حضرت صالح علیہ السلام اور قوم ثمود کا مکمل واقعہ | قرآن مجید کی روشنی میں
قرآن مجید میں کئی ایسی قوموں کا ذکر ملتا ہے جنہیں اللہ تعالیٰ نے ہدایت کے لیے انبیاء علیہم السلام بھیجے۔ ان میں سے ایک قوم ثمود تھی۔ یہ قوم عرب کے شمالی علاقے میں آباد تھی۔ اللہ تعالیٰ نے اس قوم کی ہدایت کے لیے حضرت صالح علیہ السلام کو مبعوث فرمایا۔ حضرت صالح علیہ السلام نے اپنی قوم کو اللہ تعالیٰ کی عبادت کی دعوت دی۔ انہوں نے انہیں شرک اور ظلم سے روکا۔ مگر قوم کے اکثر لوگ ہدایت قبول نہ کر سکے۔ انہوں نے ضد اور تکبر کا راستہ اختیار کیا۔ بالآخر اللہ تعالیٰ نے ان پر سخت عذاب نازل کیا اور پوری قوم تباہ ہو گئی۔
قومِ ثمود قدیم عرب کی ایک طاقتور اور ترقی یافتہ قوم تھی۔ یہ لوگ پتھریلے پہاڑوں میں گھر تراشنے میں ماہر تھے۔ وہ پہاڑوں کو کاٹ کر مضبوط اور خوبصورت مکانات بناتے تھے۔ ان کی بستیاں مضبوط قلعوں کی طرح ہوتی تھیں۔ انہیں اپنی طاقت اور دولت پر بہت غرور تھا۔ وہ سمجھتے تھے کہ دنیا میں کوئی انہیں شکست نہیں دے سکتا۔
قومِ ثمود کا علاقہ حجاز اور شام کے درمیان واقع تھا۔ اس علاقے کو بعد میں حِجر کہا جانے لگا۔ قرآن مجید میں اس مقام کا ذکر بھی آیا ہے۔ اس قوم کے لوگ طاقتور تھے۔ وہ زراعت بھی کرتے تھے۔ باغات اور کھجور کے درخت ان کے پاس بہت تھے۔ زمین زرخیز تھی۔ پانی کے چشمے بھی موجود تھے۔
مگر اس خوشحالی کے باوجود یہ لوگ اللہ تعالیٰ کو بھول گئے تھے۔ انہوں نے بتوں کی عبادت شروع کر دی تھی۔ وہ مختلف پتھر کے بت بناتے تھے۔ پھر انہیں اپنا معبود سمجھتے تھے۔ اسی شرک اور گمراہی کو ختم کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے حضرت صالح علیہ السلام کو ان کی طرف نبی بنا کر بھیجا۔
حضرت صالح علیہ السلام اسی قوم کے ایک معزز اور شریف خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ قوم کے لوگ آپ علیہ السلام کو پہلے سے سچا اور دیانت دار انسان سمجھتے تھے۔ وہ آپ علیہ السلام کی عقل اور سمجھ داری کی تعریف کرتے تھے۔ اسی لیے ابتدا میں لوگوں کو امید تھی کہ آپ علیہ السلام ان کے قبیلے کی قیادت کریں گے۔
جب حضرت صالح علیہ السلام نے نبوت کا اعلان کیا تو انہوں نے سب سے پہلے اپنی قوم کو اللہ تعالیٰ کی عبادت کی دعوت دی۔ انہوں نے فرمایا کہ اللہ ایک ہے۔ اسی نے تمہیں پیدا کیا ہے۔ اسی نے زمین کو تمہارے لیے آباد کیا ہے۔ تمہیں چاہیے کہ صرف اسی کی عبادت کرو۔ بتوں کو چھوڑ دو۔
حضرت صالح علیہ السلام نے اپنی قوم کو یہ بھی یاد دلایا کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں زمین میں طاقت دی ہے۔ پہاڑوں میں گھر بنانے کی صلاحیت دی ہے۔ باغات اور کھیت عطا کیے ہیں۔ اس لیے انہیں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہیے۔
مگر قوم کے اکثر سرداروں نے حضرت صالح علیہ السلام کی دعوت کو قبول نہیں کیا۔ انہوں نے تکبر اور غرور کا راستہ اختیار کیا۔ وہ کہنے لگے کہ تم بھی تو ہمارے ہی جیسے انسان ہو۔ ہم تمہیں نبی کیسے مان لیں۔
قوم کے کچھ کمزور اور سادہ دل لوگ حضرت صالح علیہ السلام پر ایمان لے آئے۔ مگر بڑے سردار اور امیر لوگ سخت مخالفت کرنے لگے۔ انہوں نے ایمان لانے والوں کو کمزور اور نادان کہا۔
قوم کے کافروں نے حضرت صالح علیہ السلام سے کہا کہ اگر تم واقعی اللہ کے رسول ہو تو کوئی معجزہ دکھاؤ۔ وہ چاہتے تھے کہ ایسا معجزہ ہو جو ان کی سمجھ سے باہر ہو۔
اللہ تعالیٰ نے حضرت صالح علیہ السلام کو ایک خاص معجزہ عطا فرمایا۔ یہ معجزہ ایک اونٹنی کی صورت میں ظاہر ہوا۔ قرآن مجید میں اسے ناقة اللہ کہا گیا ہے۔ یعنی اللہ کی اونٹنی۔
روایات میں آتا ہے کہ قومِ ثمود نے خود ایک شرط رکھی تھی۔ انہوں نے کہا کہ اگر اس بڑے پتھر سے ایک زندہ اونٹنی نکل آئے تو ہم تمہیں مان لیں گے۔
حضرت صالح علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا قبول فرمائی۔ اچانک وہ سخت چٹان پھٹی۔ اس میں سے ایک بڑی اور عجیب اونٹنی نکل آئی۔ یہ منظر دیکھ کر سب لوگ حیران رہ گئے۔
حضرت صالح علیہ السلام نے اپنی قوم سے فرمایا کہ یہ اللہ تعالیٰ کی نشانی ہے۔ اس اونٹنی کو زمین میں چرنے دو۔ اسے کوئی نقصان نہ پہنچانا۔ اگر تم نے اسے نقصان پہنچایا تو اللہ کا عذاب آ جائے گا۔
اونٹنی کے بارے میں ایک اور خاص حکم بھی تھا۔ ایک دن وہ پانی کے چشمے سے پانی پیتی تھی۔ دوسرے دن قوم کے لوگ پانی لیتے تھے۔ اس طرح باری مقرر تھی۔
کچھ لوگ اس معجزے کو دیکھ کر ایمان لے آئے۔ مگر اکثر سرداروں کے دل سخت ہو چکے تھے۔ انہوں نے ایمان قبول نہیں کیا۔ بلکہ وہ حضرت صالح علیہ السلام سے مزید ناراض ہو گئے۔
قوم کے بڑے سرداروں نے آپس میں مشورہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر یہ اونٹنی زندہ رہی تو لوگ اس معجزے کی وجہ سے حضرت صالح علیہ السلام پر ایمان لے آئیں گے۔ اس لیے اسے ختم کرنا ضروری ہے۔
آخرکار قوم کے چند بدبخت لوگوں نے مل کر اس اونٹنی کو قتل کرنے کا منصوبہ بنایا۔ قرآن مجید میں ذکر ہے کہ ایک سخت دل شخص نے آگے بڑھ کر اونٹنی کو قتل کر دیا۔
جب اونٹنی کو قتل کر دیا گیا تو حضرت صالح علیہ السلام بہت غمگین ہوئے۔ انہوں نے اپنی قوم سے فرمایا کہ تم نے اللہ کی نشانی کو قتل کر دیا ہے۔ اب تم اپنے گھروں میں صرف تین دن تک فائدہ اٹھا لو۔ اس کے بعد اللہ کا عذاب آئے گا۔
قوم کے لوگ اس بات کو سن کر بھی نہ سمجھے۔ وہ ہنستے رہے۔ انہوں نے حضرت صالح علیہ السلام کا مذاق اڑایا۔ کچھ لوگوں نے تو یہ بھی سوچا کہ حضرت صالح علیہ السلام کو ہی قتل کر دیا جائے۔
مگر اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کی حفاظت فرمائی۔ حضرت صالح علیہ السلام اور ایمان لانے والے لوگوں کو اس بستی سے نکل جانے کا حکم دیا گیا۔
چند دن بعد اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہوا۔ قرآن مجید کے مطابق ایک زبردست چیخ اور زلزلہ آیا۔ زمین زور سے ہلنے لگی۔ خوفناک آواز نے پوری بستی کو ہلا دیا۔
صبح ہونے تک پوری قوم تباہ ہو چکی تھی۔ وہ اپنے گھروں میں اوندھے منہ پڑے ہوئے تھے۔ ان کے مضبوط گھر بھی انہیں بچا نہ سکے۔
یوں ایک طاقتور اور غرور کرنے والی قوم ہمیشہ کے لیے ختم ہو گئی۔ ان کے پہاڑوں میں تراشے گئے گھر آج بھی عبرت کی نشانی کے طور پر موجود ہیں۔
قرآن مجید بار بار اس واقعے کو یاد دلاتا ہے تاکہ لوگ سبق حاصل کریں۔ اللہ تعالیٰ واضح فرماتا ہے کہ جب قومیں اپنے نبیوں کی بات نہیں مانتیں اور تکبر اختیار کرتی ہیں تو ان کا انجام تباہی ہوتا ہے۔
حضرت صالح علیہ السلام نے اپنی قوم کو بہت سمجھایا تھا۔ انہوں نے بار بار نصیحت کی تھی۔ مگر جب لوگ ضد اور غرور پر قائم رہیں تو پھر اللہ تعالیٰ کا قانون حرکت میں آ جاتا ہے۔
قومِ ثمود کا انجام اسی قانون کی ایک مثال ہے۔ ان کی طاقت۔ دولت۔ مضبوط مکانات۔ سب کچھ انہیں عذاب سے نہ بچا سکے۔
آج بھی عرب کے علاقے میں ان کی بستیوں کے آثار موجود ہیں۔ یہ آثار انسان کو یاد دلاتے ہیں کہ دنیا کی طاقت ہمیشہ باقی نہیں رہتی۔ اصل کامیابی اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں ہے۔
حضرت صالح علیہ السلام کا یہ واقعہ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ انسان کو تکبر سے بچنا چاہیے۔ اللہ کی نشانیوں کو سنجیدگی سے لینا چاہیے۔ اور انبیاء علیہم السلام کی تعلیمات پر عمل کرنا چاہیے۔



