رمضان قرآن سیریز: پچیسویں پارہ (اِلَيْهِ يُرَدُّ)
توحیدِ باری تعالیٰ، نظامِ مشاورت اور دنیا کی بے ثباتی
یہ پارہ عقائد کی پختگی، کائناتی حقائق اور معاشرتی نظم و ضبط کا بہترین مجموعہ ہے۔ اس میں شرک کی نفی اور سنتِ انبیاء کی پیروی پر زور دیا گیا ہے۔ اس کا بنیادی پیغام یہ ہے کہ کائنات کا ذرہ ذرہ اللہ کے قبضۂ قدرت میں ہے اور اصل کامیابی آخرت کی ابدی زندگی کی تیاری میں ہے۔
1. علمِ غیب کا اختصاصِ الٰہی
پارے کا آغاز اس عظیم حقیقت سے ہوتا ہے کہ قیامت کا علم صرف اللہ ہی کے پاس ہے۔ پھلوں کا اپنے شگوفوں سے نکلنا ہو یا کسی ماں کے پیٹ میں موجود بچے کی کیفیت، یہ تمام پوشیدہ حقائق صرف باری تعالیٰ کے علمِ محیط میں ہیں۔ انسان کو یہ سبق دیا گیا ہے کہ وہ غیر ضروری کرید کے بجائے اس دن کی تیاری کرے جب اسے اپنے رب کے سامنے پیش ہونا ہے۔
2. سورہ الشوریٰ: دین کی وحدت اور اتحادِ امت
اس سورت میں واضح کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمام انبیاء کو ایک ہی دین (اسلام) کی وصیت فرمائی تھی۔ تمام رسولوں کا بنیادی پیغام ایک ہی تھا، لہٰذا مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ دین میں تفرقہ نہ ڈالیں بلکہ اتحاد و اتفاق قائم رکھیں۔ یہ نکتہ ہمیں سکھاتا ہے کہ گروہ بندی کے بجائے اصل دین کی پیروی ہی نجات کا راستہ ہے۔
3. باہمی مشاورت: اسلامی معاشرت کا ستون
مسلمانوں کی ایک بڑی صفت یہ بیان کی گئی ہے کہ ان کے اہم معاملات "باہمی مشورے” (شوریٰ) سے طے پاتے ہیں۔ یہ اصول ہمیں سکھاتا ہے کہ چاہے گھر ہو، کاروبار ہو یا ملکی نظام، انفرادی من مانی کے بجائے دوسروں کی رائے کا احترام کرنے اور اجتماعی مشاورت میں ہی خیر اور برکت پوشیدہ ہے۔
4. اللہ کی بے مثالی (لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ)
عقیدہ توحید کے باب میں یہ اس پارے کی سب سے اہم آیت ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ کائنات میں کوئی بھی چیز اس کے مشابہ نہیں ہے۔ وہ اپنی ذات اور اپنی صفات میں یکتا اور بے مثال ہے۔ اس کا علم، اس کی قدرت اور اس کی سماعت مخلوق جیسی نہیں ہے۔ یہ نکتہ انسان کے دل میں اللہ کی عظمت اور اس کی ہیبت پیدا کرتا ہے۔
5. رزق کی تقسیم میں مصلحتِ الٰہی
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر وہ اپنے تمام بندوں کے لیے رزق بہت زیادہ وسیع کر دیتا تو زمین میں فساد اور سرکشی پھیل جاتی۔ اللہ اپنی مصلحت کے مطابق ایک خاص مقدار میں رزق نازل کرتا ہے۔ یہ آیت ہمیں اللہ کی تقسیم پر راضی رہنے کا سبق دیتی ہے کہ وہ بہتر جانتا ہے کہ کس بندے کے لیے کتنی دولت آزمائش بنے گی اور کتنی اس کے لیے راحت کا سبب ہوگی۔
6. سورہ الزخرف: دنیاوی جاہ و جلال کی حقیقت
اس سورت میں دنیا کی چمک دمک کی حقیقت بیان کی گئی ہے۔ اللہ فرماتا ہے کہ اگر یہ خطرہ نہ ہوتا کہ تمام لوگ کافر ہو جائیں گے، تو اللہ کافروں کے گھروں کی چھتیں اور سیڑھیاں بھی چاندی کی بنا دیتا۔ یہ واضح کرتا ہے کہ اللہ کے نزدیک دنیا کی مال و دولت کی کوئی قدر و قیمت نہیں ہے؛ یہ محض چند روزہ سامان ہے، جبکہ اصل مقامِ عزت تو پرہیزگاروں کے لیے آخرت میں محفوظ ہے۔
7. حضرت ابراہیمؑ: خالص بندگی کا نمونہ
سورہ الزخرف میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کا تذکرہ ہے جنہوں نے اپنی قوم اور باپ کے غلط نظریات سے دو ٹوک اعلانِ بیزاری کیا۔ انہوں نے فرمایا کہ "میں صرف اس کی بندگی کرتا ہوں جس نے مجھے پیدا کیا ہے”۔ یہ واقعہ ہمیں سکھاتا ہے کہ حق کے معاملے میں کسی قسم کی لچک نہیں دکھانی چاہیے اور ہر حال میں توحید پر قائم رہنا چاہیے۔
8. سورہ الدخان: نزولِ قرآن کی مبارک رات
اس سورت کا آغاز قرآنِ کریم کی عظمت سے ہوتا ہے۔ اللہ نے اسے ایک "مبارک رات” میں نازل کرنا شروع کیا۔ اس رات میں حکمت والے فیصلے (موت، زندگی، رزق اور سال بھر کے معاملات) فرشتوں کے حوالے کیے جاتے ہیں۔ یہ رات اللہ کی خاص رحمت کا مظہر ہے اور اس میں اللہ کی طرف رجوع کرنا انسان کی تقدیر بدل دیتا ہے۔
9. فرعون کا زوال اور مادی طاقت کی نفی
سورہ الدخان میں فرعون اور اس کے لشکر کا عبرتناک انجام بیان کیا گیا ہے۔ وہ باغات، چشمے اور محلات جن پر فرعونیوں کو ناز تھا، ایک لمحے میں دوسروں کے وارث بن گئے۔ اللہ فرماتا ہے کہ ان کے ہلاک ہونے پر نہ زمین روئی اور نہ آسمان۔ یہ ان لوگوں کے لیے تنبیہ ہے جو اپنی طاقت اور وسائل کے زعم میں اللہ کے احکامات کو فراموش کر دیتے ہیں۔
10. سورہ الجاثیہ: اتباعِ شریعت کی اہمیت
پارے کے آخر میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم نے آپ ﷺ کو دین کے ایک واضح اور صاف راستے (شریعت) پر قائم کیا ہے، لہٰذا آپ اسی کی پیروی کریں اور نادان لوگوں کی خواہشات کے پیچھے نہ چلیں۔ یہ نکتہ ہمیں بتاتا ہے کہ کامیابی صرف اور صرف اللہ کے بتائے ہوئے قوانین اور حدود کی پابندی میں ہے، نہ کہ اپنی عقل یا نفس کی پیروی میں۔
پچیسویں پارے سے حاصل ہونے والے 5 عملی اسباق
مکمل توکل: ہر نفع اور نقصان کا مالک صرف اللہ کو سمجھیں اور اپنی حاجتیں اسی کے سامنے پیش کریں۔
مشاورت کو اپنائیں: اپنے فیصلوں میں گھر کے افراد اور مخلص ساتھیوں کو شامل کریں تاکہ برکت حاصل ہو۔
قناعت پسندی: اللہ نے جو رزق دیا ہے اس پر شکر کریں اور دوسروں کی دولت دیکھ کر حسد یا احساسِ کمتری کا شکار نہ ہوں۔
آخرت کی فکر: دنیا کے مال و متاع کو عارضی سمجھیں اور اپنی اصل توانائی آخرت کے دائمی گھر کی تعمیر میں لگائیں۔
شریعت کی پابندی: زندگی کے ہر موڑ پر دیکھیں کہ اللہ کا حکم کیا ہے، اور اپنی خواہشات کو شریعت کے تابع کر دیں۔


