حضرت موسیٰ علیہ السلام کا ایمان افروز واقعہ — فرعون کے ظلم سے نجات تک

Spread the love

حضرت موسیٰ علیہ السلام کا ایمان افروز واقعہ — فرعون کے ظلم سے نجات تک

ایک عظیم نبی کی داستان۔ ظلم کے مقابلے میں صبر۔ اور اللہ کی مدد سے ایک قوم کی آزادی۔

قرآن مجید میں بہت سے انبیائے کرام کے واقعات بیان ہوئے ہیں۔ مگر ان میں سب سے زیادہ ذکر جس نبی کا آیا ہے وہ ہیں Prophet Musa علیہ السلام۔ اللہ تعالیٰ نے ان کا واقعہ مختلف مقامات پر بیان کیا ہے۔ ان واقعات میں صبر کا سبق ہے۔ ایمان کی قوت ہے۔ اور ظلم کے مقابلے میں حق کی فتح کا پیغام ہے۔

اس زمانے میں مصر پر ایک ظالم بادشاہ حکومت کرتا تھا۔ اس کا نام فرعون تھا۔ وہ خود کو خدا کہتا تھا۔ وہ بنی اسرائیل پر بہت ظلم کرتا تھا۔ بنی اسرائیل دراصل Prophet Yaqub علیہ السلام کی اولاد تھے۔ انہیں غلام بنا دیا گیا تھا۔ ان سے سخت مشقت لی جاتی تھی۔ ان کی زندگیاں بہت مشکل ہو چکی تھیں۔

فرعون کو ایک خبر ملی۔ نجومیوں نے بتایا کہ بنی اسرائیل میں ایک بچہ پیدا ہوگا۔ وہ بڑا ہو کر فرعون کی حکومت کے زوال کا سبب بنے گا۔ یہ خبر سن کر فرعون خوفزدہ ہو گیا۔ اس نے ایک ظالمانہ حکم جاری کیا۔ بنی اسرائیل میں پیدا ہونے والے ہر لڑکے کو قتل کر دیا جائے۔ لڑکیوں کو زندہ چھوڑ دیا جائے۔

اسی زمانے میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کی پیدائش ہوئی۔ ان کی والدہ بہت خوفزدہ تھیں۔ انہیں اپنے بچے کی جان کا خطرہ تھا۔ اسی وقت اللہ تعالیٰ نے ان کے دل میں ایک بات ڈالی۔ اللہ نے ان کو حکم دیا کہ بچے کو ایک صندوق میں رکھو۔ اور اسے دریا میں ڈال دو۔ اور ڈر مت۔ ہم اسے تمہارے پاس واپس لوٹا دیں گے۔

والدہ نے اللہ پر بھروسہ کیا۔ انہوں نے اپنے ننھے بیٹے کو ایک صندوق میں رکھا۔ پھر اسے دریا کے حوالے کر دیا۔ دریا کا پانی اس صندوق کو بہا کر فرعون کے محل کے قریب لے آیا۔ جب محل کے لوگوں نے صندوق کھولا تو اس میں ایک خوبصورت بچہ تھا۔

فرعون کی بیوی اس بچے کو دیکھ کر بہت متاثر ہوئی۔ اس کا نام Asiya bint Muzahim تھا۔ اس نے فرعون سے کہا کہ اس بچے کو قتل نہ کرو۔ شاید یہ ہمارے کام آئے۔ یا ہم اسے اپنا بیٹا بنا لیں۔ اس طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام فرعون کے محل میں پرورش پانے لگے۔

ادھر اللہ کی قدرت کا ایک اور عجیب منظر پیش آیا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کسی دایہ کا دودھ نہیں پیتے تھے۔ محل والے پریشان ہو گئے۔ اسی دوران حضرت موسیٰ علیہ السلام کی بہن وہاں پہنچی۔ اس نے کہا کہ میں ایک ایسی عورت کو جانتی ہوں جو اس بچے کی اچھی پرورش کر سکتی ہے۔ وہ عورت دراصل حضرت موسیٰ علیہ السلام کی اپنی والدہ تھیں۔ اس طرح اللہ نے بچے کو دوبارہ ماں کی گود میں واپس پہنچا دیا۔

وقت گزرتا گیا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام جوان ہو گئے۔ ایک دن شہر میں ایک واقعہ پیش آیا۔ انہوں نے دیکھا کہ ایک بنی اسرائیلی اور ایک مصری آپس میں لڑ رہے ہیں۔ بنی اسرائیلی نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے مدد مانگی۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے مصری کو ایک مکا مارا۔ وہ شخص مر گیا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اس پر افسوس ہوا۔ انہوں نے فوراً اللہ سے معافی مانگی۔

جب فرعون کو اس واقعہ کی خبر ہوئی تو اس نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو گرفتار کرنے کا حکم دیا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو خبر ملی تو وہ مصر چھوڑ کر نکل گئے۔ وہ سفر کرتے ہوئے مدین پہنچے۔ وہاں انہوں نے ایک کنویں کے پاس دو لڑکیوں کو دیکھا جو اپنی بکریوں کو پانی پلانے کے لیے کھڑی تھیں۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ان کی مدد کی۔

یہ لڑکیاں ایک نیک بزرگ کی بیٹیاں تھیں۔ بعد میں ان بزرگوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اپنے پاس ٹھہرنے کی دعوت دی۔ انہوں نے کئی سال وہاں گزارے۔ پھر ان کی شادی بھی انہی میں سے ایک بیٹی سے ہو گئی۔

کچھ عرصے بعد حضرت موسیٰ علیہ السلام اپنے خاندان کے ساتھ واپس مصر کی طرف روانہ ہوئے۔ راستے میں وہ ایک پہاڑ کے قریب پہنچے۔ یہ پہاڑ کوہ طور تھا۔ اسی مقام پر اللہ تعالیٰ نے انہیں نبوت عطا فرمائی۔ اللہ نے ان سے کلام کیا۔ اور انہیں حکم دیا کہ فرعون کے پاس جاؤ۔ اور اسے اللہ کی طرف بلاؤ۔

حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اللہ سے دعا کی کہ میرے بھائی Prophet Harun علیہ السلام کو بھی میرا مددگار بنا دیا جائے۔ اللہ نے ان کی دعا قبول کر لی۔

حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت ہارون علیہ السلام دونوں فرعون کے پاس گئے۔ انہوں نے اسے اللہ کی طرف بلایا۔ مگر فرعون نے انکار کر دیا۔ اس نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو جھٹلایا۔ اس نے اپنے جادوگروں کو بھی بلایا تاکہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کا مقابلہ کیا جا سکے۔

مقابلے کے دن جادوگروں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں زمین پر پھینکیں۔ وہ جادو کی وجہ سے سانپوں کی طرح نظر آنے لگیں۔ اس وقت اللہ کے حکم سے حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنا عصا زمین پر پھینکا۔ وہ ایک حقیقی اژدھا بن گیا۔ اس نے جادوگروں کے تمام جادو کو نگل لیا۔

یہ منظر دیکھ کر جادوگر فوراً سجدے میں گر گئے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ ہم حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون کے رب پر ایمان لاتے ہیں۔ فرعون بہت غصے میں آ گیا۔ اس نے انہیں سخت سزائیں دینے کا حکم دیا۔

آخر کار اللہ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو حکم دیا کہ بنی اسرائیل کو مصر سے نکال کر لے جائیں۔ وہ سب رات کے وقت مصر سے روانہ ہو گئے۔ جب فرعون کو خبر ملی تو وہ اپنی فوج کے ساتھ ان کے پیچھے نکل پڑا۔

آگے سمندر تھا۔ پیچھے فرعون کی فوج تھی۔ بنی اسرائیل گھبرا گئے۔ مگر حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اللہ پر مکمل یقین تھا۔ اللہ نے حکم دیا کہ اپنے عصا کو سمندر پر مارو۔ جیسے ہی انہوں نے عصا مارا سمندر میں راستے بن گئے۔ پانی دیواروں کی طرح کھڑا ہو گیا۔

حضرت موسیٰ علیہ السلام اور بنی اسرائیل ان راستوں سے گزر گئے۔ جب فرعون اور اس کی فوج اس راستے میں داخل ہوئی تو اللہ کے حکم سے پانی واپس آ گیا۔ اس طرح فرعون اور اس کی پوری فوج سمندر میں غرق ہو گئی۔

یہ اللہ کی بڑی نشانی تھی۔ اس کے بعد حضرت موسیٰ علیہ السلام اپنی قوم کے ساتھ آگے بڑھتے رہے۔ اللہ نے انہیں بہت سی نعمتیں عطا کیں۔ اور انہیں ہدایت کے لیے کتاب بھی عطا فرمائی۔

حضرت موسیٰ علیہ السلام کا یہ واقعہ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ ظلم چاہے کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو۔ اللہ کے سامنے اس کی کوئی حیثیت نہیں۔ جو لوگ ایمان اور صبر کے ساتھ اللہ پر بھروسہ کرتے ہیں اللہ آخر کار انہیں کامیابی عطا فرماتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے