پنڈی صرف شہر نہیں، ایک مکمل قدرتی دنیا — پنج پیر راکس کہوٹہ کی حیران کن خوبصورتی
پنڈی صرف اندرون شہر نہیں
زیادہ تر لوگ راولپنڈی کو صرف شہر تک محدود سمجھتے ہیں۔
حالانکہ پنڈی صرف بازاروں اور سڑکوں کا نام نہیں۔
یہ ضلع پانچ تحصیلوں پر مشتمل ایک وسیع خطہ ہے۔
بیشتر سیاح صرف مری تک جا کر واپس آ جاتے ہیں۔
لیکن کہوٹہ اور کلر سیداں جیسے علاقے ابھی بھی بہت سے لوگوں کے لیے اجنبی ہیں۔
کہوٹہ — قدرت کے قریب ایک خاموش دنیا
کہوٹہ راولپنڈی کا ایک خوبصورت مگر کم معروف علاقہ ہے۔
یہاں پہاڑ، جنگلات اور قدرتی مناظر اپنی اصل شکل میں موجود ہیں۔
اسی علاقے میں واقع ہیں مشہور پنج پیر راکس۔
یہ مقام اسلام آباد سے تقریباً 80 کلومیٹر دور ہے۔
سفر میں لگ بھگ تین گھنٹے لگتے ہیں۔
پنج پیر راکس تک سفر
اسلام آباد سے سفر کا راستہ کچھ یوں بنتا ہے۔
کاک پل۔
کہوٹہ روڈ۔
کہوٹہ شہر۔
آزاد پتن روڈ۔
پنجڑ قصبہ۔
یہاں سے ایک بلند ذیلی سڑک نڑھ گاؤں کی طرف جاتی ہے۔
یہ راستہ تقریباً 6 ہزار فٹ بلندی تک پہنچاتا ہے۔
فور بائے فور گاڑی راکس تک پہنچ سکتی ہے۔
عام گاڑی کو ایک کلومیٹر پہلے روکنا پڑتا ہے۔
خطرناک مگر دلکش چٹانیں
پنج پیر راکس ہزاروں فٹ گہری کھائی کے اوپر معلق محسوس ہوتی ہیں۔
نیچے لہتراڑ کی سمت خطرناک گہرائی موجود ہے۔
اسی وجہ سے ان راکس کو دنوئی رج بھی کہا جاتا ہے۔
یہ منظر سیاحوں کو حیران کر دیتا ہے۔
ایک جگہ سے پورا شمالی پاکستان
اس مقام کی سب سے بڑی خاصیت اس کا وسیع نظارہ ہے۔
یہاں سے نظر آتے ہیں:
دریائے جہلم اور وادی جہلم۔
کشمیر کی برف پوش پیر پنجل رینج۔
کاغان کی مکڑا پیک۔
موسیٰ کا مصلہ۔
گلیات کے مکشپوری اور ایوبیہ۔
مری کی پہاڑیاں۔
مارگلہ ہلز۔
ایک ہی جگہ سے اتنے مناظر دیکھنا واقعی حیران کن تجربہ ہے۔
دیوزاد چٹانیں — قدرت کا عجوبہ
پنج پیر راکس کی اصل پہچان یہاں کی عظیم الجثہ چٹانیں ہیں۔
یہ چٹانیں پورے علاقے میں پھیلی ہوئی ہیں۔
کچھ چٹانیں اتنی بڑی ہیں کہ:
پورا جنگل ان پر سما جاتا ہے۔
حتیٰ کہ ایک مکمل گاؤں بھی ایک چٹان پر آباد محسوس ہوتا ہے۔
یہ منظر قدرتی طاقت کا واضح ثبوت ہے۔
پنڈی کی اصل خوبصورتی
ہم اکثر پنڈی کا ذکر صرف شہر تک محدود کر دیتے ہیں۔
حقیقت میں راولپنڈی پاکستان کے خوبصورت ترین خطوں میں شامل ہے۔
یہاں قدرت، پہاڑ، تاریخ اور خاموشی سب ایک ساتھ ملتے ہیں۔
مہم جوئی اور قدرتی حسن
اگر آپ پاکستان کے کم دیکھے گئے مقامات دریافت کرنا چاہتے ہیں۔
تو پنج پیر راکس ضرور اپنی فہرست میں شامل کریں۔
یہ مقام مہم جوئی اور قدرتی حسن دونوں کا حسین امتزاج ہے۔









