چکوال کے روایتی مٹی کے برتن: دم توڑتی صنعت کی داستان

Spread the love
Written and Photography by: Muhammad Farooq Minhas
Author: Chakwal Plus

برتن سازی کی تاریخ ، ایک تعارف

مٹی کے برتن سازی کی صنعت انسانی تہذیب و تمدن کا ایک قدیم حصہ رہی ہے۔ یہ صنعت پرانی تہذیبوں میں ضروریات زندگی کو پورا کرنے کیلئے استعمال ہوتی تھی۔ مصر ، بابل، یونان اور وادی سندھ کی تہذیبوں میں مٹی کے برتنوں کا استعمال عام تھا ۔ اسی لئے وہاں پر برتن سازی کے کارخانے بھی عام تھے۔ انہی تہذیبوں کے لوگ مٹی کے برتنوں کو ضروریات زندگی میں استعمال کرتے تھے۔ جیسا کہ کھانا پکانے ، پانی ذخیرہ کرنے ، روشنی کا انتظام کرنے سمیت ہر عام و خاص مقصد کیلئے مٹی کے برتن استعمال کرتے تھے۔

پاکستان کے بہت سارے علاقوں میں بھی مٹی کے برتن بنائے جاتے ہیں۔ جن میں سندھ کو خاص مقام حاصل ہے۔ پنجاب میں بھی برتن سازی کا کام کیا جاتا ہے۔ لیکن چکوال میں مٹی کے برتن بنانے کی ایک لمبی تاریخ ہے۔ یہاں کے لوگ صدیوں سے مٹی کے برتن بنانے میں مہارت رکھتے ہیں۔ ان برتنوں کی تیاری میں استعمال ہونے والی مٹی کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ کھوکھر زیر اور دیگر قریبی علاقوں کی مٹی کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ جس سے بنائے گئے برتن نہ صرف خوبصورت ہوتے ہیں بلکہ پائیدار بھی ہوتے ہیں۔

مٹی کے برتنوں کی صنعت کی اہمیت

مٹی کے برتن نہ صرف ایک ثقافتی ورثہ ہیں بلکہ ان کا استعمال صحت کیلئے بھی مفید ہے۔ قدیم زمانے میں لوگ مٹی کے برتنوں میں کھانا پکاتے اور رکھتے تھے۔ کیونکہ یہ برتن قدرتی طور پر زہریلے کیمیکلز سے پاک ہوتے ہیں۔ مٹی کے برتنوں میں پکایا گیا کھانا صحت کیلئے بہتر سمجھا جاتا ہے۔ کیونکہ اس میں مٹی کی قدرتی خصوصیات شامل ہو جاتی ہیں جو کھانے کو ٹھنڈا اور ذائقہ دار رکھتی ہیں۔

کھوکھر زیر میں برتن سازی اور خرم زمان


کھوکھر زیر میں کئی گھرانے برتن سازی کے کام میں مصروف ہیں۔ انہی میں سے ایک گھر خرم شہزاد کا بھی ہے۔ خرم شہزاد ایک محنتی شخص ہے۔ سب سے پہلے اس سے ہماری ملاقات ہوئی ۔اس نے اپنے مخصوص انداز میں برتن سازی کے سارے عمل پر روشنی ڈالی اور جیسے جیسے برتن سازی کا عمل ہوتا ہے وہ سارا عملی کر کے دکھایا۔ خرم شہزاد برتن سازی کے ہنر کا ماہر ہے۔ آئیے آپ کو کھوکھر زیر میں مٹی سے بنتے برتن کے مکمل عمل سے آگاہ کریں۔

کھوکھر زیر کے رہائشی خرم زمان جو اس صنعت سے وابستہ ہے اس نے بتایا کہ مٹی کے برتنوں میں کھانا پکانا اور کھانا حضور اکرم کی سنت ہے۔ اور یہ بات اس کی صحت کے فوائد کو مزید نمایاں بھی کرتی ہے۔ ٹی بی ، کینسر اور یرقان جیسی موذی بیماریوں کی کمی کا ایک سبب مٹی کے برتنوں کا استعمال مانا جاتا ہے۔ آج کل کی بیماریاں ، جن میں ب ہت سی کیمیکلز اور مصنوعی مواد کی وجہ سے ہوتی ہیں۔ اس وقت کی نسبت یادہ ہیں جب لوگ مٹی کے برتنوں کا عام استعمال کرتے تھے۔

plz watch full video of Khokhar zer mud pots.

https://youtu.be/0Ld7RLkB0oc

چکوال میں مٹی کے برتنوں کی صنعت، ایک جائزہ

چکوال کے علاقے میں مٹی کے برتنوں کی صنعت ابھی بھی زندہ ہے، مگر اس کا دائرہ کار بہت محدود ہو چکا ہے۔ خرم شہزاد جیسے چند ہی لوگ ہیں جو اس صنعت کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کے خاندان کے بہت سارے گھر یہ کام کرتے تھے لیکن اب صرف چند ایک ہی باقی رہ گئے ہیں۔ باقی سب اس کام کو چھوڑ چکے ہیں۔

خرم شہزاد نے مزید بتایا کہ ان کے والدین اور اباﺅاجداد کا یہی کاروبار تھا اور وہ اس صنعت کو بچپن سے سیکھ رہے ہیں۔ ان کے مطابق مٹی کے برتن بنانے کا عمل بہت محنت طلب ہے مگر وہ اس کو اپنی وراثت سمجھ کر کر رہے ہیں۔ کیونکہ مٹی سے برتن بنانا ایک فن ہے ،

جس میں ہاتھوں کی صفائی اور مشینوں کی مدد سے ہی خوبصورت برتن تیار کئے جاتے ہیں۔

مٹی کے برتن بنانے کا عمل: ایک تفصیلی جائزہ

مٹی کے برتن بنانے کا عمل مختلف مراحل پر مشتمل ہوتا ہے۔ سب سے پہلے مٹی کی تیاری کی جاتی ہے۔ خرم شہزاد کے مطابق ،وہ مٹی کھوکھر زیر کے علاقے شیخ شہاب الدین ، قریبی پہاڑوں اور ڈیم سے لاتے ہیں۔ سب سے پہلے مٹی کو چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں کاٹ کر پانی میں ملا کر نرم کیا جاتا ہے۔ اس کے بعد مٹی کو چھاننی کی مدد سے صاف کیا جاتا ہے تاکہ کوئی مٹی کی گندگی یا پتھر نہ رہ جائے۔
مٹی کو اینٹوں کے دائرے میں دو دن تک رکھا جاتا ہے۔ تاکہ وہ صحیح طرح سے تیار ہو جائے اس کے بعد مٹی کو ضرورت کے مطابق اٹھایا جاتا ہے اور کمرے کے اندر ایک خاص جگہ پر رکھا جاتا ہے۔ جہاں مٹی مزید دو دن تک رہتی ہے۔ تین دن کے بعد مٹی کی مقدار برابر ہو جاتی ہے اور وہ برتن بنانے کیلئے تیار ہو جاتی ہے۔

 

 

برتنون بنانے کا عمل اور مختلف اوزار کا استعمال

سب سے پہلے مٹی کو گوندھا جاتا ہے اور پھر مشین پر رکھ کر مختلف شکلیں دی جاتی ہیں۔ خرم شہزاد نے ہمیں مختلف برتن بنانے کا عمل دکھایا ، جس میں گھڑے کا ڈھکن ،چھوٹی ہانڈی ،دیا اور چائے کا کپ وغیرہ شامل تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ مٹی بنانے کیلئے مشین میں زیادہ تر لکڑی کا استعمال ہوتا ہے اور اس کے ساتھ بیرنگ اور اونٹ کی گھٹنے کی ہڈی بھی استعمال ہوتی ہے جو کہ بہت مضبوط ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ چند ایک پتھر اور چھوٹے چھوٹے اوزار ہوتے ہیں جن سے برتنوں کی زیبائش اور صفائی کا کام لیا جاتا ہے۔

برتنوں کی صفائی اور سجاوٹ

برتن بنانے کے بعد انہیں دھوپ میں خشک کیا جاتا ہے اور پھر سرخ مٹی کی ایک اور تہہ چڑھائی جاتی ہے۔ اس کے بعد برتنوں پر مختلف رنگ کے پھول اور ڈیزائن بنائے جاتے ہیں۔ خرم شہزاد کے بقول پہلے یہ ڈیزائن ہاتھوں سے بنائے جاتے تھے لیکن اب سانچوں کی مدد سے بنائے جاتے ہیں تاکہ وقت اور محنت کی بچت ہوسکے۔ ان کے پاس ایک خاص پتھر ہوتا ہے جس کی مدد سے برتنوں میں صفائی اور چمک بھی آ جاتی ہے۔ یہ خاص پتھر راولپنڈی کے علاقے سواں اور کشمیر کے علاقوں سے حاصل کیا جاتا ہے۔ یہ پتھر بہت پرانے ہیں اب لانا ممکن نہیں ہے۔

برتنوں کی پکائی اور فروخت کا عمل

برتنوں کی پکائی کا عمل بھٹی میں کیا جاتا ہے۔ جہاں لکڑیاں اور اپلے جلائے جاتے ہیں۔ بھٹی میں برتنوں کو تین دن تک پکایا جاتا ہے جس کے بعد ان برتنوں کو مختلف شہروں میں فروخت کیلئے بھیجا جاتا ہے۔ جیسا کہ خوشاب، ٹہی ، تلہ گنگ ، راولپنڈی ، لاہور اور قصور وغیرہ شامل ہیں۔ خرم شہزاد کے بقول ان کے بنائے گئے برتن نہایت اعلیٰ معیار کے ہوتے ہیں لوگ انہیں بہت پسند کرتے ہیں۔

خرم شہزاد کے مطابق، ان کے بنائے گئے برتن آج بھی سستے داموں فروخت ہوتے ہیں۔ پانی اور چائے وغیرہ کے کپ دس سے پندرہ روپے میں مل جاتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مٹی کے برتنوں کا استعمال نہ صرف صحت کیلئے فائدہ مند ہے بلکہ یہ ہماری ثقافت کا بھی حصہ ہے۔

مٹی کے برتنوں کی صنعت: چیلنجز اور مستقبل

اب مٹی کے برتنوں کو بہت سارے چیلنجز کا سامنا ہے۔ خرم شہزاد کے مطابق اس صنعت کو عوامی اور حکومتی سطح پر حوصلہ افزائی نہیں ملتی ۔ نئی نسل اس صنعت کو چھوڑ چکی ہے۔ کیونکہ اس میں وہ جدت اور عوامی پذیرائی نہیں رہی جو پہلے ہوتی تھی۔ اس کے علاوہ مٹی لاتے ہوئے خطرات بھی ہوتے ہیں اور ہمارے کئی لوگ اس دوران اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ لیکن ہمارا کوئی پرسان حال نہیں ہوتا۔
اس صنعت کے مستقبل کے حوالے سے خرم شہزاد کا کہنا ہے کہ اگر اس صنعت کو زندہ رکھنا ہے تو ہمیں عوامی سطح پر اس کی اہمیت کو اجاگر کرنا ہوگا۔ مٹی کے برتنوں کا استعمال دوبارہ شروع کرنے سے نہ صرف صحت کے مسائل کم ہوں گے بلکہ ہماری ثقافتی وراثت بھی محفوظ رہے گی۔ حکومت کو بھی اس صنعت کو فروغ دینے کے لئے اقدامات کرنے چاہئیں تاکہ یہ کاریگر اپنی زندگی بہتر بنا سکیں۔

کھوکھر زیر : ایک پرفصا مقام

کھوکھر زیر کا قصبہ ،جہاں مٹی کے برتنوں کی صنعت جاری ہے۔ ایک خوبصورت اور پرفضا مقام ہے یہاں کے ماحول میں ایک خاص سکون ہے جو یہاں کے رہنے والوں کی محنت اور لگن کو مزید نمایاں کرتا ہے۔ سامنے پہاڑ، ہریالی اور کھوکھر زیر ڈیم اس علاقے کی خوبصورتی کو مزید بڑھاتے ہیں۔ یہ مقام نہ صرف مٹی کے برتنوں کی صنعت کے لئے مشہور ہے بلکہ یہاں کی قدرتی خوبصورتی بھی لوگوں کو اپنی طرف کھینچتی ہے۔

مٹی کے برتنوں کی اہمیت اور ضرورت

مٹی کے برتنوں کی صنعت نہ صرف ایک قدیم فن ہے بلکہ ہماری ثقافت اور تاریخ کا حصہ بھی ہے۔ خرم شہزاد جیسے کاریگر اس فن کو زندہ رکھے ہوئے ہیں اور ہمیں ان کی قدر کرنی چاہئے۔ مٹی کے برتنوں کا استعمال صحت کے لئے فائدہ مند ہے اور ہمیں ان کی طرف دوبارہ رجوع کرنا چاہئے۔ حکومت اور عوام کو اس صنعت کی حوصلہ افزائی کرنی چاہئے تاکہ یہ صنعت دوبارہ فروغ پا سکے۔ مٹی کے برتنوں کی صنعت کی بقاءکیلئے یہ ضروری ہے کہ ہمی اپنی روایات کو زندہ رکھیں اور مٹی کے برتنوں کا استعمال عام کریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے