انسانی رشتوں کی پیچیدگیوں اور اللہ کی اس "خفیہ تدبیر” کو ظاہر کرتا ہے جو بظاہر شر نظر آنے والے حالات میں بھی خیر پیدا کر دیتی ہے۔
4. حضرت یعقوبؑ کی آزمائش اور بینائی کی واپسی
حضرت یعقوب علیہ السلام اپنے بیٹے یوسفؑ کے غم میں روتے روتے اپنی بینائی کھو چکے تھے، لیکن ان کا اللہ پر یقین متزلزل نہیں ہوا۔ جب بھائیوں نے یوسفؑ کی قمیص لا کر ان کے چہرے پر ڈالی، تو اللہ کے حکم سے ان کی بینائی لوٹ آئی۔ یہ معجزہ ہمیں بتاتا ہے کہ "امید” کا دامن کبھی نہیں چھوڑنا چاہیے۔ جب اللہ چاہے تو برسوں کا بچھڑا ہوا مل سکتا ہے اور مٹی ہوئی بینائی واپس آ سکتی ہے۔
5. مثالی معافی اور خاندان کا ملاپ
جب حقیقت کھل گئی اور بھائیوں نے اپنی غلطی تسلیم کر لی، تو حضرت یوسفؑ نے وہ تاریخی جملہ کہا جو رہتی دنیا تک عفو و درگزرس کا معیار رہے گا: "آج تم پر کوئی گرفت نہیں، اللہ تمہیں معاف کرے”۔ آپؑ نے بھائیوں کو شرمندہ کرنے کے بجائے سارا قصور شیطان پر ڈال دیا۔ آخر میں پورا خاندان مصر میں اکٹھا ہوا اور حضرت یوسفؑ کا بچپن کا خواب (والدین اور بھائیوں کا سجدۂ تعظیمی) پورا ہوا۔ یہ قصہ ہمیں سکھاتا ہے کہ انتقام سے بڑا درجہ معافی کا ہے، اور یہی وہ حسنِ اخلاق ہے جو دشمنوں کو بھی دوست بنا دیتا ہے۔
6. سورہ الرعد: قدرتِ خداوندی کے عظیم مظاہر
سورہ الرعد ایک جلال والی سورت ہے۔ اس میں اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کے دلائل دیے ہیں کہ کس طرح اس نے بغیر ستونوں کے آسمان کو بلند کیا، سورج اور چاند کو ایک نظام میں جکڑ دیا اور زمین پر پہاڑوں کے میخیں گاڑ دیں۔ اللہ فرماتا ہے کہ بادلوں کی گرج (رعد) بھی اس کی تسبیح بیان کرتی ہے۔ یہ آیات انسان کو سوچنے پر مجبور کرتی ہیں کہ اتنی بڑی کائنات کا خالق کتنا طاقتور ہوگا، اور کیا وہ انسان کو دوبارہ پیدا کرنے پر قادر نہیں؟
7. دلوں کا اطمینان صرف ذکرِ الٰہی میں ہے
اس پارے کی سب سے مشہور اور دل نشین آیت وہ ہے جس میں اللہ فرماتا ہے: "خبردار! اللہ کے ذکر سے ہی دلوں کو اطمینان ملتا ہے”۔ آج کے اضطراب اور ٹینشن کے دور میں یہ آیت ایک مکمل علاج ہے۔ انسان دنیا کی ہر آسائش خرید سکتا ہے لیکن "سکون” نہیں خرید سکتا۔ حقیقی سکون صرف اس وقت ملتا ہے جب روح اپنے خالق سے جڑ جاتی ہے۔ یہ نکتہ انسانی نفسیات کی سب سے بڑی سچائی کو بیان کرتا ہے۔
8. سورہ ابراہیم: تاریکیوں سے روشنی کی طرف سفر
سورہ ابراہیم کا آغاز ہی اس مقصد کے بیان سے ہوتا ہے کہ قرآن اس لیے نازل کیا گیا ہے تاکہ لوگوں کو کفر و جہالت کی تاریکیوں سے نکال کر ایمان کی روشنی کی طرف لایا جائے۔ اس سورت میں واضح کیا گیا کہ ہر نبی اپنی قوم کی زبان میں پیغام لے کر آیا تاکہ وہ بات کو اچھی طرح سمجھ سکیں۔ یہاں "کلمہ طیبہ” (پاکیزہ بات) کی مثال ایک ایسے درخت سے دی گئی ہے جس کی جڑیں زمین میں مضبوط ہوں اور شاخیں آسمان تک پہنچی ہوں، جو ہر وقت پھل دیتا ہے۔
9. شکر گزاری کا قانون: نعمتوں میں اضافے کا راز
اللہ تعالیٰ نے زندگی کی کامیابی کا ایک بہت بڑا فارمولا اس پارے میں دیا ہے: "اگر تم شکر کرو گے تو میں تمہیں اور زیادہ دوں گا، اور اگر ناشکری کرو گے تو میرا عذاب بہت سخت ہے”۔ یہ الٰہی قانون ہے کہ جو میسر نعمت پر اللہ کا احسان مانتا ہے، اللہ اس کے لیے مزید راستے کھول دیتا ہے۔ شکر صرف زبان سے نہیں بلکہ عمل سے بھی ہونا چاہیے، یعنی اللہ کی دی ہوئی نعمت کو اس کی نافرمانی میں استعمال نہ کیا جائے۔
10. حضرت ابراہیمؑ کی دعا اور مکہ کی آبادی
پارے کے آخر میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی وہ رقت آمیز دعا ہے جو انہوں نے مکہ کی وادی میں اپنے خاندان کو بساتے وقت کی تھی۔ آپؑ نے دعا کی کہ "اے میرے رب! اس شہر کو امن والا بنا دے اور مجھے اور میری اولاد کو بت پرستی سے بچا”۔ آپؑ نے نماز کی پابندی اور اپنے والدین کی مغفرت کی بھی دعا کی۔ یہ دعا ہمیں سکھاتی ہے کہ اپنی نسلوں کے ایمان اور ان کی نمازوں کی فکر کرنا والدین کی سب سے بڑی ذمہ داری ہے۔ اللہ نے اس دعا کو قبول کیا اور مکہ کو قیامت تک کے لیے مرکزِ ہدایت بنا دیا۔
YouTube Chakwal Plus Channel.
تیرہویں پارے سے حاصل ہونے والے 5 اہم عملی اسباق
نفس کا محاسبہ: روزانہ اپنا جائزہ لیں کہ کہیں آپ کا نفس آپ کو کسی برائی کی طرف تو نہیں اکسا رہا؟ توبہ اور استغفار کو اپنا معمول بنائیں۔
صبر کا صلہ: اگر آپ پر کوئی تہمت لگی ہے یا آپ کسی مشکل میں پھنس گئے ہیں، تو حضرت یوسفؑ کی طرح صبر کریں؛ اللہ آپ کی عزت کا دفاع خود فرمائے گا۔
ذکر کی کثرت: جب بھی پریشانی یا بے چینی محسوس ہو، تو موبائل یا لوگوں کے پاس جانے کے بجائے اللہ کے ذکر (تسبیح، تلاوت) میں سکون تلاش کریں۔
شکر گزاری کا مزاج: اپنی محرومیوں کا رونا رونے کے بجائے ان نعمتوں کو گنیں جو آپ کو ملی ہوئی ہیں۔ شکر سے آپ کی زندگی میں برکت آئے گی۔
نسلوں کی تربیت: اپنے بچوں کے لیے صرف دنیاوی مال و دولت نہ چھوڑیں بلکہ ان کے ایمان اور نماز کی فکر کریں، جیسا کہ حضرت ابراہیمؑ نے کی۔



