حضرت سلیمان علیہ السلام اور ملکہ سبا کا ایمان افروز واقعہ — حکمت، اقتدار اور ہدایت کی داستان
ایک عظیم نبی کی حکمت۔ ایک طاقتور ملکہ کی تلاشِ حق۔ اور آخرکار اللہ کی ہدایت کا قبول کرنا۔
قرآن مجید میں کئی انبیائے کرام کے واقعات بیان کیے گئے ہیں جن میں انسانوں کے لیے ہدایت اور نصیحت موجود ہے۔ انہی واقعات میں ایک نہایت دلچسپ اور ایمان افروز واقعہ اللہ کے نبی Prophet Sulaiman علیہ السلام اور ملکہ سبا کا ہے۔ یہ واقعہ Qur’an کی سورۃ نمل میں بیان ہوا ہے اور اس میں حکمت، طاقت اور اللہ کی ہدایت کی ایک عظیم مثال موجود ہے۔
حضرت سلیمان علیہ السلام اللہ کے عظیم نبی اور بادشاہ تھے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں ایسی سلطنت عطا کی تھی جو دنیا میں کسی اور کو نہیں دی گئی۔ اللہ نے انہیں انسانوں کے ساتھ ساتھ جنات، پرندوں اور ہوا پر بھی اختیار عطا کیا تھا۔ ان کی حکومت میں نظم و ضبط اور عدل قائم تھا۔ ان کے لشکر میں انسان بھی تھے، جنات بھی تھے اور پرندے بھی تھے۔
ایک دن حضرت سلیمان علیہ السلام اپنے لشکر کا معائنہ کر رہے تھے۔ انہوں نے پرندوں کو دیکھا تو انہیں ایک پرندہ نظر نہ آیا۔ یہ پرندہ ہدہد تھا جسے عربی میں ہدہد کہا جاتا ہے۔ قرآن میں اس پرندے کا ذکر خاص طور پر آیا ہے۔ جب حضرت سلیمان علیہ السلام نے اسے نہ دیکھا تو فرمایا کہ ہدہد کہاں ہے۔ اگر اس کی غیر حاضری کی کوئی معقول وجہ نہ ہوئی تو اسے سخت سزا دی جائے گی۔
کچھ ہی دیر بعد ہدہد واپس آ گیا۔ اس نے حضرت سلیمان علیہ السلام سے عرض کیا کہ میں ایک ایسی خبر لے کر آیا ہوں جس کا آپ کو علم نہیں۔ میں سبا کے علاقے سے آیا ہوں۔ وہاں ایک عورت حکومت کرتی ہے۔ اسے بہت بڑی سلطنت عطا کی گئی ہے اور اس کے پاس ہر طرح کی دولت موجود ہے۔ اس کا ایک عظیم تخت بھی ہے۔
ہدہد نے مزید بتایا کہ وہ ملکہ اور اس کی قوم اللہ کو چھوڑ کر سورج کی عبادت کرتے ہیں۔ شیطان نے ان کے اعمال کو ان کے لیے خوبصورت بنا دیا ہے۔ اس لیے وہ ہدایت کے راستے سے دور ہو گئے ہیں۔
حضرت سلیمان علیہ السلام نے اس خبر کو سنا اور فرمایا کہ ہم دیکھیں گے کہ تم سچ کہتے ہو یا نہیں۔ پھر انہوں نے ایک خط لکھا اور ہدہد کو دیا۔ انہوں نے فرمایا کہ یہ خط لے کر جاؤ اور ملکہ سبا کے پاس ڈال دو۔ پھر دیکھنا کہ وہ کیا جواب دیتی ہے۔
ہدہد وہ خط لے کر سبا کے محل میں پہنچا اور ملکہ کے سامنے خط ڈال دیا۔ جب ملکہ نے خط پڑھا تو اس نے اپنے درباریوں کو جمع کیا۔ اس نے کہا کہ میرے پاس ایک معزز خط آیا ہے۔ یہ خط سلیمان کی طرف سے ہے۔ اس میں لکھا ہے کہ اللہ کے نام سے شروع جو بڑا مہربان اور نہایت رحم کرنے والا ہے۔ میرے مقابلے میں سرکشی نہ کرو اور فرمانبردار ہو کر میرے پاس آ جاؤ۔
ملکہ سبا ایک سمجھدار حکمران تھی۔ اس نے اپنے مشیروں سے مشورہ کیا۔ اس نے کہا کہ تم لوگ مجھے اس معاملے میں کیا مشورہ دیتے ہو۔ درباریوں نے جواب دیا کہ ہم طاقتور ہیں اور جنگ کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ مگر فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہے۔
ملکہ نے کہا کہ جب بادشاہ کسی شہر میں داخل ہوتے ہیں تو اسے تباہ کر دیتے ہیں اور وہاں کے معزز لوگوں کو ذلیل کر دیتے ہیں۔ اس لیے میں پہلے ایک تحفہ بھیجتی ہوں اور دیکھتی ہوں کہ سلیمان کیا جواب دیتے ہیں۔
چنانچہ ملکہ سبا نے ایک قیمتی تحفہ حضرت سلیمان علیہ السلام کی طرف بھیجا۔ جب قاصد یہ تحفہ لے کر حضرت سلیمان علیہ السلام کے پاس پہنچے تو انہوں نے فرمایا کہ کیا تم مجھے مال سے مدد دینا چاہتے ہو۔ اللہ نے جو مجھے عطا کیا ہے وہ اس سے کہیں بہتر ہے جو تمہیں دیا گیا ہے۔ تم اپنے تحفے کے ساتھ واپس جاؤ۔
حضرت سلیمان علیہ السلام نے یہ پیغام بھیجا کہ اگر وہ لوگ اطاعت قبول نہیں کریں گے تو ہم ایک ایسے لشکر کے ساتھ آئیں گے جس کا مقابلہ وہ نہیں کر سکیں گے اور ہم انہیں ذلیل کر کے وہاں سے نکال دیں گے۔
جب ملکہ سبا کو یہ پیغام ملا تو وہ سمجھ گئی کہ یہ کوئی عام بادشاہ نہیں بلکہ اللہ کا نبی ہے۔ اس نے خود حضرت سلیمان علیہ السلام کے پاس جانے کا فیصلہ کیا۔
ادھر حضرت سلیمان علیہ السلام کو خبر ملی کہ ملکہ سبا ان کی طرف آ رہی ہے۔ انہوں نے اپنے دربار میں موجود لوگوں سے فرمایا کہ تم میں سے کون ہے جو اس کے آنے سے پہلے اس کا تخت میرے پاس لے آئے۔
ایک جن نے کہا کہ میں اسے اس مجلس کے ختم ہونے سے پہلے لا سکتا ہوں۔ مگر ایک ایسا شخص جس کے پاس کتاب کا علم تھا اس نے کہا کہ میں اسے پلک جھپکنے سے پہلے لے آ سکتا ہوں۔ چنانچہ اللہ کے حکم سے ملکہ سبا کا عظیم تخت فوراً حضرت سلیمان علیہ السلام کے سامنے موجود تھا۔
حضرت سلیمان علیہ السلام نے حکم دیا کہ تخت کی شکل میں کچھ تبدیلی کر دی جائے تاکہ دیکھا جا سکے کہ ملکہ اسے پہچانتی ہے یا نہیں۔
جب ملکہ سبا حضرت سلیمان علیہ السلام کے دربار میں پہنچی تو اس سے پوچھا گیا کہ کیا تمہارا تخت بھی ایسا ہی ہے۔ اس نے جواب دیا کہ یہ تو گویا وہی ہے۔ اس نے سمجھ لیا کہ یہ سب اللہ کی قدرت سے ہوا ہے۔
اس کے بعد حضرت سلیمان علیہ السلام نے اسے ایک محل میں داخل ہونے کو کہا۔ اس محل کا فرش شیشے کا بنا ہوا تھا اور اس کے نیچے پانی بہہ رہا تھا۔ جب ملکہ نے اسے دیکھا تو اسے پانی سمجھ کر اپنے کپڑے اوپر کر لیے۔ اس وقت حضرت سلیمان علیہ السلام نے فرمایا کہ یہ شیشے کا فرش ہے۔
یہ سب دیکھ کر ملکہ سبا کو یقین ہو گیا کہ یہ سب اللہ کی قدرت اور ایک سچے نبی کی نشانی ہے۔ اس نے فوراً اعلان کیا کہ اے میرے رب میں نے اپنے آپ پر ظلم کیا تھا اور اب میں سلیمان کے ساتھ اللہ رب العالمین پر ایمان لاتی ہوں۔
اس طرح ملکہ سبا ہدایت پا گئی اور اللہ پر ایمان لے آئی۔ قرآن مجید میں بیان کیا گیا یہ واقعہ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ حقیقی طاقت اور حکمت اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ جو لوگ سچائی کی تلاش کرتے ہیں اللہ انہیں ہدایت عطا فرماتا ہے۔
حضرت سلیمان علیہ السلام کا یہ واقعہ ہمیں یہ بھی سکھاتا ہے کہ اقتدار اور طاقت کے باوجود انسان کو عاجزی اختیار کرنی چاہیے اور لوگوں کو حکمت اور نرمی کے ساتھ اللہ کی طرف بلانا چاہیے۔



