حضرت نوح علیہ السلام اور عظیم طوفان — ایمان کی کشتی کی سچی داستان
انسان زمین پر آ چکا تھا۔ نسلیں بڑھ رہی تھیں۔ وقت گزرتا گیا، مگر ایک وقت ایسا آیا جب لوگ اپنے رب کو بھولنے لگے۔ بت بنائے گئے، نیک لوگوں کی یادگاریں آہستہ آہستہ معبود بن گئیں، اور شرک نے دلوں میں جگہ بنا لی۔ ایسے ماحول میں اللہ تعالیٰ نے ایک بندے کو منتخب فرمایا — حضرت نوح علیہ السلام۔
انہوں نے اپنی قوم کو پکارا۔ نرم لہجے میں بھی، تنبیہ کے انداز میں بھی، راتوں کو بھی، دن میں بھی۔ قرآن بیان کرتا ہے کہ انہوں نے کہا: اپنے رب کی عبادت کرو، اسی سے ڈرو، اسی کی اطاعت کرو۔ مگر قوم نے تکبر کیا۔ انہوں نے اپنے کانوں میں انگلیاں ڈال لیں، کپڑے اپنے اوپر لپیٹ لیے تاکہ بات نہ سنیں، اور کہا کہ ہم اپنے باپ دادا کے طریقے کو نہیں چھوڑیں گے۔
سال گزرتے گئے۔ صرف دن، مہینے نہیں — صدیوں کا عرصہ۔ قرآن بتاتا ہے کہ نوحؑ نے ساڑھے نو سو سال اپنی قوم میں تبلیغ کی۔ اتنی طویل دعوت، اتنا صبر، مگر ایمان لانے والے بہت کم تھے۔ ہر دور میں کمزور اور سادہ لوگ ایمان لاتے، جبکہ سردار اور مالدار لوگ مذاق اڑاتے۔ وہ کہتے کہ اگر تم سچے ہو تو ہم پر عذاب لے آؤ۔
پھر وہ لمحہ آیا جب اللہ کا فیصلہ نافذ ہونے والا تھا۔ نوحؑ کو حکم دیا گیا کہ ہماری نگرانی میں ایک کشتی بناؤ۔ زمین خشک تھی، سمندر قریب نہ تھا، اور وہ کشتی بنا رہے تھے۔ لوگ گزرتے، ہنستے، مذاق کرتے۔ کہتے: اے نوح! اب تم نبی سے بڑھئی بن گئے ہو؟ وہ خاموش رہتے اور کہتے: آج تم ہم پر ہنستے ہو، کل ہم تم پر ہنسیں گے جب عذاب آ جائے گا۔
آخرکار وہ نشان ظاہر ہوا جس کا وعدہ کیا گیا تھا۔ زمین سے پانی ابلنے لگا، آسمان سے موسلا دھار بارش برسنے لگی۔ نوحؑ کو حکم ملا کہ ایمان والوں کو اور ہر جانور کے جوڑے کو کشتی میں سوار کر لو۔ دروازے بند ہوئے، اور پھر وہ منظر شروع ہوا جس نے دنیا کا نقشہ بدل دیا۔ پانی ہر طرف پھیل گیا، پہاڑ لہروں میں ڈوبنے لگے، زمین سمندر بن گئی۔
اسی ہنگامے میں نوحؑ نے اپنے بیٹے کو دیکھا جو کشتی سے دور کھڑا تھا۔ انہوں نے پکارا: اے میرے بیٹے! ہمارے ساتھ سوار ہو جاؤ، کافروں کے ساتھ نہ رہو۔ مگر اس نے جواب دیا کہ میں کسی پہاڑ پر چڑھ جاؤں گا جو مجھے پانی سے بچا لے گا۔ نوحؑ نے فرمایا: آج اللہ کے حکم سے کوئی بچانے والا نہیں، مگر وہی جس پر اللہ رحم کرے۔ ایک موج آئی اور باپ اور بیٹے کے درمیان حائل ہو گئی۔ وہ غرق ہو گیا۔
یہ منظر ایک نبی کے دل کے لیے کتنا کڑا ہوگا، اس کا اندازہ کرنا مشکل ہے۔ بعد میں نوحؑ نے عرض کیا کہ اے میرے رب! میرا بیٹا میرے گھر والوں میں سے تھا۔ جواب آیا کہ وہ تیرے اہل میں سے نہیں، اس کا عمل درست نہ تھا۔ یہاں یہ اصول قائم کر دیا گیا کہ اصل نسبت ایمان کی ہے، خون کی نہیں۔
پھر حکم آیا: اے زمین! اپنا پانی نگل لے، اور اے آسمان! تھم جا۔ پانی اترنے لگا، کشتی ایک پہاڑ پر جا ٹھہری۔ کہا جاتا ہے کہ وہ جودی پہاڑ تھا۔ یوں ایک نئی ابتدا ہوئی۔ زمین پر وہی لوگ باقی رہے جو ایمان والے تھے۔ انسانی تاریخ ایک بار پھر پاکیزہ بنیادوں پر شروع ہوئی۔
یہ واقعہ صرف ایک طوفان کی داستان نہیں۔ یہ صبر کی انتہا، دعوت کی استقامت اور اللہ کے فیصلے کی قطعیت کا بیان ہے۔ اس میں یہ پیغام ہے کہ حق کی راہ میں تعداد نہیں بلکہ سچائی اہم ہے۔ مذاق، مخالفت اور تنہائی عارضی ہیں، مگر انجام ہمیشہ اللہ کے اختیار میں ہے۔
نوحؑ کی کشتی صرف لکڑی کا ڈھانچہ نہیں تھی، وہ ایمان کی کشتی تھی۔ جو اس میں سوار ہوا بچ گیا، جو انکار کرتا رہا وہ لہروں میں کھو گیا۔ قرآن اس واقعے کو بار بار دہرا کر انسان کو یاد دلاتا ہے کہ دنیا کی مہلت دائمی نہیں۔ جب فیصلہ آتا ہے تو نہ پہاڑ بچاتے ہیں، نہ طاقت، نہ رشتہ۔
یہ تھا انسانی تاریخ کا پہلا عظیم طوفان — ایک ایسا واقعہ جس نے زمین کو بدل دیا اور انسان کو یہ سکھا دیا کہ نجات صرف اللہ کی اطاعت میں ہے۔

