رمضان قرآن سیریز
مضان قرآن سیریز: تیسرا پارہ (تِلْكَ الرُّسُلُ)
مرکزِ نگاہ: ایمان کی پختگی، معاشی عدل اور انسانی معاملات کی شفافیت
تیسرا پارہ قرآنی تعلیمات کا وہ سنگِ میل ہے جہاں عقیدہ (ایمان) اور عمل (شریعت) ایک دوسرے کے ساتھ پیوست نظر آتے ہیں۔ دوسرے پارے میں ہم نے عبادات اور معاشرتی قوانین کا مطالعہ کیا، اب تیسرا پارہ ان قوانین کی روح کو واضح کرتا ہے۔ یہ پارہ ہمیں بتاتا ہے کہ ایک سچے مومن کا معاشی رویہ کیسا ہونا چاہیے، اس کا اللہ پر توکل کتنا گہرا ہونا چاہیے اور اس کے لین دین میں کتنی شفافیت ہونی چاہیے۔
1. رسالت کی عظمت اور درجات کا فرق
پارے کا آغاز "تِلْكَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ” سے ہوتا ہے۔
علمی نکتہ: اللہ تعالیٰ نے تمام رسولوں کو ایک ہی مشن (توحید) دے کر بھیجا، لیکن ان کے درجات اور خصوصیات میں فرق رکھا۔ کسی کو ‘کلیم اللہ’ بنایا، کسی کو ‘روح اللہ’ اور کسی کو ‘رحمت للعالمین’۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ انسانیت میں بھی فضیلت کا معیار اللہ کا انتخاب اور اس کی عطا کردہ ذمہ داری ہے۔
اختلاف کی حقیقت: اسی حصے میں بتایا گیا کہ رسولوں کے جانے کے بعد لوگوں نے آپس میں اختلافات کیے، حالانکہ نشانیاں واضح تھیں۔ یہ امت کے لیے ایک تنبیہ ہے کہ تفرقہ بازی سے بچ کر توحیدِ خالص پر قائم رہنا ہی نجات کا راستہ ہے۔
2. آیت الکرسی: توحید کا شاہکار
اگرچہ آپ اس کا خلاصہ الگ لکھیں گے، لیکن ترتیب کے لحاظ سے یہ اس پارے کا قلب (Center) ہے۔ یہ آیت مومن کے عقیدے کو وہ مضبوطی عطا کرتی ہے کہ اسے کائنات کی کسی بڑی سے بڑی طاقت سے خوف محسوس نہیں ہوتا۔ یہ اللہ کی بادشاہت، اس کے علمِ محیط اور اس کی دائمی زندگی کا اعلان ہے۔
3. دین میں جبر کی ممانعت (آزادیِ ضمیر)
آیت الکرسی کے فوراً بعد ایک عظیم انسانی منشور بیان ہوا: "لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ”۔
اسلام زبردستی کسی کا عقیدہ تبدیل کرنے کا قائل نہیں، کیونکہ ہدایت اور گمراہی کے راستے عقل کی بنیاد پر واضح کر دیے گئے ہیں۔
طاغوت سے بیزاری: سچا ایمان وہی ہے جو پہلے باطل قوتوں (طاغوت) کا انکار کرے اور پھر اللہ پر ایمان لائے۔ یہ "مضبوط کڑے” (العروۃ الوثقیٰ) کی مانند ہے جو کبھی ٹوٹ نہیں سکتا۔
4. مشاہدہِ حق: یقین کی پختگی کے تین واقعات
ایمان کو "ایمانِ غیب” سے اٹھا کر "عین الیقین” تک لے جانے کے لیے اللہ نے تین تاریخی مثالیں ذکر فرمائیں:
الف) نمرود اور ابراہیمؑ کا علمی مناظرہ:
جب وقت کے جابر بادشاہ نے ربوبیت کا دعویٰ کیا، تو حضرت ابراہیمؑ نے اسے دلیل سے شکست دی۔ نمرود نے کہا "میں مارتا اور جلاتا ہوں”، ابراہیمؑ نے کائنات کی بڑی حقیقت پیش کی: "میرا رب سورج کو مشرق سے لاتا ہے، تو اسے مغرب سے لے آ”۔ اس واقعے سے یہ سبق ملتا ہے کہ حق کے لیے علمی اور منطقی جدوجہد ضروری ہے۔
ب) موت کے بعد زندگی کی مثال (حضرت عزیرؑ کا قصہ):
ایک ایسی بستی کا تذکرہ ہے جو کھنڈر بن چکی تھی۔ جب ایک بندے نے اس کی دوبارہ زندگی پر تعجب کیا، تو اللہ نے اسے سو سال تک موت دی اور پھر اسے %D
