چھٹا پارہ (لَا يُحِبُّ اللّٰهُ).  سماجی تطہیر، عہد کی پاسداری اور قانونِ عدل

Spread the love

رمضان قرآن سیریز: چھٹا پارہ (لَا يُحِبُّ اللّٰهُ)

Aasan Quran Khulasa

 سماجی تطہیر، عہد کی پاسداری اور قانونِ عدل

چھٹا پارہ دو عظیم سورتوں کا سنگم ہے۔ اس کا پہلا حصہ سورۃ النساء کے بقیہ احکامات پر مشتمل ہے جو ایمان کے باطنی اور ظاہری تقاضوں کو واضح کرتا ہے، جبکہ دوسرا حصہ سورۃ المائدہ سے شروع ہوتا ہے جو تمدنی زندگی، حلال و حرام کے ضوابط اور بین الاقوامی معاہدات کے اصول بیان کرتا ہے۔ یہ پارہ ہمیں سکھاتا ہے کہ ایک پاکیزہ معاشرے کی بنیاد مظلوم کی داد رسی، سچی گواہی اور اللہ کے طے کردہ حدود کی پاسداری پر ہے۔


1. برائی کی تشہیر کی ممانعت اور مظلوم کا حق

اللہ تعالیٰ معاشرے میں عیب جوئی اور فحش کلامی کو سخت ناپسند فرماتا ہے، اسی لیے اس پارے کے آغاز میں یہ اصول دیا گیا کہ کسی کی برائی کو کھلے عام بیان کرنا پسندیدہ عمل نہیں ہے۔ تاہم، اس قاعدے سے اس شخص کو استثنا دیا گیا ہے جس پر ظلم ہوا ہو، کیونکہ مظلوم کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ ظالم کے خلاف آواز اٹھائے اور معاشرے کو اس کے شر سے آگاہ کرے۔ اسلام جہاں عیب پوشی کی تعلیم دیتا ہے، وہاں عدل کے تقاضوں کو پامال نہیں ہونے دیتا۔ اس کے ساتھ ہی یہ بھی واضح کیا گیا کہ اگر انسان قدرت کے باوجود معافی اور درگزر سے کام لے، تو یہ اللہ کی صفتِ معافی سے قریب تر ہے اور اللہ کے ہاں بڑے اجر کا باعث ہے۔

2. کامل ایمان: تمام انبیاء پر یقین کی ضرورت

ایمان کی قبولیت کے لیے ضروری ہے کہ اللہ کے بھیجے ہوئے تمام رسولوں پر بلا تفریق ایمان لایا جائے۔ اس پارے میں ان لوگوں کی سخت مذمت کی گئی ہے جو اللہ کو تو مانتے ہیں لیکن اس کے رسولوں کا انکار کرتے ہیں، یا بعض رسولوں کو مانتے ہیں اور بعض کا انکار کرتے ہیں (جیسے یہود و نصاریٰ)۔ قرآن اسے "کفرِ حقیقی” قرار دیتا ہے کیونکہ نبوت ایک تسلسل ہے، اور کسی ایک نبی کا انکار دراصل نبوت کے پورے نظام کا انکار ہے۔ مومن وہی ہے جو تمام انبیاء کے تقدس اور ان کی لائی ہوئی ہدایت پر کامل یقین رکھے اور ان کے درمیان تفریق نہ کرے۔

3. اہلِ کتاب کی روش اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حقیقت

تاریخی پس منظر میں یہود کی سرکشی، انبیاء کے قتل اور میثاقِ الٰہی کو توڑنے کا ذکر کر کے مسلمانوں کو متنبہ کیا گیا ہے۔ خاص طور پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق ان کے اس غلط دعوے کی تردید کی گئی ہے کہ انہوں نے انہیں قتل کر دیا یا سولی پر چڑھا دیا۔ قرآن واضح کرتا ہے کہ نہ وہ قتل ہوئے اور نہ سولی چڑھے، بلکہ اللہ نے انہیں زندہ اپنی طرف اٹھا لیا تھا۔ یہ حصہ عقیدۂ توحید اور رسالت کی تصحیح کرتا ہے اور بتاتا ہے کہ سابقہ امتوں پر اللہ کی نعمتیں ان کی نافرمانیوں اور سود خوری جیسے معاشی جرائم کی وجہ سے چھین لی گئی تھیں۔ اسی طرح عیسائیوں کو بھی ‘تثلیث’ (تین خداؤں کا عقیدہ) اور غلو سے بچنے کی تاکید کی گئی ہے کہ عیسیٰؑ اللہ کے بندے اور رسول ہیں، خدا نہیں۔

4. کلالہ کے احکام اور سورۃ النساء کا اختتام

سورۃ النساء کے بالکل آخر میں وراثت کا ایک اہم مسئلہ "کلالہ” (وہ شخص جس کے نہ والدین زندہ ہوں نہ اولاد) دوبارہ بیان کیا گیا ہے۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ اسلام انسانی تعلقات اور مال کی تقسیم کے معاملے میں کتنا حساس ہے۔ مفسرین کے مطابق سورۃ النساء کا اختتام عدل کے قوانین پر ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ حقوق العباد کی ادائیگی ہی دین کا جوہر ہے۔ یہیں سے یہ پیغام ملتا ہے کہ جب تک مالی معاملات اور وراثت کے اصول واضح نہ ہوں، معاشرے میں فساد ختم نہیں ہو سکتا۔

5. سورۃ المائدہ: معاہدات کی پابندی اور دسترخوانِ حلال

سورۃ المائدہ کا آغاز "يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَوْفُوا بِالْعُقُودِ” سے ہوتا ہے، جس میں ایمان والوں کو تمام چھوٹے بڑے وعدوں اور معاہدوں کو پورا کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ انسانی زندگی کا پورا نظام چاہے وہ اللہ کے ساتھ ہو یا انسانوں کے ساتھ، ‘عہد’ پر ٹکا ہوا ہے۔ اس کے بعد کھانے پینے کی اشیاء میں حلال و حرام کی تفصیل دی گئی ہے، جیسے مردار، بہتا ہوا خون، سور کا گوشت اور وہ جانور جو غیر اللہ کے نام پر ذبح کیا گیا ہو، حرام قرار دیے گئے۔ یہ احکام بتاتے ہیں کہ انسان جو غذا کھاتا ہے، اس کا اثر اس کی روح اور اخلاق پر پڑتا ہے، اس لیے طیب اور حلال غذا کا انتخاب ایمان کا تقاضا ہے۔

6. طہارتِ جسمانی اور وضو و تیمم کے ضوابط

عبادت کے لیے ظاہری پاکیزگی کو لازمی قرار دیتے ہوئے وضو، غسل اور پانی نہ ملنے کی صورت میں تیمم کے تفصیلی احکام بیان کیے گئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ انسان کو کسی تنگی میں نہیں ڈالنا چاہتا بلکہ وہ تمہیں پاک کرنا چاہتا ہے اور اپنی نعمتیں تم پر تمام کرنا چاہتا ہے۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ نماز جیسی عظیم عبادت کے لیے جسم کا پاک ہونا روح کی پاکیزگی کا پیش خیمہ ہے۔ صفائی کا یہ نظام مسلمانوں کو نظم و ضبط اور نفاست پسندی سکھاتا ہے جو ایک مومن کی پہچان ہونی چاہیے۔

7. عدل و انصاف: دشمنی میں بھی اعتدال کا حکم

اسلامی نظامِ عدل کی سب سے اونچی چوٹی وہ آیت ہے جس میں حکم دیا گیا کہ "کسی قوم کی دشمنی تمہیں اس بات پر نہ ابھارے کہ تم انصاف چھوڑ دو”۔ یہ وہ مقام ہے جہاں اسلام دنیا کے تمام قوانین سے ممتاز ہو جاتا ہے۔ یعنی ایک مومن کو اپنے جانی دشمن کے ساتھ بھی فیصلہ کرتے وقت انصاف کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہیے۔ اللہ کے لیے سچی گواہی دینا اور ہر حال میں عدل قائم رکھنا تقویٰ کے سب سے زیادہ قریب ہے۔ یہ اصول بتاتا ہے کہ اسلام میں جذبات کی نہیں بلکہ اصولوں کی حکمرانی ہے۔

8. حضرت آدمؑ کے بیٹوں کا قصہ اور انسانی جان کی حرمت

قابیل اور ہابیل کا واقعہ بیان کر کے حسد اور سرکشی کے انجام کو واضح کیا گیا ہے۔ جب قابیل نے اپنے بھائی کو ناحق قتل کیا، تو اس نے انسانیت کے خلاف ایک بدترین روایت کی بنیاد رکھی۔ اس واقعے کے تناظر میں اللہ تعالیٰ نے وہ عظیم قانون بیان کیا کہ "جس نے کسی ایک انسان کو ناحق قتل کیا، گویا اس نے پوری انسانیت کو قتل کر دیا، اور جس نے ایک جان بچائی اس نے گویا پوری انسانیت کو بچا لیا”۔ یہ آیت انسانی جان کی قدروقیمت اور امنِ عالم کا سب سے بڑا چارٹر ہے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام میں انسانی زندگی کتنی محترم ہے۔

9. فساد فی الارض اور چوری کی سزائیں

معاشرے کے امن کو غارت کرنے والے ڈاکوؤں، لٹیروں اور زمین میں فساد پھیلانے والوں کے لیے سخت سزائیں مقرر کی گئی ہیں۔ اسی طرح چوری کے جرم پر ہاتھ کاٹنے کی حد بیان ہوئی ہے (جو کہ مخصوص شرائط کے ساتھ نافذ ہوتی ہے)۔ ان سزاؤں کا مقصد محض سزا دینا نہیں بلکہ عبرت پیدا کرنا ہے تاکہ عام شہری کا مال، جان اور عزت محفوظ رہ سکے۔ اسلام میں قانون کی بالادستی کا تصور اتنا مضبوط ہے کہ یہ کسی بھی قسم کے فتنہ و فساد کو برداشت نہیں کرتا اور جرم کے جڑ سے خاتمے کے لیے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کرتا ہے۔

10. اہلِ کتاب سے تعلقات اور قرآن کی بالادستی

پارے کے آخری حصے میں یہودیوں اور عیسائیوں کے ان گروہوں کا ذکر ہے جو حق بات کو سن کر بھی منہ موڑ لیتے تھے۔ اللہ نے واضح کیا کہ سابقہ کتابیں (تورات و انجیل) اپنے وقت کے لیے نور اور ہدایت تھیں، لیکن اب قرآن ان سب پر "مہیمن” (نگہبان اور تصدیق کرنے والا) بنا کر نازل کیا گیا ہے۔ مسلمانوں کو تاکید کی گئی کہ وہ ان لوگوں کو اپنا گہرا دوست اور رازدار نہ بنائیں جو ان کے دین کا مذاق اڑاتے ہیں۔ دین میں اخلاص، اللہ سے محبت اور رسول ﷺ کی پیروی ہی وہ راستہ ہے جو انسان کو اللہ کا محبوب بنا دیتا ہے۔


💡 چھٹے پارے سے حاصل ہونے والے 5 عملی اسباق

  1. غیبت سے پرہیز: برائی کو پھیلانے کے بجائے اسے روکنے کی کوشش کریں اور اگر کسی کی شکایت کرنی ہو تو صرف متعلقہ فورم (عدالت یا حکام) پر کریں، ہر جگہ چرچا نہ کریں۔

  2. عہد کی پابندی: اپنی روزمرہ زندگی میں کیے گئے وعدوں، کاروباری معاہدوں اور ملازمت کی ذمہ داریوں کو امانت سمجھ کر پورا کریں، کیونکہ یہ ایمان کا جزو ہے۔

  3. عدلِ مطلق: اپنے فیصلوں اور گفتگو میں اس بات کا خیال رکھیں کہ کسی سے ناراضگی یا دشمنی کی وجہ سے آپ اس کے ساتھ ناانصافی نہ کر بیٹھیں۔

  4. انسانی جان کا احترام: کسی کو جسمانی یا ذہنی اذیت دینا پوری انسانیت کو اذیت دینے کے مترادف ہے۔ ہمیشہ دوسروں کی جان و مال کے محافظ بنیں۔

  5. وضو اور نماز کا اہتمام: حالتِ سفر ہو یا بیماری، اللہ سے تعلق کا ذریعہ (نماز) معاف نہیں۔ شریعت کی دی گئی رعایتوں (تیمم وغیرہ) سے فائدہ اٹھائیں مگر بندگی میں کمی نہ آنے دیں۔..

    “کل ہم قرآن مجید کے اگلے پارے کا خلاصہ پیش کریں گے۔”

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے