قرآن مجید میں انبیاء علیہم السلام کے واقعات انسانوں کے لیے ہدایت اور نصیحت کا عظیم ذریعہ ہیں۔ ان واقعات میں اللہ تعالیٰ کی قدرت، اس کی حکمت اور اس کے بندوں کی آزمائشوں کا ذکر موجود ہے۔ انہی عظیم واقعات میں سے ایک نہایت اہم اور ایمان افروز واقعہ حضرت مریم علیہ السلام اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش کا ہے۔ یہ واقعہ اللہ تعالیٰ کی بے مثال قدرت کو ظاہر کرتا ہے کہ وہ جب چاہے جس طرح چاہے اپنی قدرت کا مظاہرہ فرما سکتا ہے۔ اس واقعے کا تفصیلی ذکر Qur’an میں خاص طور پر سورۃ مریم اور سورۃ آل عمران میں بیان ہوا ہے۔
حضرت مریم علیہ السلام ایک نہایت پاکیزہ اور نیک خاتون تھیں۔ وہ بنی اسرائیل کے ایک معزز خاندان سے تعلق رکھتی تھیں۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں بچپن ہی سے عبادت اور پاکیزگی کی زندگی عطا فرمائی تھی۔ قرآن مجید میں ذکر ہے کہ حضرت مریم علیہ السلام کی والدہ نے انہیں اللہ تعالیٰ کی خدمت کے لیے وقف کر دیا تھا۔ اسی وجہ سے حضرت مریم علیہ السلام بیت المقدس میں عبادت اور ذکرِ الٰہی میں مصروف رہتی تھیں۔
حضرت مریم علیہ السلام کی کفالت حضرت زکریا علیہ السلام کے سپرد تھی۔ جب بھی حضرت زکریا علیہ السلام عبادت گاہ میں ان کے پاس جاتے تو دیکھتے کہ وہاں غیر معمولی رزق موجود ہے۔ وہ حیرت سے پوچھتے کہ اے مریم۔ یہ رزق تمہارے پاس کہاں سے آیا۔ حضرت مریم علیہ السلام جواب دیتیں کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ بے شک اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے بے حساب رزق عطا فرماتا ہے۔
حضرت مریم علیہ السلام اپنی عبادت اور پاکیزگی کی وجہ سے لوگوں میں بہت عزت رکھتی تھیں۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں تمام عورتوں میں ایک خاص مقام عطا فرمایا تھا۔ ایک دن اللہ تعالیٰ نے ان کی زندگی میں ایک عظیم واقعہ پیش کرنے کا ارادہ فرمایا جو قیامت تک لوگوں کے لیے نشانی بن گیا۔
ایک دن حضرت مریم علیہ السلام لوگوں سے الگ ہو کر عبادت کے لیے ایک جگہ تشریف لے گئیں۔ اسی دوران اللہ تعالیٰ نے ایک فرشتے کو ان کے پاس بھیجا۔ یہ فرشتہ حضرت جبرائیل علیہ السلام تھے۔ وہ ایک مکمل انسان کی شکل میں حضرت مریم علیہ السلام کے سامنے ظاہر ہوئے۔
جب حضرت مریم علیہ السلام نے انہیں دیکھا تو وہ گھبرا گئیں اور فوراً کہا کہ میں تم سے رحمان کی پناہ مانگتی ہوں اگر تم اللہ سے ڈرنے والے ہو۔ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے انہیں تسلی دی اور فرمایا کہ میں تمہارے رب کا بھیجا ہوا قاصد ہوں۔ میں تمہیں ایک پاکیزہ بیٹے کی خوشخبری دینے آیا ہوں۔
حضرت مریم علیہ السلام نے حیرت سے کہا کہ میرے ہاں بیٹا کیسے ہو سکتا ہے جبکہ مجھے کسی انسان نے ہاتھ تک نہیں لگایا اور میں کوئی بدکار عورت بھی نہیں ہوں۔ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے جواب دیا کہ یہ اللہ تعالیٰ کا فیصلہ ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ میرے لیے بہت آسان ہے اور ہم اسے لوگوں کے لیے نشانی اور اپنی رحمت بنائیں گے۔
اس کے بعد اللہ تعالیٰ کے حکم سے حضرت مریم علیہ السلام کو حمل ہو گیا۔ یہ ایک ایسا معجزہ تھا جس نے لوگوں کو حیران کر دیا کیونکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش بغیر باپ کے ہوئی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت سے یہ معجزہ ظاہر فرمایا تاکہ لوگوں کو معلوم ہو کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے۔
جب حضرت مریم علیہ السلام کو محسوس ہوا کہ وہ حاملہ ہیں تو وہ لوگوں سے الگ ایک دور دراز مقام کی طرف چلی گئیں۔ وہ خاموشی کے ساتھ اپنی زندگی گزارنے لگیں تاکہ کسی کو اس راز کا علم نہ ہو۔ وقت گزرتا گیا اور آخر وہ لمحہ آ گیا جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش کا وقت قریب آ گیا۔
زچگی کے وقت حضرت مریم علیہ السلام ایک کھجور کے درخت کے پاس پہنچ گئیں۔ اس وقت درد کی شدت اور تنہائی کی وجہ سے ان کے دل میں غم اور پریشانی پیدا ہوئی۔ انہوں نے دل ہی دل میں کہا کہ کاش میں اس سے پہلے ہی فوت ہو جاتی اور لوگ مجھے بھول جاتے۔
اسی وقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے انہیں تسلی دی گئی۔ انہیں بتایا گیا کہ غم نہ کرو۔ اللہ تعالیٰ نے تمہارے نیچے ایک چشمہ جاری کر دیا ہے۔ تم کھجور کے درخت کو ہلاؤ تو اس سے تازہ کھجوریں تمہارے اوپر گریں گی۔ تم کھاؤ، پیو اور اپنے دل کو مطمئن رکھو۔
چنانچہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے حضرت مریم علیہ السلام نے درخت کو ہلایا اور تازہ کھجوریں گرنے لگیں۔ انہوں نے پانی پیا اور کھجوریں کھائیں۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے ان کی مدد فرمائی اور ان کے دل کو سکون عطا کیا۔ اسی جگہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش ہوئی۔
کچھ وقت بعد حضرت مریم علیہ السلام اپنے نومولود بچے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو لے کر اپنی قوم کے پاس واپس آئیں۔ جب لوگوں نے انہیں بچے کے ساتھ دیکھا تو وہ حیران اور پریشان ہو گئے۔ انہوں نے کہا کہ اے مریم۔ تم نے تو ایک عجیب کام کر دیا ہے۔ اے ہارون کی بہن۔ نہ تمہارے والد برے آدمی تھے اور نہ تمہاری والدہ بدکار تھیں۔
حضرت مریم علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہدایت دی گئی تھی کہ وہ اس معاملے میں خاموش رہیں اور کوئی جواب نہ دیں۔ اس لیے انہوں نے لوگوں کے سوالات کے جواب میں بچے کی طرف اشارہ کر دیا۔
لوگوں نے تعجب سے کہا کہ ہم ایک شیر خوار بچے سے کیسے بات کریں۔ اسی وقت اللہ تعالیٰ نے ایک اور عظیم معجزہ ظاہر فرمایا۔ نومولود حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے گہوارے میں ہی گفتگو شروع کر دی۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا کہ بے شک میں اللہ کا بندہ ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے کتاب عطا فرمائی ہے اور مجھے نبی بنایا ہے۔ اس نے مجھے بابرکت بنایا ہے جہاں کہیں بھی میں رہوں۔ اس نے مجھے نماز اور زکوٰۃ کا حکم دیا ہے جب تک میں زندہ رہوں۔ اس نے مجھے اپنی والدہ کے ساتھ حسن سلوک کرنے والا بنایا ہے اور مجھے سرکش اور بدبخت نہیں بنایا۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی یہ گفتگو سن کر لوگ حیران رہ گئے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کا ایک عظیم معجزہ تھا۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے حضرت مریم علیہ السلام کی پاکیزگی اور سچائی کو لوگوں کے سامنے ظاہر کر دیا۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش کا یہ واقعہ اس بات کی واضح دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ جب کسی چیز کا ارادہ فرماتا ہے تو صرف یہ کہتا ہے کہ ہو جا اور وہ ہو جاتی ہے۔ جس طرح اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو بغیر ماں باپ کے پیدا فرمایا اسی طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بغیر باپ کے پیدا کیا۔ یہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانیوں میں سے ایک عظیم نشانی ہے۔
یہ واقعہ ہمیں یہ سبق بھی دیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندوں کو آزمائشوں سے گزارتا ہے لیکن آخرکار ان کی مدد بھی فرماتا ہے۔ حضرت مریم علیہ السلام نے صبر، پاکیزگی اور اللہ پر کامل اعتماد کی مثال قائم کی۔ اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے انہیں ایک بلند مقام عطا فرمایا اور انہیں قیامت تک آنے والے انسانوں کے لیے ایک عظیم مثال بنا دیا۔


