رمضان قرآن سیریز: بارہواں پارہ (وَمَا مِنْ دَابَّةٍ)
توکلِ مطلق، عروج و زوال کی تاریخ اور آزمائشِ انسانی
بارہواں پارہ دو حصوں پر منقسم ہے: پہلا حصہ سورہ ہود کا بقیہ حصہ ہے جو کہ ڈرانے اور تنبیہ (Warning) والا اسلوب رکھتا ہے، جبکہ دوسرا حصہ سورہ یوسف کا آغاز ہے جو کہ امید اور اللہ کی پوشیدہ تدبیر کا تذکرہ کرتا ہے۔ اس پارے کا مرکزی پیغام یہ ہے کہ کائنات کا ذرہ ذرہ اللہ کے حکم کا پابند ہے، رزق وہی دیتا ہے اور وہی ہے جو مظلوم کو کنویں کی گہرائی سے نکال کر تختِ شاہی پر بٹھاتا ہے۔
1. اللہ کی ربوبیت اور رزق کی عالمگیر ضمانت
پارے کا آغاز ایک نہایت پرکشش اور تسلی بخش آیت سے ہوتا ہے کہ زمین پر رینگنے والے معمولی کیڑے سے لے کر سمندر کی گہرائیوں میں موجود مچھلیوں اور آسمان کی بلندیوں میں اڑنے والے پرندوں تک، ہر جاندار کا رزق اللہ کے ذمے ہے۔ اللہ صرف رزق نہیں دیتا بلکہ وہ یہ بھی جانتا ہے کہ کون سی مخلوق کہاں رہتی ہے اور مرنے کے بعد کہاں جائے گی۔ یہ نکتہ انسان کو معاشی تنگی کے خوف سے نکال کر اللہ کی ذات پر "توکلِ مطلق” سکھاتا ہے کہ جب وہ ایک چیونٹی کو پتھر کے اندر رزق پہنچا سکتا ہے تو اشرف المخلوقات کو کبھی تنہا نہیں چھوڑے گا۔
2. حضرت نوحؑ کی طویل جدوجہد اور کشتی کی تعمیر
سورہ ہود میں حضرت نوح علیہ السلام کا تذکرہ بڑی تفصیل سے ہوا ہے۔ آپؑ نے ساڑھے نو سو سال اپنی قوم کو توحید کی دعوت دی، لیکن قوم نے انہیں دیوانہ کہا اور مذاق اڑایا۔ جب اللہ کا حکم آیا، تو آپؑ کو ایک عظیم کشتی بنانے کا حکم دیا گیا۔ قوم کے سردار پاس سے گزرتے ہوئے طنز کرتے کہ "خشک زمین پر کشتی کیوں بنا رہے ہو؟” یہاں داعیِ حق کے لیے سبق ہے کہ جب اللہ کا حکم آ جائے تو دنیا کے تمسخر کی پرواہ کیے بغیر اپنے مشن میں جٹ جانا چاہیے۔ یہ کشتی دراصل ایمان والوں کے لیے جائے پناہ اور منکرین کے لیے ہلاکت کا پیش خیمہ تھی۔
3. خون کے رشتے بمقابلہ نظریاتی رشتہ (بیٹے کا انجام)
جب طوفان آیا اور پانی کے تلاطم نے سب کچھ غرق کرنا شروع کیا، تو حضرت نوحؑ نے اپنے بیٹے کو آواز دی کہ "اے میرے بیٹے! ہمارے ساتھ سوار ہو جا، کافروں میں شامل نہ ہو”۔ بیٹے نے جواب دیا کہ "میں پہاڑ کی چوٹی پر چڑھ جاؤں گا جو مجھے پانی سے بچا لے گا”۔ حضرت نوحؑ نے فرمایا کہ "آج اللہ کے عذاب سے کوئی بچانے والا نہیں”۔ بیٹا نظروں کے سامنے غرق ہو گیا۔ یہ واقعہ ایک ابدی حقیقت واضح کرتا ہے کہ اللہ کے ہاں کامیابی کا معیار "ایمان” ہے نہ کہ "خون کے رشتے”۔ اگر اولاد یا خاندان حق کے راستے میں رکاوٹ ہو تو وہ نجات نہیں پا سکتے۔
4. قومِ عاد کی مادی طاقت اور حضرت ہودؑ کی پکار
پارے میں قومِ عاد کا تذکرہ ہے، جنہیں اللہ نے بے پناہ جسمانی قوت اور مادی وسائل دیے تھے۔ انہوں نے پہاڑوں کو تراش کر گھر بنائے اور اپنی طاقت کے نشے میں چور ہو گئے۔ حضرت ہودؑ نے انہیں توحید اور استغفار کی دعوت دی اور فرمایا کہ اگر تم توبہ کر لو تو اللہ تمہاری قوت میں مزید اضافہ کرے گا اور تم پر برکتوں کی بارش برسائے گا۔ لیکن انہوں نے سرکشی کی اور ایک ہولناک آندھی نے ان کا نام و نشان مٹا دیا۔ یہ نکتہ بتاتا ہے کہ مادی ترقی اور جدید ٹیکنالوجی اللہ کے عذاب کا مقابلہ نہیں کر سکتی اگر قوم اخلاقی طور پر گر جائے۔
5. قومِ ثمود اور اللہ کی نشانی (اونٹنی) کی بے حرمتی
حضرت صالح علیہ السلام کی قوم "ثمود” نے ایک معجزے کا مطالبہ کیا، جس پر اللہ نے پہاڑ سے ایک اونٹنی برآمد کی۔ انہیں حکم دیا گیا کہ اسے اللہ کی زمین پر چرنے دیں اور اسے کوئی تکلیف نہ پہنچائیں۔ مگر ان کی بدبخت قوم نے اونٹنی کی کونچیں کاٹ دیں اور اسے ذبح کر دیا۔ اس جرم کی پاداش میں ایک چنگھاڑ نے ان کے کلیجے پھاڑ دیے اور وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے۔ یہ سبق دیتا ہے کہ اللہ کی نشانیاں اور دین کے شعائر کا احترام نہ کرنے والی قومیں عبرت کا نشان بن جاتی ہیں۔
6. فرشتوں کی آمد اور حضرت ابراہیمؑ و حضرت لوطؑ کے احوال
اس پارے میں وہ منظر بھی بیان ہوا ہے جب فرشتے انسانی شکل میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس حضرت اسحاقؑ کی پیدائش کی خوشخبری لے کر آئے اور ساتھ ہی قومِ لوطؑ پر آنے والے عذاب کی اطلاع دی۔ حضرت ابراہیمؑ اپنی حلیمی کی وجہ سے قومِ لوطؑ کے لیے دعا کرنے لگے، لیکن فرشتوں نے بتایا کہ اب فیصلہ ہو چکا ہے۔ حضرت لوط علیہ السلام کی قوم بے حیائی کی اس انتہا پر تھی کہ انہوں نے آنے والے مہمانوں (فرشتوں) پر بھی بری نظر ڈالی۔ آخر کار اللہ نے ان کی بستی کو الٹ دیا اور ان پر پکی ہوئی مٹی کے پتھر برسائے۔ یہ واقعہ جنسی بے راہ روی اور غیر فطری افعال کے ہولناک انجام کی یاد دہانی ہے۔
7. قومِ مدین: معاشی بددیانتی اور ناپ تول میں کمی
حضرت شعیب علیہ السلام کی قوم تجارت پیشہ تھی لیکن ان کا سب سے بڑا گناہ "ناپ تول میں کمی” اور لوگوں کا مال مارنا تھا۔ حضرت شعیبؑ نے انہیں معاشی انصاف کا درس دیا اور فرمایا کہ "بقیۃ اللہ” (اللہ کا دیا ہوا حلال منافع) تمہارے لیے بہتر ہے۔ انہوں نے مذاق اڑاتے ہوئے کہا کہ "کیا آپ کی نماز ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ ہم اپنے مال کے ساتھ جو چاہیں وہ نہ کریں؟” یہاں یہ اہم نکتہ ملتا ہے کہ دین صرف عبادات کا نام نہیں بلکہ تجارت اور معاملات میں دیانتداری بھی ایمان کا لازمی حصہ ہے۔
8. سورہ یوسف: "احسن القصص” (بہترین قصہ) کا آغاز
پارے کے آخری حصے میں سورہ یوسف شروع ہوتی ہے، جسے اللہ نے "احسن القصص” (تمام قصوں میں سب سے بہترین) قرار دیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس میں انسانی نفسیات، صبر، عفت، حسد، محبت اور اللہ کی غیبی تدبیر کو ایک ہی کہانی میں سمیٹ دیا گیا ہے۔ اس سورت کا آغاز حضرت یوسفؑ کے اس خواب سے ہوتا ہے جس میں گیارہ ستارے اور سورج چاند انہیں سجدہ کر رہے ہیں۔ یہ خواب ایک عظیم الشان مستقبل کی نوید تھا، جس کی تعبیر برسوں بعد شاہِ مصر بننے کی صورت میں سامنے آئی۔
9. بھائیوں کا حسد اور کنویں کی تنہائی
حضرت یوسفؑ کے بھائیوں نے جب دیکھا کہ والد ان سے زیادہ محبت کرتے ہیں، تو ان کے دلوں میں حسد کی آگ بھڑک اٹھی۔ انہوں نے مشورہ کیا کہ یوسف کو قتل کر دیا جائے یا کہیں دور پھینک دیا جائے تاکہ والد کی توجہ صرف ہماری طرف ہو جائے۔ انہوں نے سازش کے تحت یوسفؑ کو ایک اندھیرے کنویں میں پھینک دیا اور باپ کے پاس خون آلود قمیص لا کر جھوٹ بولا کہ اسے بھیڑیا کھا گیا۔ یہ نکتہ ہمیں سکھاتا ہے کہ حسد انسان کو اپنے ہی بھائی کا دشمن بنا دیتا ہے اور انسان سمجھتا ہے کہ وہ اللہ کے منصوبے کو بدل سکتا ہے، حالانکہ اللہ کا منصوبہ ہی پورا ہو کر رہتا ہے۔
10. حضرت یعقوبؑ کا "صبرِ جمیل” اور پختہ یقین
جب حضرت یعقوب علیہ السلام کو یوسفؑ کے غائب ہونے کی خبر ملی، تو وہ باپ ہونے کے ناطے تڑپ اٹھے لیکن انہوں نے زبان سے کوئی شکوہ نہیں کیا۔ انہوں نے فرمایا: "فَصَبْرٌ جَمِيلٌ” (پس میرے لیے بہترین صبر ہی ہے)۔ یہ ایک پیغمبر کا وہ صبر ہے جس میں شکوہ نہیں ہوتا بلکہ صرف اللہ سے لو لگی ہوتی ہے۔ حضرت یعقوبؑ کا یہ طرزِ عمل ہمیں سکھاتا ہے کہ بڑی سے بڑی مصیبت میں بھی اللہ سے ناامید نہیں ہونا چاہیے، کیونکہ وہ اندھیروں کے بعد اجالا کرنے پر قادر ہے۔
بارہویں پارے سے حاصل ہونے والے 5 اہم عملی اسباق
رزق کی فکر چھوڑیں: جب اللہ نے ہر جاندار کے رزق کی ذمہ داری لی ہے، تو حرام طریقے سے مال کمانے کے بجائے حلال اور محنت کے راستے پر یقین رکھیں۔
نسلی غرور سے بچیں: حضرت نوحؑ کا بیٹا ہونے کے باوجود وہ نجات نہ پا سکا، اس لیے اپنی نسبتوں پر فخر کرنے کے بجائے اپنے اعمال درست کریں۔
معاشی دیانتداری: دکان، دفتر یا کاروبار میں ناپ تول اور وقت کی پابندی میں ڈنڈی نہ ماریں، قومِ شعیبؑ کی تباہی اسی بددیانتی کی وجہ سے ہوئی تھی۔
حسد کا علاج: اگر آپ کو لگے کہ کسی کے پاس آپ سے زیادہ نعمت ہے، تو جلنے کے بجائے اللہ سے اس کے لیے برکت اور اپنے لیے فضل کی دعا کریں۔
صبر کا راستہ: جب حالات آپ کے خلاف ہوں اور لوگ آپ کے ساتھ سازشیں کریں، تو یوسفؑ کے کنویں اور یعقوبؑ کے صبر کو یاد کریں؛ اللہ کا فیصلہ ہمیشہ آپ کے حق میں بہتر ہوگا۔



