رمضان قرآن سیریز: ستائیسواں پارہ (قَالَ فَمَا خَطْبُكُمْ)
اللہ کی قدرت کے مظاہر، جزا و سزا کا برحق ہونا اور انفاق فی سبیل اللہ
ستائیسواں پارہ قرآنِ مجید کے خوبصورت ترین حصوں میں سے ایک ہے۔ اس میں کائنات کی تخلیق، اللہ کی بے شمار نعمتوں، جنت و دوزخ کے مناظر اور دلوں کو نرم کر دینے والی نصیحتیں موجود ہیں۔ یہ پارہ انسان کو دنیا کی حقیقت بتا کر اسے اپنے رب کی طرف متوجہ کرتا ہے۔
1. سورہ الذاریات: حضرت ابراہیمؑ کے مہمان اور قومِ لوط کا انجام
پارے کے آغاز میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس آنے والے معزز مہمانوں (فرشتوں) کا ذکر ہے جنہوں نے بڑھاپے میں انہیں بیٹے کی بشارت دی۔ اسی کے ساتھ ہی قومِ لوط کی ہلاکت کا تذکرہ ہے جن پر ان کی بدکاریوں کی وجہ سے پکے ہوئے پتھر برسائے گئے۔ یہ واقعات بتاتے ہیں کہ اللہ اپنے نیک بندوں کی مدد فرماتا ہے اور نافرمانوں کو عبرت کا نشان بنا دیتا ہے۔
2. سورہ الطور: منکرینِ حق کے لیے سخت وعید
اس سورت کا آغاز جبلِ طور، لکھی ہوئی کتاب اور بیتِ معمور کی قسموں سے ہوتا ہے، جس کا مقصد یہ بتانا ہے کہ اللہ کا عذاب برحق ہے اور اسے کوئی ٹال نہیں سکتا۔ سورت کے آخر میں منکرینِ حق کے ان لایعنی اعتراضات کا جواب دیا گیا ہے جو وہ نبی کریم ﷺ پر کرتے تھے۔ اللہ فرماتا ہے کہ یہ لوگ خود اپنی تخلیق پر غور کیوں نہیں کرتے؟ کیا یہ کسی خالق کے بغیر پیدا ہو گئے ہیں؟
3. سورہ النجم: واقعہ معراج اور وحی کی سچائی
سورہ النجم میں نبی کریم ﷺ کے سفرِ معراج اور وحی کی حقانیت بیان کی گئی ہے۔ اللہ نے واضح فرمایا کہ نبی ﷺ اپنی خواہشِ نفس سے کچھ نہیں بولتے، بلکہ وہ وہی کہتے ہیں جو ان پر وحی کی جاتی ہے۔ اسی سورت میں "سدرۃ المنتہیٰ” کا ذکر ہے جہاں آپ ﷺ نے اللہ کی بڑی بڑی نشانیاں دیکھیں۔ یہ سورت مشرکین کے خود ساختہ معبودوں کی نفی کرتی ہے اور بتاتی ہے کہ انسان کے لیے وہی کچھ ہے جس کی اس نے کوشش کی۔
4. سورہ القمر: معجزہ شقِ قمر اور قرآن کی آسانی
اس سورت کا آغاز چاند کے دو ٹکڑے ہونے کے عظیم معجزے سے ہوتا ہے، جسے دیکھ کر بھی مشرکین نے جادو قرار دیا۔ اس سورت کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں ایک آیت چار بار دہرائی گئی ہے: "اور ہم نے قرآن کو سمجھنے کے لیے آسان کر دیا ہے، تو کیا ہے کوئی نصحیت حاصل کرنے والا؟” یہ آیت ہر مسلمان کو دعوت دیتی ہے کہ وہ قرآن کو سمجھ کر پڑھے۔ اس میں قومِ نوح، عاد، ثمود اور فرعونیوں کے عبرتناک انجام کا ذکر بھی ہے۔
5. سورہ الرحمن: اللہ کی نعمتوں کا عالمگیر تذکرہ
سورہ الرحمن کو "عروس القرآن” (قرآن کی دلہن) کہا جاتا ہے۔ اس میں اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت اور نعمتوں کا ذکر اتنے خوبصورت انداز میں کیا ہے کہ انسان کا دل شکر سے بھر جاتا ہے۔ "پس تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟” کی تکرار جن و انس کو جھنجھوڑتی ہے۔ اس میں سمندروں کا ملنا، موتیوں کا نکلنا، زمین و آسمان کا نظام اور انسان کی مٹی سے تخلیق کا ذکر ہے۔
6. فنا اور بقا کا فلسفہ
سورہ الرحمن میں ایک بڑی حقیقت بیان کی گئی ہے کہ اس کائنات کی ہر چیز فنا ہونے والی ہے، صرف اللہ کی ذات ہے جو ہمیشہ رہنے والی ہے۔ اللہ نے جنت کے دو باغوں اور ان میں موجود نعمتوں، حوروں اور پھلوں کا ذکر کر کے انسان کو اس ابدی زندگی کی طرف راغب کیا ہے جہاں کوئی دکھ اور پریشانی نہیں ہوگی۔
7. سورہ الواقعہ: قیامت کی تین اقسام اور گروہ بندی
سورہ الواقعہ میں قیامت کے دن لوگوں کو تین گروہوں میں تقسیم کیا گیا ہے: (1) سابقون (سبقت لے جانے والے)، (2) اصحاب الیمین (دائیں ہاتھ والے/کامیاب)، اور (3) اصحاب الشمال (بائیں ہاتھ والے/ناکام)۔ ان تینوں گروہوں کے انجام اور انہیں ملنے والی جزا و سزا کا مفصل تذکرہ کیا گیا ہے تاکہ ہر انسان اپنا مقام پہچان لے۔
8. تخلیقِ انسانی اور نظامِ قدرت پر دلائل
سورہ الواقعہ میں اللہ نے دوبارہ جی اٹھنے پر چار بڑی دلیلیں دی ہیں: انسان کی اپنی پیدائش (نطفہ)، بیج کا اگنا (زراعت)، بادلوں سے میٹھا پانی برسنا، اور لکڑی سے آگ کا نکلنا۔ اللہ فرماتا ہے کہ جو خدا یہ سب کچھ کر سکتا ہے، کیا وہ تمہیں دوبارہ پیدا کرنے پر قادر نہیں؟ یہ نکات ملحدین اور منکرینِ آخرت کے لیے خاموش کر دینے والے جوابات ہیں۔
9. سورہ الحدید: اللہ کی تسبیح اور انفاق فی سبیل اللہ
اس سورت کا آغاز اللہ کی تسبیح اور اس کی صفات (اول، آخر، ظاہر، باطن) سے ہوتا ہے۔ اللہ نے مسلمانوں کو تاکید فرمائی ہے کہ وہ اللہ کے راستے میں مال خرچ کریں۔ فرمایا کہ فتحِ مکہ سے پہلے خرچ کرنے والوں کا درجہ بعد میں خرچ کرنے والوں سے بہت بڑا ہے۔ یہ سورت ہمیں سکھاتی ہے کہ دین کے لیے قربانی کا صحیح وقت وہی ہے جب اسلام کو اس کی ضرورت ہو۔
10. دنیاوی زندگی کی حقیقت اور تقویٰ
پارے کے آخر میں دنیاوی زندگی کو ایک کھیل تماشہ، زینت، فخر اور مال و اولاد کی کثرت کی دوڑ قرار دیا گیا ہے۔ اس کی مثال اس بارش جیسی ہے جس سے ہریالی پیدا ہوتی ہے لیکن پھر وہ خشک ہو کر چورا چورا ہو جاتی ہے۔ اصل کامیابی اللہ کی مغفرت اور اس کی جنت ہے جس کی چوڑائی آسمان و زمین کے برابر ہے۔
ستائیسویں پارے سے حاصل ہونے والے 5 عملی اسباق
قرآن سے تعلق: قرآن سیکھنے کے لیے آسان ہے، ہمیں روزانہ اسے سمجھ کر پڑھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
شکر گزاری: اللہ کی ان گنت نعمتوں پر ہر حال میں "الحمدللہ” کہنا اپنی عادت بنائیں۔
آخرت کی تیاری: اپنی زندگی کے اعمال کو دیکھیں کہ ہم قیامت کے دن کس گروہ (دائیں ہاتھ والے یا بائیں والے) میں شامل ہوں گے؟
اللہ کے راستے میں خرچ: مال اللہ کی امانت ہے، اسے نیک کاموں اور ضرورت مندوں پر خوش دلی سے خرچ کریں۔
دنیا کی حقیقت: دنیا کو ضرورت کی حد تک رکھیں، اسے دل میں نہ بسائیں کیونکہ یہ ایک عارضی مسافر خانہ ہے۔



