حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی قربانی، زمزم اور خانہ کعبہ کی تعمیر کا مکمل واقعہ

Spread the love

حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی قربانی، زمزم اور خانہ کعبہ کی تعمیر کا مکمل واقعہ

قرآن مجید میں انبیاء علیہم السلام کے واقعات انسانیت کے لیے ہدایت اور عبرت کا خزانہ ہیں۔ ان واقعات میں ایمان، صبر، قربانی اور اللہ تعالیٰ پر کامل بھروسے کے بے شمار اسباق موجود ہیں۔ انہی عظیم واقعات میں سے ایک نہایت اہم اور ایمان افروز واقعہ حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی قربانی کا ہے۔ یہ واقعہ اطاعت اور قربانی کی ایسی مثال پیش کرتا ہے جو قیامت تک مسلمانوں کے لیے رہنمائی کا ذریعہ رہے گا۔ اس واقعے کا ذکر Qur’an کی مختلف سورتوں میں آیا ہے، جن میں سورۃ البقرہ، سورۃ الصافات اور سورۃ ابراہیم خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔

حضرت ابراہیم علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے عظیم پیغمبر تھے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنی زندگی میں کئی بڑی آزمائشوں سے گزارا۔ انہوں نے ہر آزمائش کو صبر، ایمان اور کامل اطاعت کے ساتھ قبول کیا۔ اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے انہیں ایک بلند مقام عطا فرمایا اور انہیں انسانوں کا امام بنایا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی زندگی کا ایک اہم مرحلہ وہ تھا جب اللہ تعالیٰ کے حکم سے انہیں اپنی اہلیہ حضرت ہاجرہ علیہ السلام اور ننھے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو عرب کی ایک بے آب و گیاہ وادی میں چھوڑنے کا حکم ملا۔

اس زمانے میں یہ علاقہ مکمل طور پر ویران تھا۔ وہاں نہ کوئی بستی تھی، نہ پانی کا کوئی چشمہ تھا اور نہ زندگی کی کوئی علامت تھی۔ یہی جگہ آج پوری دنیا میں مکہ مکرمہ کے نام سے جانی جاتی ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے اپنی اہلیہ حضرت ہاجرہ علیہ السلام اور بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو وہاں چھوڑ کر واپس جانے لگے۔ حضرت ہاجرہ رضی اللہ عنہا نے حیرت کے ساتھ پوچھا کہ کیا ہمیں اس سنسان وادی میں چھوڑ کر جا رہے ہیں۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام خاموش رہے۔ پھر انہوں نے دوبارہ سوال کیا کہ کیا یہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے سر کے اشارے سے جواب دیا کہ ہاں یہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے۔ یہ سن کر حضرت ہاجرہ علیہ السلام نے نہایت یقین اور ایمان کے ساتھ کہا کہ اگر یہ اللہ کا حکم ہے تو اللہ میں ضائع نہیں کرے گا۔کچھ وقت تک حضرت ہاجرہ اسماعیل علیہ السلام کے پاس تھوڑا سا پانی اور کھجوریں موجود تھیں۔ جب یہ ختم ہو گئیں تو ننھے حضرت اسماعیل علیہ السلام پیاس کی شدت سے بے چین ہونے لگے۔ ماں کا دل اپنے بچے کی حالت دیکھ کر تڑپ اٹھا۔ حضرت ہاجرہ اسماعیل علیہ السلام پانی کی تلاش میں ایک پہاڑی پر چڑھ گئیں تاکہ کسی قافلے یا پانی کا کوئی نشان نظر آئے۔ اس پہاڑی کا نام صفا ہے۔ وہاں سے کچھ نظر نہ آیا تو وہ دوسری پہاڑی مروہ کی طرف گئیں۔ اس طرح وہ صفا اور مروہ کے درمیان دوڑتی رہیں۔ انہوں نے سات مرتبہ یہ فاصلہ طے کیا۔ یہ منظر اللہ تعالیٰ کو اتنا پسند آیا کہ قیامت تک آنے والے مسلمانوں کے لیے حج اور عمرہ کے دوران صفا اور مروہ کے درمیان سعی کو عبادت کا حصہ بنا دیا گیا۔

اسی دوران اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کا ایک عظیم معجزہ ظاہر فرمایا۔ حضرت اسماعیل علیہ السلام کے قدموں کے قریب زمین سے پانی کا ایک چشمہ پھوٹ پڑا۔  حضرت ہاجرہ اسماعیل علیہ السلام نے جلدی سے اس پانی کو جمع کرنا شروع کیا اور اسے بہنے سے روکنے لگیں۔ یہی چشمہ بعد میں آبِ زمزم کے نام سے مشہور ہوا۔ یہ ایک ایسا بابرکت چشمہ ہے جو ہزاروں سال گزرنے کے باوجود آج تک جاری ہے اور دنیا بھر کے مسلمان اسے برکت اور شفا کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔

زمزم کے چشمے کی وجہ سے اس وادی میں زندگی کا آغاز ہوا۔ مختلف قافلے وہاں سے گزرنے لگے۔ کچھ عرصے بعد قبیلہ جرہم کے لوگ وہاں آباد ہو گئے۔ حضرت ہاجرہ اسماعیل علیہ السلام نے انہیں وہاں رہنے کی اجازت دی۔ اس طرح مکہ مکرمہ کی پہلی بستی وجود میں آئی۔ حضرت اسماعیل علیہ السلام اسی ماحول میں پروان چڑھے۔ وہ جوان ہوئے اور عرب قبائل کے درمیان عزت اور احترام کے ساتھ زندگی گزارنے لگے۔

وقت گزرنے کے ساتھ حضرت اسماعیل علیہ السلام نوجوان ہو گئے۔ اسی دوران حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ایک عجیب خواب دیکھا۔ انہوں نے خواب میں دیکھا کہ وہ اپنے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ کی راہ میں قربان کر رہے ہیں۔ انبیاء علیہم السلام کے خواب عام انسانوں کے خوابوں کی طرح نہیں ہوتے بلکہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اشارہ اور وحی ہوتے ہیں۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام سمجھ گئے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک عظیم امتحان ہے۔

حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو یہ خواب بتایا۔ انہوں نے نہایت محبت اور شفقت کے ساتھ فرمایا کہ اے میرے بیٹے۔ میں خواب میں دیکھتا ہوں کہ میں تمہیں ذبح کر رہا ہوں۔ تم بتاؤ کہ تمہاری کیا رائے ہے۔ حضرت اسماعیل علیہ السلام نے نہایت ایمان اور اطاعت کے ساتھ جواب دیا کہ اے میرے والد۔ آپ کو جو حکم دیا گیا ہے اسے پورا کریں۔ ان شاء اللہ آپ مجھے صبر کرنے والوں میں سے پائیں گے۔ یہ جواب اللہ کے نیک بندوں کی اطاعت اور ایمان کی ایک بے مثال مثال ہے۔

اس کے بعد حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام اللہ کے حکم کو پورا کرنے کے لیے روانہ ہوئے۔ جب وہ قربانی کے مقام پر پہنچے تو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے بیٹے کو زمین پر لٹا دیا تاکہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کر سکیں۔ یہ ایک ایسا لمحہ تھا جس میں ایک باپ اپنے بیٹے کو اللہ کی رضا کے لیے قربان کرنے کے لیے تیار تھا اور ایک بیٹا اپنے رب کے حکم پر اپنی جان پیش کرنے کے لیے تیار تھا۔

اسی وقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے آواز آئی کہ اے ابراہیم۔ تم نے اپنے خواب کو سچا کر دکھایا۔ بے شک ہم نیک لوگوں کو اسی طرح جزا دیتے ہیں۔ یہ ایک بہت بڑی آزمائش تھی جس میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کامیاب ہو گئے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی جگہ ایک عظیم دنبہ بھیج دیا اور حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اسی دنبے کی قربانی دی۔ اسی واقعے کی یاد میں مسلمان ہر سال عید الاضحیٰ کے موقع پر جانوروں کی قربانی کرتے ہیں۔

اس عظیم واقعے کے بعد اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو ایک اور اہم ذمہ داری عطا فرمائی۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں حکم دیا کہ وہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کے ساتھ مل کر اللہ کے گھر کی تعمیر کریں۔ چنانچہ حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام نے مل کر خانہ کعبہ کی بنیادیں بلند کیں۔ وہ پتھر اٹھاتے اور دیواریں تعمیر کرتے جاتے تھے اور ساتھ ساتھ دعا بھی کرتے جاتے تھے کہ اے ہمارے رب۔ ہماری یہ خدمت قبول فرما۔ بے شک تو سننے والا اور جاننے والا ہے۔

خانہ کعبہ دنیا کا سب سے مقدس گھر ہے۔ یہی وہ مقام ہے جس کی طرف رخ کر کے دنیا بھر کے مسلمان نماز ادا کرتے ہیں۔ جب خانہ کعبہ کی تعمیر مکمل ہو گئی تو اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو حکم دیا کہ لوگوں میں حج کا اعلان کریں۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اللہ کے حکم کے مطابق لوگوں کو حج کی دعوت دی۔ اللہ تعالیٰ نے اس آواز کو پوری انسانیت تک پہنچا دیا۔ آج بھی ہر سال لاکھوں مسلمان مکہ مکرمہ آ کر حج ادا کرتے ہیں اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت کو زندہ کرتے ہیں۔

حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کا یہ واقعہ ایمان، صبر، قربانی اور اللہ تعالیٰ پر کامل یقین کی ایک عظیم مثال ہے۔ اس واقعے سے یہ سبق ملتا ہے کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ کے حکم کے سامنے سر تسلیم خم کرتے ہیں اللہ تعالیٰ انہیں دنیا اور آخرت دونوں میں بلند مقام عطا فرماتا ہے۔ اسی وجہ سے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے خلیل اللہ یعنی اللہ کا دوست قرار دیا۔ یہ واقعہ مسلمانوں کو یہ بھی یاد دلاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے دی گئی قربانی کبھی ضائع نہیں ہوتی بلکہ وہ انسان کے لیے عزت اور کامیابی کا سبب بن جاتی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے