حضرت لوط علیہ السلام اور ان کی قوم کا واقعہ..نافرمانی سے عذاب تک ایک عبرت ناک داستان

Spread the love

حضرت لوط علیہ السلام اور ان کی قوم کا واقعہ — نافرمانی سے عذاب تک ایک عبرت ناک داستان

ایک نبی علیہ السلام  کی مسلسل نصیحت۔ ایک قوم کی ہٹ دھرمی۔ اور آخر کار اللہ کے عذاب کا نزول۔

قرآن مجید میں کئی انبیائے کرام کے واقعات بیان ہوئے ہیں جن میں انسانوں کے لیے نصیحت اور عبرت موجود ہے۔ انہی واقعات میں ایک اہم واقعہ اللہ کے نبی Prophet Lut علیہ السلام کا ہے۔ یہ واقعہ Qur’an میں مختلف سورتوں میں بیان ہوا ہے۔ اس واقعہ میں ایک ایسی قوم کا ذکر ہے جو اخلاقی گمراہی میں مبتلا ہو چکی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی ہدایت کے لیے حضرت لوط علیہ السلام کو نبی بنا کر بھیجا۔

حضرت لوط علیہ السلام دراصل حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بھتیجے تھے۔ وہ اللہ کے نیک بندوں میں سے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں ایک ایسی قوم کی طرف بھیجا جو شام اور اردن کے علاقے میں آباد تھی۔ ان شہروں کو بعد میں قوم لوط کے شہر کہا گیا۔ ان میں سدوم اور عمورہ جیسے شہر شامل تھے۔

اس قوم کی سب سے بڑی برائی یہ تھی کہ وہ ایسی اخلاقی گمراہی میں مبتلا ہو چکے تھے جو اس سے پہلے دنیا میں کسی قوم میں نہیں پائی گئی تھی۔ وہ مردوں کے ساتھ وہ فعل کرتے تھے جو اللہ نے حرام قرار دیا ہے۔ قرآن مجید میں اس عمل کو سخت گناہ قرار دیا گیا ہے۔ یہ قوم کھلم کھلا برائی کرتی تھی۔ انہیں نہ شرم تھی اور نہ ہی کسی نصیحت کی پرواہ تھی۔

جب حضرت لوط علیہ السلام کو نبوت عطا ہوئی تو انہوں نے اپنی قوم کو اللہ کی طرف بلانا شروع کیا۔ انہوں نے نہایت نرمی اور خیر خواہی کے ساتھ اپنی قوم کو سمجھایا۔ انہوں نے کہا کہ تم لوگ ایک ایسی برائی کا ارتکاب کر رہے ہو جو تم سے پہلے کسی قوم نے نہیں کی۔ انہوں نے انہیں اللہ سے ڈرنے اور اپنی زندگیوں کو پاکیزہ بنانے کی دعوت دی۔

حضرت لوط علیہ السلام نے اپنی قوم سے کہا کہ اللہ نے تمہارے لیے نکاح کا پاکیزہ راستہ رکھا ہے۔ تم اپنی بیویوں کے پاس جاؤ۔ یہ تمہارے لیے جائز اور پاکیزہ راستہ ہے۔ مگر تم اس راستے کو چھوڑ کر گناہ کے راستے پر چل پڑے ہو۔ تم حد سے تجاوز کرنے والے لوگ ہو۔

لیکن قوم نے حضرت لوط علیہ السلام کی باتوں کو سنجیدگی سے نہیں لیا۔ وہ ان کا مذاق اڑانے لگے۔ انہوں نے کہا کہ اگر تم واقعی سچے ہو تو وہ عذاب لے آؤ جس کی تم ہمیں دھمکی دیتے ہو۔ انہوں نے یہاں تک کہا کہ لوط علیہ السلام  اور اس کے ماننے والوں کو شہر سے نکال دو کیونکہ یہ لوگ پاکیزگی کی بات کرتے ہیں۔

حضرت لوط علیہ السلام اپنی قوم کی اس ہٹ دھرمی سے بہت غمگین ہوتے تھے۔ وہ مسلسل انہیں سمجھاتے رہے۔ مگر قوم کے اکثر لوگ گمراہی میں ڈوبے ہوئے تھے۔ بہت کم لوگ ایمان لائے۔

حضرت لوط علیہ السلام کی اپنی بیوی بھی ایمان والوں میں شامل نہ تھی۔ وہ دل سے اپنی قوم کے ساتھ تھی۔ وہ حضرت لوط علیہ السلام کے مشن کی مخالفت کرتی تھی۔ قرآن مجید میں اسے کافروں کے ساتھ شمار کیا گیا ہے۔

وقت گزرتا رہا۔ قوم کی نافرمانی بڑھتی گئی۔ وہ کھلم کھلا برائی کرنے لگے۔ وہ مسافروں کو بھی تنگ کرتے تھے۔ راستوں میں بیٹھ کر لوگوں کو ستاتے تھے۔ برائی کو فخر سمجھتے تھے۔

جب ان کی سرکشی حد سے بڑھ گئی تو اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف فرشتے بھیجے۔ یہ فرشتے پہلے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس گئے۔ انہوں نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو بیٹے کی خوشخبری دی۔ پھر انہوں نے بتایا کہ ہم ایک ظالم قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں تاکہ ان پر عذاب نازل کریں۔

حضرت ابراہیم علیہ السلام کو جب معلوم ہوا کہ یہ قوم لوط علیہ السلام کا علاقہ ہے تو وہ پریشان ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ وہاں تو لوط  علیہ السلام بھی رہتے ہیں۔ فرشتوں نے جواب دیا کہ ہمیں سب معلوم ہے۔ ہم لوط علیہ السلام اور ان کے اہل ایمان کو بچا لیں گے۔

اس کے بعد فرشتے حضرت لوط علیہ السلام کے شہر پہنچے۔ وہ خوبصورت نوجوانوں کی شکل میں تھے۔ جب حضرت لوط علیہ السلام نے انہیں دیکھا تو وہ بہت پریشان ہو گئے۔ انہیں خوف تھا کہ ان کی قوم ان مہمانوں کو نقصان پہنچائے گی۔

حضرت لوط علیہ السلام انہیں اپنے گھر لے گئے۔ مگر شہر کے لوگوں کو خبر ہو گئی۔ وہ دوڑتے ہوئے حضرت لوط علیہ السلام کے گھر پہنچ گئے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ان مہمانوں کو ہمارے حوالے کر دو۔

حضرت لوط علیہ السلام نے انہیں بہت سمجھایا۔ انہوں نے کہا کہ یہ میرے مہمان ہیں۔ مجھے رسوا نہ کرو۔ انہوں نے انہیں اللہ سے ڈرنے کی نصیحت کی۔ انہوں نے کہا کہ اگر تمہیں خواہش ہے تو میری قوم کی عورتیں موجود ہیں۔ نکاح کا راستہ اختیار کرو۔ مگر تم لوگ حد سے تجاوز کرنے والے ہو۔

مگر قوم نے انکار کر دیا۔ وہ اپنی ضد پر قائم رہے۔ اس وقت فرشتوں نے حضرت لوط علیہ السلام کو بتایا کہ ہم اللہ کے بھیجے ہوئے فرشتے ہیں۔ یہ لوگ تمہیں نقصان نہیں پہنچا سکتے۔

فرشتوں نے حضرت لوط علیہ السلام کو حکم دیا کہ رات کے وقت اپنے گھر والوں کو لے کر شہر سے نکل جاؤ۔ اور پیچھے مڑ کر نہ دیکھنا۔ مگر تمہاری بیوی ان لوگوں کے ساتھ رہ جائے گی کیونکہ وہ انہی کے انجام کو پہنچے گی۔

رات کے وقت حضرت لوط علیہ السلام اپنے ماننے والوں کو لے کر شہر سے نکل گئے۔ صبح کے وقت اللہ کا عذاب نازل ہوا۔ قرآن مجید میں بیان کیا گیا ہے کہ ان بستیوں کو الٹ دیا گیا۔ ان پر پکی ہوئی مٹی کے پتھر برسائے گئے۔ ان کے شہر تباہ ہو گئے۔

یہ عذاب بہت سخت تھا۔ پوری قوم تباہ ہو گئی۔ ان کے شہر کھنڈر بن گئے۔ بعد میں یہ علاقہ مردار سمندر یعنی بحر مردار کے علاقے کے طور پر مشہور ہو گیا۔

قرآن مجید میں اس واقعہ کو بار بار بیان کیا گیا ہے تاکہ لوگ اس سے عبرت حاصل کریں۔ یہ واقعہ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ جب کوئی قوم کھلم کھلا گناہ کرنے لگے اور اللہ کے پیغمبر کی نصیحت کو ٹھکرا دے تو انجام تباہی کی صورت میں نکلتا ہے۔

حضرت لوط علیہ السلام نے اپنی قوم کو پوری دیانت داری کے ساتھ اللہ کا پیغام پہنچایا۔ انہوں نے ہر ممکن کوشش کی کہ لوگ ہدایت قبول کر لیں۔ مگر قوم نے انکار کیا۔ اللہ کے قانون کے مطابق جب ظلم اور گمراہی حد سے بڑھ جائے تو عذاب آ جاتا ہے۔

یہ واقعہ ہمیں یہ بھی سکھاتا ہے کہ ایمان صرف ظاہری تعلق سے نہیں ہوتا۔ حضرت لوط علیہ السلام کی بیوی نبی کے گھر میں رہتی تھی۔ مگر ایمان نہ لانے کی وجہ سے وہ بھی عذاب سے نہ بچ سکی۔

قرآن مجید میں اس واقعہ کو اس لیے بیان کیا گیا ہے تاکہ آنے والی نسلیں اس سے سبق حاصل کریں۔ انسان کو چاہیے کہ اللہ کے احکام کی پابندی کرے۔ نبیوں کی تعلیمات کو قبول کرے۔ اور برائی کے راستے سے بچ کر رہے۔

Please Watch Chakwal Plus YouTube Channel

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے