پانچواں پارہ. (وَالْمُحْصَنٰتُ): اسلامی معاشرت اور عدل کے اصول

Spread the love

رمضان قرآن سیریز: پانچواں پارہ (وَالْمُحْصَنٰتُ)

موضوع: سماجی عدل، خاندانی استحکام اور نظامِ اطاعت

پانچواں پارہ مکمل طور پر سورۃ النساء پر مشتمل ہے۔ اگر چوتھے پارے میں "ایثار و قربانی” کا سبق تھا، تو پانچواں پارہ اس قربانی کو "قانون اور ضابطے” کی شکل دیتا ہے۔ یہ پارہ اسلام کے معاشرتی ڈھانچے کی بنیاد رکھتا ہے، جہاں حقوق العباد (بندوں کے حقوق) کو اتنی اہمیت دی گئی ہے کہ ان کی ادائیگی کے بغیر بندگی کا تصور ادھورا ہے۔


1. خاندانی نظام کی حفاظت: محرماتِ نکاح

پارے کا آغاز ان خواتین کے تذکرے سے ہوتا ہے جن سے نکاح کرنا ابدی طور پر حرام قرار دیا گیا ہے۔

  • نسبی اور رضاعی رشتے: اللہ تعالیٰ نے انسانی رشتوں کے تقدس کو پامال ہونے سے بچانے کے لیے ماں، بیٹی، بہن، پھوپھی، خالہ اور رضاعی بہنوں وغیرہ سے نکاح کو حرام کیا۔

  • حکمت: مفسرین کے مطابق ان پابندیوں کا مقصد خاندان کے اندر ایک ایسا پاکیزہ ماحول پیدا کرنا ہے جہاں انسان اپنی محرم خواتین کے ساتھ بلا خوف و خطر اور بغیر کسی جنسی میلان کے فطری محبت کے ساتھ رہ سکے۔

  • شادی شدہ خواتین: اسی حصے میں واضح کیا گیا کہ وہ عورتیں جو پہلے سے کسی کے نکاح میں ہیں، ان سے نکاح حرام ہے (سوائے چند استثنائی صورتوں کے جو جنگی قیدیوں سے متعلق ہیں)۔

2. معاشی معاملات اور مہر کی ادائیگی

اسلام نے عورت کو معاشی طور پر خود مختار بنایا ہے۔

  • حقِ مہر: تاکید کی گئی کہ عورتوں کے مہر خوش دلی سے ادا کرو۔ یہ ان کی ملکیت ہے، کوئی احسان نہیں۔

  • ناجائز طریقے سے مال کھانا: اللہ نے حکم دیا کہ ایک دوسرے کا مال باطل طریقے سے نہ کھاؤ۔ تجارت کو بنیاد بنایا گیا جہاں نفع "باہمی رضا مندی” سے حاصل کیا جائے۔ خودکشی اور ایک دوسرے کے قتل کی ممانعت کو بھی اسی معاشی استحصال سے جوڑا گیا ہے، کیونکہ معاشی تنگی ہی اکثر جرائم کی جڑ بنتی ہے۔

3. مرد کی قوامیت اور گھریلو نظم و ضبط

خاندانی نظام کو بکھرنے سے بچانے کے لیے ایک سربراہ کی ضرورت ہوتی ہے۔

  • قوام (Protector/Manager): مرد کو عورت پر "قوام” (نگران اور ذمہ دار) بنایا گیا ہے۔ اس کی وجہ مرد کی جسمانی ساخت اور معاشی ذمہ داری ہے۔

  • حقوق و فرائض کا توازن: نیک عورتیں وہ ہیں جو شوہر کی اطاعت کرتی ہیں اور اس کی غیر موجودگی میں اس کے مال اور اپنی عزت کی حفاظت کرتی ہیں۔

  • اصلاحِ احوال: اگر میاں بیوی میں ناچاقی ہو جائے، تو اسلام نے براہِ راست طلاق کے بجائے مرحلہ وار اصلاح کا طریقہ بتایا: پہلے سمجھانا، پھر دوری اختیار کرنا، اور آخر میں خاندان کے بڑوں کے ذریعے "ثالثی” (Arbitration) کروانا۔ مقصد گھر کو ٹوٹنے سے بچانا ہے۔


4. عدل و احسان: وسیع تر معاشرتی دائرہ

اللہ کی عبادت کے حکم کے فوراً بعد بندوں کے حقوق کی ایک طویل فہرست دی گئی ہے:

  • والدین، رشتہ دار، یتیم، مسکین، قریبی پڑوسی، اجنبی پڑوسی، ساتھ بیٹھنے والا مسافر اور زیرِ دست ملازمین۔

  • تکبر کی مذمت: اللہ نے ان لوگوں کو ناپسند فرمایا جو مغرور ہیں اور دوسروں پر فخر جتاتے ہیں۔ بخل (کنجوسی) اور دکھاوے کے لیے خرچ کرنے والوں کو شیطان کا ساتھی قرار دیا گیا۔

5. طہارت اور سہولت: تیمم کا حکم

اسلام ایک دینِ فطرت ہے جو مشکل میں آسانی پیدا کرتا ہے۔

  • تیمم کی اجازت: اگر پانی میسر نہ ہو یا انسان بیمار ہو، تو پاک مٹی سے تیمم کرنے کی اجازت دی گئی۔ اس سے یہ سبق ملتا ہے کہ حالات جیسے بھی ہوں، اللہ سے تعلق (نماز) منقطع نہیں ہونا چاہیے۔ اسلام ضابطے بھی دیتا ہے اور رعایتیں بھی۔


6. نظامِ اطاعت اور مرکزیت (اطاعتِ رسول ﷺ)

یہ اس پارے کا سیاسی اور انتظامی مرکز ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: "اے ایمان والو! اطاعت کرو اللہ کی اور اطاعت کرو رسول کی اور ان کی جو تم میں سے صاحبِ امر (حکمران/علماء) ہوں”۔

  • فیصلے کا معیار: اگر تمہارے درمیان کسی معاملے میں تنازع ہو جائے، تو اسے اللہ اور اس کے رسول (قرآن و سنت) کی طرف لوٹاؤ۔

  • ایمان کی شرط: اللہ نے اپنی ذات کی قسم کھا کر فرمایا کہ کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک وہ اپنے تنازعات میں رسول ﷺ کو حاکم نہ مان لے اور آپ ﷺ کے فیصلے پر دل میں کوئی تنگی محسوس نہ کرے۔

7. منافقت کا نفسیاتی اور سیاسی تجزیہ

پانچویں پارے میں منافقین کے طرزِ عمل کو بڑی تفصیل سے بے نقاب کیا گیا ہے:

  • باطل عدالتوں کی طرف رجوع: منافقین دعویٰ تو اسلام کا کرتے تھے لیکن اپنے فیصلے کروانے کے لیے غیر اسلامی قوتوں (طاغوت) کے پاس جاتے تھے۔

  • دوغلی پالیسی: جب ان پر کوئی مصیبت آتی، تو وہ قسمیں کھا کر صفائیاں پیش کرتے۔

  • جہاد سے جی چرانا: جب قتال (جہاد) کا حکم آتا، تو وہ انسانوں سے ایسے ڈرنے لگتے جیسے اللہ سے ڈرنا چاہیے تھا۔ وہ موت سے بھاگتے تھے، جبکہ اللہ نے فرمایا کہ "موت تو تمہیں مضبوط قلعوں میں بھی آ کر رہے گی”۔


8. قتل اور انسانی جان کی حرمت

معاشرے میں امن و امان کے قیام کے لیے قتل کے قوانین بیان کیے گئے ہیں:

  • مومن کا قتل: کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کرنے والے کی سزا "ہمیشہ کی جہنم” اور اللہ کا غضب ہے۔

  • خطاء (حادثاتی) قتل: اگر غلطی سے کسی کا قتل ہو جائے، تو اس کے لیے "دیت” (مالی معاوضہ) اور کفارے کا قانون بتایا گیا تاکہ مقتول کے ورثاء کی داد رسی ہو اور دشمنی کا دروازہ بند ہو۔

  • سلام کرنے والے پر شبہ: حکم دیا گیا کہ جو تمہیں سلام کرے (یعنی مسلمان ہونے کا اظہار کرے)، اس کے بارے میں محض دنیاوی مفاد کے لیے یہ نہ کہو کہ "تو مومن نہیں ہے”۔


9. ہجرت کی اہمیت اور معذوروں کی رعایت

اللہ کی زمین بہت وسیع ہے۔ جو لوگ ظلم و ستم کے سائے میں اپنے دین پر عمل نہیں کر سکتے، انہیں ہجرت کا حکم دیا گیا۔

  • عذرِ شرعی: جو لوگ واقعی معذور، بوڑھے یا بچے ہیں اور ہجرت کی طاقت نہیں رکھتے، اللہ انہیں معاف فرمائے گا۔

  • ہجرت کا اجر: جو اللہ کی راہ میں گھر سے نکلے اور راستے میں ہی اسے موت آ جائے، اس کا اجر اللہ کے ذمے ثابت ہو گیا۔

10. صلوٰۃ الخوف (حالتِ جنگ میں نماز)

دین میں نماز کی اہمیت کا اندازہ اس سے لگائیں کہ میدانِ جنگ میں بھی نماز معاف نہیں کی گئی۔

  • طریقہ کار: دشمن کے سامنے لشکر کے دو حصے کر کے باری باری نماز ادا کرنے کا طریقہ بتایا گیا۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ مومن جسمانی طور پر دشمن سے لڑ رہا ہو تب بھی اس کا روح اللہ سے جڑی رہنی چاہیے۔


11. امانت اور گواہی میں انصاف

عدل و انصاف کے متعلق ایک سنہرا اصول بیان ہوا: "جب لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو، تو انصاف کے ساتھ کرو”۔ گواہی کے چھپانے کو گناہ قرار دیا گیا اور تاکید کی گئی کہ امانتیں ان کے حقداروں کے سپرد کی جائیں۔

12. منافقین کا انجام: جہنم کا سب سے نچلا طبقہ

پارے کے آخری حصے میں منافقین کی سزا بیان ہوئی ہے:

  • وہ جہنم کے سب سے نچلے درجے (الدرک الاسفل) میں ہوں گے۔

  • وجہ: وہ ایمان والوں کو دھوکہ دیتے ہیں، نماز میں سستی سے کھڑے ہوتے ہیں، صرف دکھاوے کے لیے عمل کرتے ہیں اور "مذبذبین” (ایمان اور کفر کے درمیان لٹکے ہوئے) ہیں۔

  • توبہ کا موقع: اللہ نے یہاں بھی فرمایا کہ جو توبہ کر لیں، اپنی اصلاح کر لیں اور اللہ کے دین کو مضبوط تھام لیں، وہ مومنوں کے ساتھ ہوں گے۔

  • عنوانکلیدی سبق
    خاندانی نظاممحرم رشتوں کا احترام اور گھر کے نظم و ضبط کے لیے مرد کی ذمہ داری۔
    خواتین کے حقوقمہر کی ادائیگی، وراثت میں حصہ اور حسنِ معاشرت۔
    نظامِ اطاعتاللہ، رسول ﷺ اور اولو الامر (باملاحیت حکمران) کی غیر مشروط اطاعت۔
    سماجی انصافیتیموں، پڑوسیوں اور مسافروں کے ساتھ احسان کا رویہ۔
    منافقت سے بچاؤعملی زندگی میں دوغلے پن کا خاتمہ اور خالص ایمان کی محنت۔

  • عملی زندگی کے لیے 5 اہم نکات

    1. گھر کو بچائیں: میاں بیوی کے چھوٹے جھگڑوں کو انا کا مسئلہ بنانے کے بجائے ثالثی اور افہام و تفہیم سے حل کریں۔ طلاق آخری حل ہونا چاہیے، پہلا نہیں۔
    2. رشتوں کی درجہ بندی: اپنے پڑوسیوں اور رشتہ داروں کے حقوق پہچانیں۔ نیکی کا آغاز اپنے گھر اور محلے سے ہوتا ہے۔

    3. عدلِ الٰہی پر یقین: جب بھی فیصلہ کریں یا گواہی دیں، تو جانبداری کے بجائے حق کا ساتھ دیں، چاہے وہ آپ کے اپنے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔

    4. دین میں آسانی ڈھونڈیں: تیمم اور مسافر کے احکام بتاتے ہیں کہ اللہ ہمیں مشکل میں نہیں ڈالنا چاہتا۔ ہم خود دین کو مشکل نہ بنائیں۔

    5. اخلاص پیدا کریں: منافقین کی صفت "دکھاوا” ہے۔ اپنے ہر عمل (نماز، صدقہ) میں یہ چیک کریں کہ کہیں یہ لوگوں کو دکھانے کے لیے تو نہیں؟

    یہ پارہ ہمیں ایک ایسا شہری بناتا ہے جو گھر میں مہربان، معاشرے میں عادل اور اللہ کے حضور مخلص ہو۔

  • Mazeed video daikhain… click karain.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے