Spread the love

غزل

بشیرمنذر

اچھے کبھی برے ہیں حالات آدمی کے
پیچھے لگے ہوئے ہیں دن رات آدمی کے

رخصت ہوئے تو جانا سب کام تھے ادھورے
کیا کیا کریں جہاں میں دو ہات آدمی کے

مٹی سے وہ اٹھا ہے مٹی میں جا ملے گا
اڑتے پھریں گے ایک دن ذرات آدمی کے

ایک آگ حسرتوں کی، سوچوں کا ایک سمندر
کیا کیا وبال یارب ہیں ساتھ آدمی کے

اس دورِ ارتقاء میں، منذر قدم قدم پر
پامال ہو رہے ہیں جذبات آدمی کے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے