رمضان قرآن سیریز: چوتھا پارہ (لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ)
ایثار کی حقیقت، آزمائش کی حکمت اور نصرتِ الٰہی کے ضابطے
چوتھا پارہ انسانی کردار کی تعمیر کا ایک جامع نصاب ہے۔ اس پارے میں جہاں ایک طرف فرد کو اپنی پسندیدہ چیز قربان کرنے کا سبق دیا گیا، وہیں دوسری طرف اجتماعی زندگی میں پیش آنے والی سب سے بڑی آزمائش—یعنی میدانِ کارزار—میں ثابت قدمی کے اصول سکھائے گئے۔ یہ پارہ ہمیں بتاتا ہے کہ فتح اور شکست کے مادی اسباب سے بڑھ کر کچھ روحانی قوانین ہیں جو کائنات کا نظام چلاتے ہیں۔
1. نیکی کا جوہر: "لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ” کی تشریح
نیکی کی ظاہری شکلیں بہت ہیں، لیکن قرآن نے اس کی روح کو ایک ہی جملے میں سمو دیا ہے۔
مال اور محبت کا ٹکراؤ: انسان کی فطرت ہے کہ وہ اس مال سے لگاؤ رکھتا ہے جو اس نے محنت سے کمایا ہو۔ حقیقی نیکی یہ نہیں کہ انسان وہ مال دے جو اس کے کام کا نہ رہے، بلکہ کمالِ نیکی یہ ہے کہ وہ شے قربان کی جائے جس سے دل جڑا ہوا ہو۔
تربیتی نکتہ: اس آیت کا مقصد بندے کے دل سے "دنیا کی محبت” نکال کر "خالق کی محبت” بھرنا ہے۔ جب بندہ اپنی محبوب ترین چیز اللہ کے لیے چھوڑتا ہے، تو اس کا ایمان "رسمی” سے "حقیقی” ہو جاتا ہے۔ مفسرین نے لکھا ہے کہ یہاں ‘بر’ (نیکی) سے مراد اللہ کی رضا اور جنت کا وہ اعلیٰ مقام ہے جو ایثار کے بغیر ممکن نہیں۔
2. مرکزیتِ کعبہ اور استطاعتِ حج
یہود کی جانب سے قبلہ اور شریعت پر کیے گئے اعتراضات کے جواب میں قرآن نے دوٹوک حقائق پیش کیے:
تاریخی اولیت: بیت اللہ روئے زمین پر اللہ کی عبادت کے لیے مقرر کیا گیا سب سے پہلا مقام ہے۔ اس کی مرکزیت کسی قوم یا نسل تک محدود نہیں بلکہ یہ "عالمین” کے لیے ہدایت کا سرچشمہ ہے۔
حج کی فرضیت کا فلسفہ: حج صرف ایک عبادت نہیں بلکہ امتِ مسلمہ کی عالمی وحدت کا مظہر ہے۔ اس پارے میں حج کو صاحبِ استطاعت پر فرض قرار دے کر یہ واضح کر دیا گیا کہ اسلام ایک عملی اور سماجی دین ہے جو مسلمانوں کو ایک مرکز پر جمع دیکھنا چاہتا ہے۔
3. غزوہ احد: حق و باطل کا عظیم معرکہ اور تربیتی اسباق
چوتھے پارے کا ایک بہت بڑا حصہ (سورہ آلِ عمران کی آیات 121 سے لے کر سورت کے اختتام تک) غزوہ احد کے گرد گھومتا ہے۔ یہ معرکہ اسلامی تاریخ میں ایک "تعلیمی تجربہ” کی حیثیت رکھتا ہے۔
الف) مشورے کی اہمیت (شوریٰ)
غزوہ احد سے پہلے نبی کریم ﷺ نے صحابہ سے مشورہ کیا کہ شہر کے اندر رہ کر لڑا جائے یا باہر نکل کر۔ اگرچہ آپ ﷺ کی اپنی رائے شہر کے اندر رہنے کی تھی، لیکن اکثریت (خصوصاً پرجوش نوجوانوں) کی خاطر آپ ﷺ نے باہر نکلنے کا فیصلہ کیا۔ یہاں سے یہ عظیم اصول ملا کہ اجتماعی معاملات میں مشورہ کرنا سنتِ نبوی ہے، چاہے فیصلے کے نتائج کچھ بھی نکلیں۔
ب) نظم و ضبط اور اطاعتِ رسول ﷺ
میدانِ احد میں مسلمانوں کی ابتدائی فتح جب عارضی پسپائی میں بدلی، تو اس کی بنیاد وہ ایک "اجتہادی غلطی” تھی جو تیر اندازوں کے اس دستے سے ہوئی جنہیں پہاڑی درے پر مقرر کیا گیا تھا۔
حکم کی اہمیت: انہیں حکم تھا کہ "فتح ہو یا شکست، تم نے یہ جگہ نہیں چھوڑنی”۔ لیکن جب انہوں نے دیکھا کہ دشمن بھاگ رہا ہے، تو انہوں نے سمجھا کہ اب حکم کا مقصد پورا ہو گیا اور وہ مالِ غنیمت کے لیے نیچے اتر آئے۔
تبصرہ: مفسرین فرماتے ہیں کہ اس واقعے میں قیامت تک آنے والی نسلوں کے لیے یہ سبق ہے کہ "نبی ﷺ کے حکم کی ظاہری مخالفت بھی بڑی سے بڑی فتح کو آزمائش میں بدل سکتی ہے”۔ اللہ کی نصرت کا تعلق صرف تعداد سے نہیں بلکہ مکمل اطاعت سے ہے۔
ج) دنیا کی محبت کا فتنہ
قرآن نے احد کی پسپائی کا ایک سبب یہ بیان کیا کہ "تم میں سے کچھ وہ تھے جو دنیا (مالِ غنیمت) چاہتے تھے”۔ یہ ایک بہت بڑی حقیقت ہے کہ جب تک لشکرِ اسلام کی نیت خالص اللہ کے لیے تھی، وہ غالب رہے۔ جیسے ہی دنیا کی معمولی سی جھلک سامنے آئی، قدم اکھڑ گئے۔ یہ امت کے لیے پیغام ہے کہ تمہاری طاقت تمہارے اسلحے میں نہیں بلکہ تمہارے تقویٰ اور اخلاص میں ہے۔
د) افواہ اور عقیدت کا امتحان
جنگ کے دوران جب یہ افواہ اڑی کہ نبی کریم ﷺ شہید ہو گئے ہیں، تو بہت سے صحابہ کے حوصلے پست ہو گئے۔ اس موقع پر قرآن نے ایک ہمہ گیر حقیقت بیان کی:
"محمد (ﷺ) تو بس ایک رسول ہیں، ان سے پہلے بھی بہت سے رسول گزر چکے۔ تو کیا اگر وہ انتقال فرما جائیں یا شہید کر دیے جائیں تو تم الٹے پاؤں پھر جاؤ گے؟”
مقصد: اسلام کسی شخصیت کا نام نہیں بلکہ ایک مشن اور ایک ابدی پیغام کا نام ہے۔ شخصیتیں آتی جاتی ہیں، لیکن اللہ کا دین اور اس کی جدوجہد جاری رہنی چاہیے۔ اس آیت نے مسلمانوں کو جذباتی وابستگی سے نکال کر اصولی وابستگی کی طرف موڑ دیا۔
4. شکست کے نفسیاتی زخموں کا علاج (تسلّی اور تمحیص)
احد کے بعد مسلمانوں کے دل شکستہ تھے، اللہ تعالیٰ نے ان کی حوصلہ افزائی کے لیے نہایت خوبصورت اسلوب اختیار فرمایا:
تم ہی غالب رہو گے: فرمایا کہ سستی نہ کرو اور غم نہ کھاؤ، تم ہی غالب رہو گے اگر تم سچے مومن ہو۔ یعنی کامیابی کا اصل معیار عارضی فتح نہیں بلکہ "ایمان پر ثابت قدمی” ہے۔
تمحیص (چھانٹی): اللہ نے واضح کیا کہ یہ دن تو ہم لوگوں کے درمیان بدلتے رہتے ہیں (کبھی جیت کبھی ہار)۔ اس آزمائش کا مقصد یہ تھا کہ:
کھرے اور کھوٹے (مومن اور منافق) میں تمیز ہو جائے۔
اللہ تم میں سے کچھ لوگوں کو شہادت کا بلند مرتبہ عطا فرمائے۔
مومنوں کے گناہ دھو کر انہیں پاک کر دیا جائے۔
5. شہداء کی زندگی کا تصور
احد کے ستر شہداء کی جدائی کا غم مدینہ کے ہر گھر میں تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں شہداء کا وہ مقام بیان کیا جس نے غم کو رشک میں بدل دیا:
"انہیں مردہ نہ کہو، وہ زندہ ہیں”۔
مفسرین نے اس "حیاتِ برزخی” کی وضاحت کرتے ہوئے لکھا ہے کہ شہداء کی روحیں سبز پرندوں کے قالب میں عرشِ الٰہی کے سائے میں رہتی ہیں اور وہ اللہ سے یہ تمنا کرتے ہیں کہ ہمیں دوبارہ دنیا میں بھیجا جائے تاکہ ہم پھر اللہ کے لیے جان دیں اور وہی لذت پائیں۔ یہ تصور شہادت کے شوق کو مہمیز دیتا ہے اور موت کا ڈر ختم کر دیتا ہے۔
6. معاشی استحکام اور تقویٰ (سود کی مذمت کا ربط)
غزوہ احد کے تذکرے کے عین درمیان میں "سود” کی ممانعت کا حکم آتا ہے۔ بظاہر یہ موضوع الگ لگتا ہے، لیکن اس میں گہری حکمت ہے:
فوجی قوت اور معیشت: کوئی بھی قوم اس وقت تک سر بلند نہیں ہو سکتی جب تک اس کا معاشی نظام ظلم پر مبنی ہو۔ سود خور معاشرہ بزدل ہوتا ہے کیونکہ اسے اپنے سرمایے کی فکر ہوتی ہے، جبکہ صدقہ پرور معاشرہ بہادر ہوتا ہے کیونکہ اسے اللہ پر بھروسہ ہوتا ہے۔
سود اور جنگ کا تعلق: مفسرین کے مطابق، کفارِ مکہ نے احد کی جنگ کے لیے سودی سرمائے سے مال جمع کیا تھا۔ اللہ نے مسلمانوں کو اس گندگی سے بچنے کا حکم دیا تاکہ ان کی نصرت الٰہی برقرار رہے۔
7. متقین کی خصوصیات: غصہ پینا اور معاف کرنا
آزمائش کے وقت جذبات قابو میں نہیں رہتے۔ ایسے میں قرآن نے متقین کی وہ صفات بیان کیں جو کسی بھی بحران (Crisis) سے نکلنے کے لیے ضروری ہیں:
انفاق فی السراء والضراء: وہ تنگی اور خوشحالی دونوں میں خرچ کرتے ہیں۔
کظمِ غیظ: وہ غصے کو پی جاتے ہیں۔ احد کے تناظر میں دیکھا جائے تو صحابہ کو اپنے بھائیوں اور نبی ﷺ کے زخمی ہونے پر شدید غصہ تھا، لیکن انہیں ضبط کا حکم دیا گیا۔
عفو عن الناس: وہ لوگوں کو معاف کر دیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے خود بھی اس واقعے میں صحابہ کی لغزشوں کو معاف کرنے کا اعلان فرمایا۔
8. سورۃ النساء کا آغاز: انسانیت اور سماجی ڈھانچہ
چوتھے پارے کے آخر میں سورۃ النساء شروع ہوتی ہے۔ یہ سورت "حقوق العباد” کی اساس ہے۔
وحدتِ انسانیت: "یا ایہا الناس اتقوا ربکم الذی خلقکم من نفس واحدہ”۔ اللہ نے یاد دلایا کہ تمام انسان ایک ہی ماں باپ کی اولاد ہیں۔ یہ رنگ، نسل اور زبان کے امتیازات کو ختم کرنے کا اعلان ہے۔
یتیموں کی نگہبانی: جنگِ احد کے نتیجے میں بہت سے بچے یتیم اور عورتیں بیوہ ہوئیں، لہذا سورۃ النساء کا آغاز ہی یتیموں کے حقوق اور ان کے مال کی حفاظت کے احکامات سے کیا گیا تاکہ معاشرے کا کوئی بھی فرد خود کو لاوارث نہ سمجھے۔
خلاصہِ کلام اور عملی زندگی کا نقشہ
چوتھا پارہ ہمیں ایک "مجاہدانہ زندگی” کا نقشہ دیتا ہے:
اپنی بہترین چیز اللہ کے لیے نکالنا سیکھو (نیت کی درستی)۔
اللہ کی رسی (قرآن و سنت) کو مل کر تھامو (اجتماعی اتحاد)۔
آزمائش آئے تو ہمت نہ ہارو، بلکہ اپنی غلطیوں کا جائزہ لو اور توبہ کرو۔
فتح و شکست اللہ کے ہاتھ میں ہے، تمہارا کام صرف اطاعت اور ثبات قدمی ہے۔
معاشرے کے کمزور طبقات (یتیم، بیوہ، مسکین) کو سینے سے لگاؤ، کیونکہ ان کی دعا سے ہی نصرت آتی ہے۔
یہ پارہ ہمیں یقین دلاتا ہے کہ اگر مسلمان "ایمان” کی اس سطح پر آ جائیں جو قرآن کا مطالبہ ہے، تو کائنات کی کوئی طاقت انہیں مغلوب نہیں کر سکتی۔
آزمائش میں کامیابی کے 5 قرآنی اصول
چوتھے پارے کی روشنی میں، جب بھی امت یا فرد کسی مشکل یا عارضی ناکامی سے دوچار ہو، تو یہ پانچ اصول کامیابی کی ضمانت بنتے ہیں:
داخلی احتساب (Self-Reflection):
قرآن نے احد کی عارضی شکست کا ذمہ دار صرف دشمن کی طاقت کو نہیں ٹھہرایا، بلکہ مسلمانوں کو اپنے اندر جھانکنے کی دعوت دی۔ اصول یہ ملا کہ بیرونی دشمن سے زیادہ خطرناک ہماری اپنی داخلی کمزوریاں (جیسے دنیا کی محبت یا حکمِ الٰہی سے غفلت) ہوتی ہیں۔ جب تک اندرونی محاذ مضبوط نہ ہو، بیرونی نصرت نہیں آتی۔
اطاعتِ کاملہ ہی فتح کی کنجی ہے:
میدانِ احد کے تیر اندازوں کے واقعے نے یہ سبق دیا کہ بعض اوقات ہمیں کسی حکم کی حکمت سمجھ نہیں آ رہی ہوتی، مگر اس پر عمل کرنا ہی کامیابی کا واحد راستہ ہوتا ہے۔ نبی کریم ﷺ کی سنت اور احکامات سے معمولی انحراف بھی بڑی سے بڑی مادی قوت کو بے اثر کر سکتا ہے۔
آزمائش "فلٹر” کا کام کرتی ہے (تمحیص):
مشکل وقت اللہ کی طرف سے اس لیے آتا ہے تاکہ کھرے اور کھوٹے کی تمیز ہو سکے۔ قرآن کے مطابق آزمائش ایک "چھانٹی” ہے جس کے ذریعے مخلص مومن منافقوں سے الگ ہو جاتے ہیں۔ لہٰذا، مشکل وقت میں گھبرانے کے بجائے اسے کردار سازی اور صفائی کا مرحلہ سمجھنا چاہیے۔
شخصیت پرستی کے بجائے مقصد سے وابستگی:
جب حضور ﷺ کی شہادت کی افواہ اڑی تو صحابہ کے حوصلے ٹوٹ گئے۔ تب قرآن نے واضح کیا کہ اسلام کسی شخصیت کے گرد نہیں بلکہ ایک عالمگیر پیغام کے گرد گھومتا ہے۔ مومن کا کام کسی بھی حال میں مشن کو ادھورا چھوڑنا نہیں بلکہ آخری سانس تک حق کے لیے ڈٹ جانا ہے۔
مایوسی کفر ہے (امید کا دامن):
"ولا تھنوا ولا تحزنوا” (نہ سستی کرو اور نہ غم کھاؤ)۔ یہ جملہ نفسیاتی علاج ہے کہ عارضی ناکامی مستقل شکست نہیں ہوتی۔ اگر ایمان سلامت ہے تو غلبہ تمہارا ہی ہوگا۔ اللہ پر توکل اور مستقبل سے پرامید رہنا مومن کا سب سے بڑا ہتھیار ہے



