رمضان قرآن سیریز: دوسرا پارہ سیقول کا مکمل آسان خلاصہ | روزہ، قبلہ اور احکام

Spread the love

رمضان قرآن سیریز

رمضان قرآن سیریز: دوسرا پارہ سیقول کا مکمل آسان خلاصہ | روزہ، قبلہ اور احکام

دوسرا پارہ — “سیقول” ہدایت سے عمل کی طرف سفر

قرآنِ مجید کا دوسرا پارہ دراصل پہلے پارے کے پیغام کو آگے بڑھاتا ہے۔ پہلے پارے میں انسان کو ایمان، ہدایت اور تاریخ کے آئینے میں اپنی اصلاح کی دعوت دی گئی تھی، جبکہ دوسرے پارے میں اب عملی زندگی کے احکامات شروع ہوتے ہیں۔ یہاں ایمان صرف نظریہ نہیں رہتا بلکہ عبادت، معاشرہ، اخلاق اور اجتماعی نظام کی صورت اختیار کرتا ہے۔ اس پارے کا آغاز قبلہ کی تبدیلی کے ذکر سے ہوتا ہے، جو بظاہر ایک سمت کی تبدیلی تھی مگر حقیقت میں امتِ مسلمہ کی شناخت اور اطاعتِ الٰہی کا امتحان تھا۔

ابتدا میں بتایا جاتا ہے کہ کچھ لوگ اعتراض کریں گے کہ مسلمانوں نے اپنا قبلہ کیوں بدل لیا۔ قرآن واضح کرتا ہے کہ مشرق و مغرب سب اللہ کے ہیں، اصل مقصد سمت نہیں بلکہ اطاعت ہے۔ بیت المقدس سے خانہ کعبہ کی طرف رخ کرنے کا حکم دراصل اس بات کا اعلان تھا کہ اب امتِ مسلمہ کو ایک مستقل امت کی حیثیت دی جا رہی ہے۔ یہاں یہ بھی بتایا گیا کہ اللہ نے امتِ محمدیہ کو “امتِ وسط” یعنی اعتدال والی امت بنایا ہے تاکہ وہ دنیا کیلئے گواہ بنے۔ اس واقعے سے یہ اصول سامنے آتا ہے کہ سچا مومن حکم کی حکمت تلاش کرنے سے پہلے اس پر عمل کرتا ہے۔

اس کے بعد صبر، نماز اور آزمائش کا ذکر آتا ہے۔ انسان کو بتایا جاتا ہے کہ خوف، بھوک، مال و جان کے نقصان اور مشکلات کے ذریعے آزمایا جائے گا، مگر خوشخبری صبر کرنے والوں کیلئے ہے۔ شہداء کو مردہ نہ کہنے کی تعلیم دی گئی، کیونکہ اللہ کی راہ میں جان دینے والے درحقیقت زندہ ہوتے ہیں۔ یوں ایمان کو عملی قربانی سے جوڑا گیا۔

پھر حج اور صفا و مروہ کا ذکر آتا ہے اور بتایا جاتا ہے کہ اللہ کی نشانیوں کی تعظیم ایمان کا حصہ ہے۔ ساتھ ہی ان لوگوں کی مذمت کی گئی جو اللہ کی نازل کردہ ہدایت کو چھپاتے ہیں۔ اس کے بعد انسان کو پاکیزہ اور حلال رزق کھانے کا حکم دیا جاتا ہے اور شیطان کے نقش قدم سے بچنے کی تلقین کی جاتی ہے، کیونکہ وہ انسان کو آہستہ آہستہ گمراہی کی طرف لے جاتا ہے۔

اسی سلسلے میں ایک اہم سوال اٹھایا جاتا ہے کہ اصل نیکی کیا ہے؟ قرآن جواب دیتا ہے کہ نیکی صرف ظاہری سمتوں کی طرف منہ کرنے کا نام نہیں بلکہ ایمان، سخاوت، نماز، وعدہ پورا کرنے اور صبر کا مجموعہ ہے۔ یہاں دین کا مکمل اخلاقی تصور پیش کیا جاتا ہے۔ پھر معاشرتی قوانین شروع ہوتے ہیں جن میں قصاص کا حکم دیا گیا تاکہ معاشرے میں انصاف قائم ہو اور خونریزی رک سکے۔ ساتھ ہی وصیت اور وراثت سے متعلق بنیادی ہدایات دی گئیں تاکہ مالی معاملات میں ظلم نہ ہو۔

اسی پارے میں روزوں کا حکم نازل ہوتا ہے جو رمضان المبارک کی اصل روح ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ روزہ صرف بھوک و پیاس کا نام نہیں بلکہ تقویٰ حاصل کرنے کا ذریعہ ہے۔ مریض اور مسافر کیلئے آسانی رکھی گئی، اور یہ اصول دیا گیا کہ اللہ تمہارے لیے آسانی چاہتا ہے، سختی نہیں۔ روزے کے احکام کے ساتھ دعا کی اہمیت بھی بیان کی گئی کہ اللہ اپنے بندوں کے قریب ہے اور پکارنے والے کی دعا سنتا ہے۔ یوں عبادت کو براہِ راست اللہ سے تعلق کے ساتھ جوڑ دیا گیا۔

اس کے بعد مال کے معاملات، رشوت، ناجائز طریقوں سے دوسروں کا حق کھانے اور معاشرتی فساد سے روکا گیا۔ جہاد کا ابتدائی حکم بھی اسی پارے میں آتا ہے، مگر ساتھ ہی واضح کر دیا گیا کہ زیادتی نہ کرو کیونکہ اللہ حد سے بڑھنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ یہاں جنگ کو دفاع اور ظلم کے خاتمے کے اصول کے تحت بیان کیا گیا۔

پھر حج کے مزید احکام، احرام، قربانی اور عبادت کے آداب ذکر کیے گئے تاکہ اجتماعی عبادت نظم و ضبط کے ساتھ ادا ہو۔ اس کے ساتھ انسان کی نفسیات بیان کی گئی کہ بعض لوگ دنیاوی باتوں میں بہت دلکش گفتگو کرتے ہیں مگر دل میں فساد رکھتے ہیں، جبکہ کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جو اللہ کی رضا کیلئے اپنی جان تک قربان کر دیتے ہیں۔ یہ دونوں کردار انسان کے سامنے رکھ کر انتخاب کی دعوت دی گئی۔

اس پارے کے آخر میں سود کی تمہید، مالی دیانت اور اللہ کے ذکر کی تاکید ملتی ہے، اور انسان کو بار بار یاد دلایا جاتا ہے کہ دنیا کی زندگی عارضی ہے جبکہ اصل کامیابی آخرت کی ہے۔ یوں دوسرا پارہ ایمان کو عملی زندگی، عبادات، معاملات اور اجتماعی نظام میں ڈھالتا ہے۔


 اس پارے کے اہم مضامین

  1. قبلہ کی تبدیلی اور امت کی شناخت

  2. امتِ وسط کا تصور

  3. آزمائش اور صبر کی تعلیم

  4. شہداء کی فضیلت

  5. حج اور اللہ کی نشانیوں کا احترام

  6. حلال و حرام رزق

  7. نیکی کا حقیقی مفہوم

  8. قصاص اور معاشرتی انصاف

  9. روزوں کا حکم اور فلسفہ

  10. دعا اور اللہ سے قرب

  11. مالی معاملات میں دیانت

  12. جہاد کے اصول

  13. حج کے اجتماعی احکام

  14. انسانی کردار کی دو مثالیں

  15. دنیا اور آخرت کا تقابل


دوسرے پارے کا مجموعی پیغام

یہ پارہ انسان کو بتاتا ہے کہ ایمان صرف دل کا یقین نہیں بلکہ مکمل طرزِ زندگی ہے۔ عبادات، معاملات، اخلاق اور اجتماعی نظام — سب مل کر اسلام کی عملی شکل بناتے ہیں۔ اطاعت، صبر اور اعتدال ہی کامیابی کا راستہ ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے