رمضان قرآن سیریز: اٹھائیسواں پارہ (قَدْ سَمِعَ اللّٰهُ)
گھریلو قوانین، معاشرتی آداب اور منافقین کی علامات کا جامع بیان۔
1. سورہ المجادلہ: اللہ ہر پکار سننے والا ہے
پارے کا آغاز ایک خاتون (خولة بنت ثعلبہ) کے واقعے سے ہوتا ہے جو اپنے شوہر کی شکایت لے کر نبی کریم ﷺ کے پاس آئی تھیں۔ اللہ نے ان کی فریاد سنی اور "ظہار” (بیوی کو ماں کہہ دینا) کے حوالے سے قانون نازل فرمایا۔ یہ نکتہ سکھاتا ہے کہ اللہ اپنے بندوں کی ہر خفیہ اور اعلانیہ پکار سے باخبر ہے اور اسلام میں عورتوں کے حقوق کا خاص تحفظ کیا گیا ہے۔
2. سورہ الحشر: بنو نضیر کی جلاوطنی اور عبرت
اس سورت میں مدینہ کے یہودی قبیلے بنو نضیر کی بدعہدی اور ان کی جلاوطنی کا ذکر ہے۔ اللہ نے واضح فرمایا کہ ان کے مضبوط قلعے بھی انہیں اللہ کے عذاب سے نہ بچا سکے۔ اسی سورت میں مالِ فئے (بغیر جنگ کے حاصل ہونے والا مال) کی تقسیم کے اصول بیان کیے گئے تاکہ دولت صرف چند ہاتھوں میں گردش نہ کرتی رہے۔
3. اللہ کے اسمائے حسنیٰ کی عظمت
سورہ الحشر کا اختتام اللہ تعالیٰ کی عظیم صفات اور اس کے خوبصورت ناموں پر ہوتا ہے۔ اللہ نے فرمایا کہ اگر ہم اس قرآن کو کسی پہاڑ پر نازل کرتے تو وہ اللہ کے خوف سے ریزہ ریزہ ہو جاتا۔ یہ آیات ہمیں اللہ کی معرفت، اس کی قدرت اور اس کی بڑائی کا احساس دلاتی ہیں۔
4. سورہ الممتحنہ: ایمان کی آزمائش اور دشمن سے دوستی
اس سورت میں مسلمانوں کو ہدایت دی گئی کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے دشمنوں سے خفیہ دوستی نہ رکھی جائے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی مثال دی گئی کہ انہوں نے اپنی مشرک قوم سے لاتعلقی کا اظہار کیا۔ نیز ہجرت کر کے آنے والی خواتین کے ایمان کی جانچ کرنے کا حکم دیا گیا تاکہ منافقین کی سازشوں سے بچا جا سکے۔
5. سورہ الصف: سیسہ پلائی ہوئی دیوار
اللہ تعالیٰ کو وہ مومن پسند ہیں جو اس کے راستے میں اس طرح مل کر لڑتے ہیں جیسے وہ ایک "سیسہ پلائی ہوئی دیوار” ہوں۔ اس سورت میں اتحادِ امت اور اپنے قول و فعل میں تضاد نہ رکھنے کی سخت تاکید کی گئی ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وہ پیش گوئی بھی ذکر کی گئی ہے جس میں انہوں نے نبی کریم ﷺ کی آمد کی بشارت دی تھی۔
6. سورہ الجمعہ: نمازِ جمعہ کی اہمیت اور نبوی مشن
اس سورت میں نبی کریم ﷺ کی بعثت کے چار مقاصد بیان ہوئے: آیات کی تلاوت، تزکیہ نفس، تعلیمِ کتاب اور تعلیمِ حکمت۔ مسلمانوں کو حکم دیا گیا کہ جب جمعہ کی اذان ہو جائے تو کاروبار چھوڑ کر ذکرِ الٰہی کی طرف دوڑیں اور نماز کے بعد زمین میں رزق تلاش کریں۔ یہ نکتہ دین اور دنیا کے درمیان توازن سکھاتا ہے۔
7. سورہ المنافقون: منافقت سے بچاؤ کی تدابیر
اس سورت میں منافقین کے جھوٹے حلف اور ان کی بدنیتی کا پردہ چاک کیا گیا ہے۔ اللہ نے مسلمانوں کو متنبہ کیا کہ تمہارا مال اور تمہاری اولاد تمہیں اللہ کے ذکر سے غافل نہ کر دیں۔ منافقت کی ایک نشانی اللہ کے راستے میں خرچ نہ کرنا بھی بتائی گئی ہے۔
8. سورہ التغابن: نفع اور نقصان کا دن
"تغابن” کا مطلب ہے ہار جیت کا دن (قیامت)۔ اللہ فرماتا ہے کہ دنیا میں ایمان لانے والے اس دن کامیاب ہوں گے اور کفر کرنے والے خسارے میں رہیں گے۔ اس سورت میں آزمائش کے وقت صبر کرنے اور اہل و عیال کے فتنے سے بچنے کی تلقین کی گئی ہے۔
9. سورہ الطلاق: خاندانی قوانین اور تقویٰ
اس سورت کو "سورہ نساء صغریٰ” بھی کہا جاتا ہے۔ اس میں طلاق کے صحیح طریقے، عدت کے احکامات اور نان و نفقہ کی تفصیلات بیان کی گئی ہیں۔ اللہ نے بار بار تاکید کی کہ جو اللہ سے ڈرے گا (تقویٰ اختیار کرے گا)، اللہ اس کے لیے نکلنے کا راستہ بنا دے گا اور اسے ایسی جگہ سے رزق دے گا جہاں سے اس کا گمان بھی نہ ہوگا۔
10. سورہ التحریم: گھر کی اصلاح اور مثالی خواتین
پارے کے آخر میں گھریلو زندگی میں حلال و حرام کے حدود اور رازداری کی اہمیت بیان ہوئی ہے۔ اللہ نے عبرت کے لیے نوحؑ اور لوطؑ کی بیویوں کا ذکر کیا جو نبی کے گھر میں ہونے کے باوجود کفر کی وجہ سے ہلاک ہوئیں، اور مثال کے طور پر فرعون کی بیوی (آسیہؑ) اور حضرت مریمؑ کا ذکر کیا جنہوں نے کفر کے ماحول میں بھی ایمان کی حفاظت کی۔
اٹھائیسویں پارے سے حاصل ہونے والے 5 عملی اسباق
قول و فعل میں مطابقت: جو بات کہو اس پر عمل بھی کرو، کیونکہ اللہ کے نزدیک یہ سخت ناپسندیدہ ہے کہ انسان کہے کچھ اور کرے کچھ۔
اتحاد میں طاقت ہے: مسلمانوں کو سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر رہنا چاہیے؛ گروہ بندی اور تفرقہ کمزوری کی علامت ہے۔
تقویٰ اور رزق: ہر تنگی کا حل تقویٰ میں ہے۔ جو اللہ سے ڈرتا ہے، اللہ اس کی مشکلیں آسان کر دیتا ہے۔
گھر کی اصلاح: اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو جہنم کی آگ سے بچائیں؛ نیکی کی دعوت گھر سے شروع ہونی چاہیے۔
ذکرِ الٰہی سے غفلت نہ برتیں: دنیا کی رنگینیاں، مال اور اولاد ہمیں اللہ کی یاد اور فرائض سے دور نہ کر دیں۔



