حضرت یوسف علیہ السلام کا ایمان افروز واقعہ — صبر، آزمائش اور اللہ کی نصرت کی عظیم داستان
حسد سے کنویں تک، قید سے اقتدار تک — یہ وہ واقعہ ہے جسے اللہ تعالیٰ نے قرآن میں “احسن القصص” قرار دیا۔
قرآن مجید میں کئی انبیائے کرام کے واقعات بیان ہوئے ہیں، لیکن ان میں ایک واقعہ ایسا ہے جسے اللہ تعالیٰ نے خود بہترین قصہ قرار دیا۔ یہ واقعہ ہے اللہ کے نبی Prophet Yusuf علیہ السلام کا، جو Qur’an کی عظیم سورت یعنی Surah Yusuf میں نہایت خوبصورت انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ اس واقعہ میں صبر، آزمائش، حسد، جدائی، ظلم، قید اور آخر کار اللہ کی مدد اور عزت عطا ہونے کی مکمل داستان موجود ہے۔
یہ واقعہ ہمیں بتاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندوں کو آزمائشوں سے گزارتا ضرور ہے، مگر آخر کار ان کے لیے آسانیاں اور کامیابیاں بھی پیدا فرما دیتا ہے۔
یہ داستان اس وقت شروع ہوتی ہے جب حضرت یوسف علیہ السلام ابھی بچپن میں تھے۔ ایک رات انہوں نے ایک عجیب خواب دیکھا۔ خواب میں انہوں نے دیکھا کہ گیارہ ستارے، سورج اور چاند ان کو سجدہ کر رہے ہیں۔ یہ خواب عام خواب نہیں تھا بلکہ ایک خاص اشارہ تھا۔ جب انہوں نے یہ خواب اپنے والد محترم Prophet Yaqub علیہ السلام کو سنایا تو حضرت یعقوب علیہ السلام فوراً سمجھ گئے کہ یہ خواب مستقبل کی ایک بڑی نشانی ہے۔ انہوں نے اپنے بیٹے کو نصیحت کی کہ یہ خواب اپنے بھائیوں کو نہ بتانا کیونکہ انہیں پہلے ہی یوسف سے خاص محبت تھی اور وہ اس سے حسد کرنے لگے تھے۔
حضرت یعقوب علیہ السلام کی حضرت یوسف علیہ السلام سے محبت بہت زیادہ تھی۔ یہی بات ان کے بھائیوں کو ناگوار گزرتی تھی۔ وہ سمجھتے تھے کہ ہمارے والد ہمیں چھوڑ کر صرف یوسف کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔ حسد آہستہ آہستہ ان کے دلوں میں بڑھتا گیا اور ایک دن انہوں نے ایک خطرناک منصوبہ بنا لیا۔
بھائیوں نے آپس میں مشورہ کیا کہ یوسف کو راستے سے ہٹا دیا جائے تاکہ والد کی توجہ صرف ان کی طرف ہو جائے۔ کچھ نے کہا کہ اسے قتل کر دیا جائے جبکہ کچھ نے کہا کہ اسے کسی دور جگہ پھینک دیا جائے۔ آخر کار انہوں نے فیصلہ کیا کہ اسے ایک گہرے کنویں میں ڈال دیا جائے تاکہ کوئی قافلہ اسے لے جائے اور وہ ہمیشہ کے لیے ہم سے دور ہو جائے۔
ایک دن انہوں نے اپنے والد سے اجازت لی کہ یوسف کو ہمارے ساتھ بھیج دیں تاکہ وہ کھیلیں کودیں۔ ابتدا میں حضرت یعقوب علیہ السلام کو اندیشہ تھا لیکن بھائیوں نے یقین دلایا کہ ہم اس کی حفاظت کریں گے۔ جب وہ سب باہر گئے تو انہوں نے حضرت یوسف علیہ السلام کو ایک گہرے کنویں میں ڈال دیا۔ پھر انہوں نے ایک جھوٹا منصوبہ بنایا۔ انہوں نے یوسف کے کپڑے پر بکری کا خون لگا دیا اور رات کے وقت روتے ہوئے اپنے والد کے پاس آئے کہ یوسف کو بھیڑیا کھا گیا ہے۔
حضرت یعقوب علیہ السلام نے ان کی بات سنی مگر دل کے اندر انہیں یقین نہیں آیا۔ انہوں نے صبر اختیار کیا اور اللہ پر بھروسہ کیا۔
ادھر کنویں میں اللہ کی مدد حضرت یوسف علیہ السلام کے ساتھ تھی۔ کچھ وقت بعد ایک قافلہ وہاں سے گزرا۔ جب انہوں نے پانی نکالنے کے لیے ڈول کنویں میں ڈالا تو ان کے ہاتھ ایک خوبصورت لڑکا لگا۔ وہ حیران رہ گئے اور اسے اپنے ساتھ لے گئے۔ بعد میں وہ قافلہ اسے مصر لے گیا جہاں اسے غلام کے طور پر فروخت کر دیا گیا۔
مصر میں ایک بااثر شخص نے انہیں خرید لیا جسے قرآن میں عزیز مصر کہا گیا ہے۔ اس نے اپنی بیوی سے کہا کہ اس بچے کا خیال رکھنا، شاید یہ ہمارے لیے فائدہ مند ثابت ہو یا ہم اسے اپنا بیٹا بنا لیں۔
حضرت یوسف علیہ السلام اسی گھر میں پروان چڑھے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں حسن بھی عطا کیا تھا اور حکمت و دانائی بھی۔ جب وہ جوان ہوئے تو ایک نئی آزمائش ان کے سامنے آئی۔ عزیز مصر کی بیوی ان کے حسن اور کردار سے متاثر ہو گئی اور اس نے انہیں گناہ کی طرف مائل کرنے کی کوشش کی۔ لیکن حضرت یوسف علیہ السلام اللہ سے ڈرنے والے نبی تھے۔ انہوں نے اس گناہ سے بچنے کی پوری کوشش کی اور اللہ سے پناہ مانگی۔
اس واقعہ کے بعد حالات اس طرح بنے کہ حضرت یوسف علیہ السلام کو قید خانے میں ڈال دیا گیا۔ قید خانہ بظاہر ایک مشکل جگہ تھی مگر اللہ نے اسی جگہ کو ان کے لیے ایک نئی منزل کا آغاز بنا دیا۔ قید میں دو قیدی تھے جنہوں نے خواب دیکھے اور حضرت یوسف علیہ السلام سے ان کی تعبیر پوچھی۔ اللہ نے انہیں خوابوں کی تعبیر کا علم عطا کیا تھا، اس لیے انہوں نے درست تعبیر بتائی جو بعد میں سچ ثابت ہوئی۔
کچھ عرصے بعد مصر کے بادشاہ نے بھی ایک عجیب خواب دیکھا۔ خواب میں سات موٹی گائیں تھیں جنہیں سات دبلی گائیں کھا رہی تھیں اور سات سبز بالیاں تھیں اور سات خشک بالیاں۔ دربار کے علماء اس خواب کی تعبیر نہ بتا سکے۔ اسی وقت ایک قیدی کو یاد آیا کہ قید خانے میں ایک شخص ہے جو خوابوں کی تعبیر جانتا ہے۔
بادشاہ نے حضرت یوسف علیہ السلام کو بلایا۔ انہوں نے خواب کی تعبیر بتائی کہ مصر میں سات سال خوشحالی کے آئیں گے اور اس کے بعد سات سال سخت قحط ہوگا۔ اس لیے ابھی سے اناج ذخیرہ کر لیا جائے۔ بادشاہ ان کی دانائی اور حکمت سے بہت متاثر ہوا اور انہیں مصر کے خزانے کی ذمہ داری سونپ دی۔
وقت گزرتا گیا اور وہ قحط کا زمانہ بھی آ گیا جس کی خبر حضرت یوسف علیہ السلام نے پہلے ہی دی تھی۔ دور دور سے لوگ مصر آنے لگے تاکہ اناج حاصل کر سکیں۔ انہی لوگوں میں حضرت یوسف علیہ السلام کے بھائی بھی شامل تھے جو کنعان سے مصر آئے تھے۔
جب بھائی مصر پہنچے تو انہوں نے حضرت یوسف علیہ السلام کو پہچانا نہیں، مگر حضرت یوسف علیہ السلام انہیں پہچان گئے۔ انہوں نے حکمت اور صبر کے ساتھ حالات کو اس طرح ترتیب دیا کہ آخر کار سچائی ظاہر ہو گئی۔ جب بھائیوں کو حقیقت معلوم ہوئی تو وہ شرمندہ ہو گئے۔ انہوں نے اپنے گناہ کا اعتراف کیا اور معافی مانگی۔
حضرت یوسف علیہ السلام نے نہایت اعلیٰ اخلاق کا مظاہرہ کرتے ہوئے انہیں معاف کر دیا اور کہا کہ آج تم پر کوئی ملامت نہیں۔ اللہ تمہیں معاف فرمائے۔
بعد میں انہوں نے اپنے والد حضرت یعقوب علیہ السلام کو مصر بلایا۔ جب خاندان دوبارہ اکٹھا ہوا تو وہ خواب بھی پورا ہو گیا جو بچپن میں حضرت یوسف علیہ السلام نے دیکھا تھا۔ والدین اور بھائیوں نے عزت و احترام کے ساتھ ان کے سامنے جھک کر سلام کیا اور اس طرح اللہ تعالیٰ کی وہ نشانی مکمل ہو گئی جو برسوں پہلے خواب کی صورت میں ظاہر ہوئی تھی۔
حضرت یوسف علیہ السلام کا یہ واقعہ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ اگر انسان صبر اور ایمان کے ساتھ اللہ پر بھروسہ کرے تو مشکلات کے بعد آسانیاں ضرور آتی ہیں۔ ظلم اور حسد وقتی طور پر غالب آ سکتے ہیں مگر آخر کار سچائی اور نیکی ہی کامیاب ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن مجید میں اس واقعہ کو بہترین قصہ قرار دیا گیا ہے کیونکہ اس میں زندگی کے بے شمار اسباق پوشیدہ ہیں۔



