دسواں پارہ (وَاعْلَمُوْا).. مالی شفافیت، ایمانی فراست اور نفاق کا بے نقاب ہونا

Spread the love

رمضان قرآن سیریز: دسواں پارہ (وَاعْلَمُوْا)

 مالی شفافیت، ایمانی فراست اور نفاق کا بے نقاب ہونا

دسواں پارہ دو اہم سورتوں، سورہ الانفال (بقیہ حصہ) اور سورہ التوبہ (ابتدائی حصہ) پر مشتمل ہے۔ یہ پارہ اسلامی ریاست کے دفاعی نظام، مالیاتی پالیسی اور داخلی و خارجی سیاست کا ایک جامع دستور ہے۔ اس میں جہاں غزوہ بدر کے بقیہ اسباق اور مالِ غنیمت کی تقسیم کے اصول ملتے ہیں، وہیں سورہ التوبہ کے ذریعے منافقین کے مکر و فریب کو مکمل طور پر بے نقاب کیا گیا ہے اور اسلام کے معاشی ستون "زکوٰۃ” کے مصارف بیان کیے گئے ہیں۔


1. مالِ غنیمت کی شرعی تقسیم (خمس کا قانون)

پارے کا آغاز مالِ غنیمت کے اہم قانون سے ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے واضح فرمایا کہ جنگ میں حاصل ہونے والے مال کا پانچواں حصہ (خمس) اللہ، اس کے رسول ﷺ، آپ کے قریبی رشتہ داروں، یتیموں، مسکینوں اور مسافروں کے لیے مخصوص ہے۔ بقیہ چار حصے مجاہدین میں تقسیم کیے جاتے ہیں۔ اس قانون کی حکمت یہ ہے کہ دولت صرف طاقتور طبقے تک محدود نہ رہے بلکہ معاشرے کے محروم طبقات تک بھی پہنچے۔ یہ نظام مالیاتی انصاف کی وہ بنیاد ہے جو اسلام نے چودہ سو سال پہلے رکھی تھی تاکہ بیت المال کے ذریعے معاشی توازن برقرار رہے۔

2. غزوہ بدر کے نفسیاتی اور تزویراتی اسباق

اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو وہ لمحات یاد دلائے جب وہ تعداد میں کم اور دشمن طاقتور تھا۔ پارے میں بتایا گیا کہ اللہ نے مسلمانوں پر "اونگھ” طاری کر دی تاکہ ان کے دلوں کو سکون ملے، اور آسمان سے بارش برسائی تاکہ قدم جم جائیں۔ دشمن کے دلوں میں رعب ڈال کر اللہ نے ثابت کیا کہ کامیابی مادی وسائل سے نہیں بلکہ اللہ کی نصرت سے ملتی ہے۔ مسلمانوں کو حکم دیا گیا کہ جب بھی دشمن سے مقابلہ ہو تو ثابت قدم رہو، اللہ کا ذکر کثرت سے کرو، آپس میں نہ جھگڑو ورنہ تمہاری ہوا اکھڑ جائے گی، اور اللہ و رسول ﷺ کی اطاعت کو مقدم رکھو۔

3. دفاعی تیاری اور طاقت کا توازن

قرآنِ کریم نے مسلمانوں کو عالمی سیاست میں باوقار رہنے کے لیے ایک سنہرا اصول دیا: "جہاں تک ہو سکے دشمن کے مقابلے کے لیے اپنی قوت اور پلے ہوئے گھوڑے (دفاعی ساز و سامان) تیار رکھو”۔ اس کا مقصد جنگ جوئی نہیں بلکہ امن کا قیام ہے، تاکہ کوئی دشمن مسلمانوں کو کمزور سمجھ کر حملہ کرنے کی جرات نہ کر سکے۔ تاہم، اگر دشمن صلح کی طرف مائل ہو، تو اسلام نے صلح کا ہاتھ بڑھانے کی تلقین کی ہے، کیونکہ اسلام کی اصل روح امن و سلامتی ہے، نہ کہ ناحق خون بہانا۔

4. سورہ التوبہ: مشرکین سے اعلانِ بیزاری

سورہ التوبہ اس پارے کا دوسرا بڑا حصہ ہے۔ یہ واحد سورت ہے جس کے آغاز میں "بسم اللہ” نہیں لکھی جاتی، جس کی ایک بڑی وجہ اس سورت کا جلال اور مشرکین کے ساتھ معاہدوں کے خاتمے کا اعلان ہے۔ اللہ نے ان مشرکین سے چار ماہ کی مہلت کے بعد برأت کا اعلان فرمایا جنہوں نے بار بار معاہدے توڑے اور مسلمانوں کو اذیت دی۔ یہ اعلانِ بیزاری دراصل حق و باطل کے درمیان ایک واضح لکیر کھینچنا تھا تاکہ جزیرہ نما عرب کو فتنہ و فساد سے پاک کیا جا سکے۔

5. مساجد کی تعمیر اور خدمتِ حرمین کا اصل معیار

مشرکینِ مکہ کو یہ گھمنڈ تھا کہ وہ خانہ کعبہ کی خدمت کرتے ہیں اور حاجیوں کو پانی پلاتے ہیں، اس لیے وہ اللہ کے پسندیدہ ہیں۔ قرآن نے اس مغالطے کو دور کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ کے نزدیک اصل معیار عمارتوں کی خدمت نہیں بلکہ "ایمان” اور "جہاد” ہے۔ اللہ کی مسجدیں وہی لوگ آباد کر سکتے ہیں جو اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتے ہوں، نماز قائم کرتے ہوں، زکوٰۃ دیتے ہوں اور اللہ کے سوا کسی سے نہ ڈریں۔ ایمان کے بغیر ظاہری خدمت کی اللہ کے ہاں کوئی قدر نہیں۔

6. غزوہ تبوک اور منافقین کا کردار

اس پارے میں غزوہ تبوک کے پس منظر میں منافقین کے رویے کو بڑی تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔ جب سخت گرمی کے موسم میں رومی سلطنت کے مقابلے کے لیے جہاد کا حکم آیا، تو منافقین نے مختلف بہانے تراشے۔ کسی نے گرمی کا عذر کیا، کسی نے اپنے گھریلو حالات کا، اور کچھ تو پیچھے رہنے کے لیے جھوٹی قسمیں کھانے لگے۔ اللہ نے ان کی ایک ایک چال کو بے نقاب کیا اور واضح فرمایا کہ جو لوگ اللہ کی راہ میں جان و مال سے جہاد کرنے میں سستی دکھاتے ہیں، وہ دراصل اپنے ایمان کی کمزوری کا ثبوت دیتے ہیں۔

7. زکوٰۃ کے آٹھ مصارف (Financial Structure)

دسویں پارے کی ایک نہایت اہم آیت وہ ہے جس میں زکوٰۃ کے آٹھ مصارف بیان کیے گئے ہیں۔ فرمایا گیا کہ زکوٰۃ صرف فقراء، مساکین، زکوٰۃ وصول کرنے والے ملازمین، تالیفِ قلب (جن کی دلجوئی مقصود ہو)، گردنیں آزاد کرانے (غلاموں یا قیدیوں)، قرض داروں، اللہ کی راہ میں (جہاد و خیر کے کام) اور مسافروں کے لیے ہے۔ یہ آیت اسلام کے سوشل ویلفیئر سسٹم کی بنیاد ہے، جو اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ زکوٰۃ کا پیسہ کہاں اور کن لوگوں پر خرچ ہونا چاہیے۔

8. سچے مومنین اور منافقین کا تقابل

اللہ تعالیٰ نے منافق مردوں اور عورتوں کی صفت یہ بیان کی کہ وہ "برائی کا حکم دیتے ہیں اور نیکی سے روکتے ہیں”۔ اس کے برعکس مومن مردوں اور عورتوں کی پہچان یہ ہے کہ وہ ایک دوسرے کے مددگار ہیں، نیکی کا حکم دیتے ہیں، برائی سے روکتے ہیں، نماز قائم کرتے ہیں اور زکوٰۃ دیتے ہیں۔ اللہ نے منافقین کے لیے دائمی جہنم اور مومنوں کے لیے جنت کے ایسے باغات کا وعدہ کیا ہے جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں۔ یہ تقابل قاری کو دعوت دیتا ہے کہ وہ اپنا محاسبہ کرے کہ اس کا عمل کس گروہ سے ملتا جلتا ہے۔


💡 دسویں پارے سے حاصل ہونے والے 5 عملی اسباق

  1. دولت کی گردش: زکوٰۃ اور خمس کے احکامات ہمیں سکھاتے ہیں کہ اپنی کمائی میں سے معاشرے کے پسماندہ طبقات کا حصہ نکالنا فرض ہے تاکہ معاشرے میں غربت کا خاتمہ ہو۔

  2. اتفاق میں برکت: غزوہ بدر کا سبق یاد رکھیں کہ آپس کے جھگڑے آپ کی طاقت کو کمزور کر دیتے ہیں۔ اتحاد اور نظم و ضبط ہی کامیابی کی کلید ہے۔

  3. مساجد کی آبادی: مساجد کو صرف اینٹ اور گارے سے نہیں بلکہ نماز، ذکر اور ایمان سے آباد کریں۔ مسجد کا انتظام صرف نیک اور متقی لوگوں کے ہاتھ میں ہونا چاہیے۔

  4. بہانوں سے بچیں: منافقین کی طرح دین کے کاموں میں سستی اور بہانے بازی نہ کریں، بلکہ مشکل حالات میں بھی دین کی نصرت کے لیے تیار رہیں۔

  5. دوستی اور دشمنی کا معیار: اپنی وفاداریوں کا معیار ایمان کو بنائیں۔ جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے وفادار ہیں، وہی آپ کے سچے دوست ہونے چاہئیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے