چھپڑ بازار تجاوزات کے خلاف آپریشن – چکوال میں تاریخی اقدام یا وقتی کارروائی؟

چکوال میں انتظامیہ کی جانب سے تجاوزات ہٹانے کا منظر
Spread the love

چھپڑ بازار تجاوزات کے خلاف آپریشن – چکوال میں تاریخی اقدام یا وقتی کارروائی؟

چکوال کے تاریخی چھپڑ بازار میں تجاوزات کے خلاف تاریخ ساز کارروائی

چھپڑ بازار تجاوزات کے خلاف آپریشن ‘ چکوال کے قدیم اور معروف چھپڑ بازار کا شمار ان بازاروں میں ہوتا ہے جہاں روزانہ ہزاروں افراد کا آنا جانا لگا رہتا ہے۔ مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ بازار تجاوزات کا گڑھ بن چکا تھا، جس کی وجہ سے یہاں سے گزرنا محال ہوگیا تھا۔ گلیاں سکڑ چکی تھیں، پیدل چلنے والوں کے لیے بھی جگہ کم پڑ چکی تھی، اور دکانداروں کی من مانیوں نے مسائل کو مزید گھمبیر بنا دیا تھا۔

پرچی والے ٹھیے: تجاوزات کا ایک منظم جال

تحصیل میونسپل کمیٹی کی انتظامیہ نے بازار میں سو سے زائد عارضی ٹھیے لگوا رکھے تھے، جن سے باقاعدہ کرایہ وصول کیا جاتا تھا۔ ان کو "پرچی والے ٹھیے” کہا جاتا تھا، کیونکہ دکانداروں کو ایک پرچی دے کر انہیں وہاں کاروبار کرنے کی اجازت دی جاتی تھی۔ اس کے علاوہ، وہ لوگ بھی جنہیں کوئی سرکاری اجازت نامہ حاصل نہ تھا، چھوٹی چھوٹی اشیاء لے کر جہاں بھی جگہ ملتی، وہیں اپنا ٹھیہ لگا لیتے تھے۔

چھپڑ بازار تجاوزات کے خلاف آپریشن دکانوں کے سامنے سٹال اور ریڑھیاں: فٹ پاتھ کا مکمل قبضہ

چھپڑ بازار میں دکانداروں نے اپنی دکانوں کے آگے مزید چھوٹے سٹال لگا رکھے تھے، جنہیں وہ دوسرے افراد کو کرایہ پر دیتے تھے۔ اس کے ساتھ ساتھ، درجنوں ریڑھیاں بھی بازار میں جگہ جگہ موجود تھیں، جنہوں نے چلنے پھرنے کے لیے دستیاب مختصر جگہ کو بھی مزید محدود کر دیا تھا۔

ماضی کے ناکام آپریشن: چھوٹے تاجروں کی قربانی، بڑی مچھلیاں محفوظ

یہ کوئی پہلا موقع نہیں تھا کہ تجاوزات کے خلاف کارروائی کی گئی ہو۔ ماضی میں بھی مختلف حکومتوں نے کئی بار آپریشن کیے، مگر ان کا نشانہ ہمیشہ چھوٹے ریڑھی بان اور غریب طبقہ بنتا رہا، جبکہ اصل تجاوزات کے پیچھے موجود بااثر افراد ہمیشہ محفوظ رہے۔ ان پر ہاتھ ڈالنا مشکل تھا کیونکہ انہیں کسی نہ کسی سیاسی شخصیت کی پشت پناہی حاصل ہوتی تھی۔

سیاسی سرپرستی اور قانونی رکاوٹیں

چھپڑ بازار کے بہت سے بڑے ٹھیے بااثر افراد کے کنٹرول میں تھے، جو نہ صرف مالی لحاظ سے مستحکم تھے بلکہ انہیں سیاسی پشت پناہی بھی حاصل تھی۔ جب بھی تجاوزات کے خاتمے کی بات آتی، یہ لوگ مختلف حربے استعمال کرتے۔ اگر دباؤ زیادہ بڑھتا تو عدالت سے سٹے آرڈر لے لیا جاتا تاکہ کارروائی کو روکا جا سکے۔ عدالت کا موقف ہوتا کہ جب تک متبادل جگہ فراہم نہ کی جائے، ان ٹھیے والوں کو نہیں ہٹایا جا سکتا۔ لیکن مسئلہ یہ تھا کہ انتظامیہ متبادل جگہ دینے کی کوشش بھی کرتی، مگر تجاوزات مافیا وہاں منتقل ہونے کو تیار نہ ہوتا۔

چھپڑ بازار میں تجاوزات کے خلاف سخت ترین آپریشن

مریم نواز شریف کا سخت اقدام: پنجاب میں کلین اپ آپریشن کا آغاز

پنجاب حکومت، جس کی قیادت وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف کر رہی ہیں، نے صوبے کے بڑے شہروں میں تجاوزات کے خلاف سخت آپریشن کا آغاز کیا۔ وہ بازار اور علاقے جہاں برسوں سے قبضہ مافیا نے راستے بند کر رکھے تھے، اب ایک منظم اور بھرپور حکومتی مداخلت کے ذریعے آزاد کروائے جا رہے ہیں۔ بڑے شہروں میں کامیاب کارروائیوں کے بعد چکوال میں بھی آپریشن کا آغاز کیا گیا، جہاں تجاوزات کے خاتمے کا خواب ایک عرصے سے دیکھا جا رہا تھا، مگر عملی طور پر اس کو مکمل کرنا ہمیشہ مشکل ثابت ہوتا رہا تھا۔

سخت وارننگ: تجاوزات مافیا کو آخری موقع دیا گیا

چکوال میں ضلعی و تحصیل انتظامیہ نے ایک مہینے سے زائد عرصے تک بار بار تجاوزات مافیا کو خبردار کیا کہ وہ از خود اپنے ٹھیے ہٹا لیں، کیونکہ اس بار حکومت کا ارادہ پچھلی حکومتوں کی طرح محض نمائشی کارروائی تک محدود نہیں تھا۔ انتظامیہ نے واضح پیغام دیا کہ کسی بھی دباؤ یا سفارش کو خاطر میں نہیں لایا جائے گا۔ تاہم، اکثر قابضین نے اس وارننگ کو سنجیدہ نہ لیا اور پرانی روش پر قائم رہے۔

آپریشن کا آغاز: اسسٹنٹ کمشنر چکوال کی قیادت میں بھرپور کارروائی

چار مارچ کی صبح، اسسٹنٹ کمشنر چکوال، ذیشان شریف قیصرانی، پولیس کی بھاری نفری اور ٹی ایم اے کی مشینری کے ساتھ چھپڑ بازار میں داخل ہوئے، جہاں تجاوزات مافیا نے حسبِ توقع مزاحمت کی کوشش کی۔ تاجروں کے ایک وفد نے ایم پی اے چوہدری حیدر سلطان کی رہائش گاہ کا رخ کیا، اس امید میں کہ وہ اس آپریشن کو رکوانے میں کوئی کردار ادا کر سکیں، مگر اس بار تمام تر دباؤ کو نظر انداز کرتے ہوئے آپریشن مکمل کرنے کا فیصلہ پہلے ہی ہو چکا تھا۔

ضلعی انتظامیہ کی غیر متزلزل پالیسی: کوئی رعایت نہیں

ضلعی و تحصیل انتظامیہ، جس کی سربراہی ڈپٹی کمشنر چکوال، قرۃ العین ملک کر رہی ہیں، نے واضح ہدایات جاری کیں کہ تجاوزات کا مکمل خاتمہ کیا جائے۔ اے سی چکوال، ذیشان شریف، اس مہم کو لیڈ کر رہے تھے اور بھرپور حکومتی طاقت کے ساتھ چھپڑ بازار کی تجاوزات کو ختم کیا گیا۔ پہلے مرحلے میں تاجروں کو موقع دیا گیا کہ وہ از خود اپنا سامان ہٹا لیں تاکہ کسی کا ذاتی نقصان نہ ہو۔ جنہوں نے تعاون کیا، انہیں کوئی مسئلہ درپیش نہ ہوا، مگر جو مزاحمت پر اتر آئے یا تاخیری حربے آزمانے لگے، ان کے ٹھیے زبردستی ہٹوا دیے گئے اور سامان ٹرالیوں میں لوڈ کروا دیا گیا۔

آپریشن کی تکمیل: تجاوزات کے ساتھ ساتھ صفائی بھی

آپریشن کا اختتام شام تک ہو چکا تھا، اور جہاں پہلے تجاوزات کی بھرمار تھی، وہاں اب کھلی جگہ اور راہگزر نظر آنے لگی۔ انتظامیہ نے چھپڑ بازار میں فوری طور پر صفائی بھی کروائی، تاکہ بازار کی اصل خوبصورتی بحال کی جا سکے۔ اس تاریخی کارروائی کے بعد، شہر میں تجاوزات کے خلاف حکومتی عزم مزید واضح ہو گیا ہے، اور عوام یہ سوال کر رہے ہیں کہ کیا یہ تبدیلی مستقل ہوگی یا وقت گزرنے کے ساتھ دوبارہ پرانی روش لوٹ آئے گی؟

اسسٹنٹ کمشنر چکوال ذیشان شریف کا خصوصی انٹرویو

اسسٹنٹ کمشنر چکوال ذیشان قیصرانی چکوال پلس کو انٹرویو دیتے ہوئے
ذیشان شریف قیصرانی اسسٹنٹ کمشنر چکوال ، چکوال پلس کو انٹرویو دیتے ہوئے

پنجاب حکومت کے احکامات پر سختی سے عملدرآمد

اسسٹنٹ کمشنر چکوال، ذیشان شریف قیصرانی، نے چکوال پلس سے خصوصی بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ تجاوزات کے خلاف یہ آپریشن پنجاب حکومت کی واضح ہدایات پر عمل کرتے ہوئے کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ یہ کارروائی وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف کے براہِ راست احکامات کے تحت انجام دی جا رہی ہے، جس کا مقصد شہر کو تجاوزات سے پاک کر کے عوام کے لیے ایک بہتر اور کھلا ماحول فراہم کرنا ہے۔

چھپڑ بازار کی بحالی: انتظامیہ کا سخت مگر منصفانہ رویہ

اسسٹنٹ کمشنر نے چھپڑ بازار کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا:
"یہاں آ کر دیکھیں تو اندازہ ہوگا کہ بازار کتنا خوبصورت ہے، مگر قبضہ مافیا کی وجہ سے اس کی اصل حالت بگڑ چکی تھی۔ ہم نے کئی بار سمجھایا کہ یہ جگہ عام عوام کے گزرنے کے لیے ہے، کسی کی ذاتی ملکیت نہیں، مگر ٹھیہ مافیا نے ہماری بات ماننے سے انکار کر دیا۔”

انہوں نے مزید کہا کہ جو افراد تعاون کر رہے ہیں، ان کے ساتھ نرمی برتی جا رہی ہے، مگر جو لوگ مزاحمت کر رہے ہیں یا دوبارہ تجاوزات قائم کرنے پر بضد ہیں، ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ "اگر ضرورت پڑی تو ایسے عناصر کے خلاف ایف آئی آر بھی درج کی جائے گی تاکہ آئندہ کوئی دوبارہ تجاوزات قائم کرنے کی ہمت نہ کرے۔”

بازاروں میں مسلسل نگرانی اور سخت کارروائی کا عندیہ

اسسٹنٹ کمشنر نے واضح کیا کہ یہ آپریشن محض ایک وقتی کارروائی نہیں بلکہ مستقبل میں بھی جاری رہے گا:
"میں وقفے وقفے سے چھپڑ بازار اور دیگر علاقوں کا دورہ کرتا رہوں گا۔ اگر کسی نے دوبارہ ٹھیہ لگانے یا غیر قانونی بورڈ آویزاں کرنے کی کوشش کی تو اس کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔ یہ آپریشن صرف چکوال تک محدود نہیں، بلکہ پورے پنجاب میں وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف کی ہدایت پر تجاوزات کے خلاف مہم جاری ہے۔”

اسسٹنٹ کمشنر چکوال کا مکمل انٹرویو دیکھیں یوٹیوب چینل چکوال پلس پر

میڈیا اور عوامی تعاون کی اہمیت

انہوں نے میڈیا اور سوشل میڈیا کی نشاندہی کو سراہتے ہوئے کہا کہ عوام تجاوزات سے نجات چاہتے ہیں اور یہی وہ عنصر ہے جو انتظامیہ کے حوصلے بلند کر رہا ہے:
"ہمیں عوامی مسائل کا مکمل ادراک ہے، اور یہ ایک مسلسل عمل ہے، جو ان شاء اللہ جاری رہے گا تاکہ مستقبل میں بازار اسی حالت میں برقرار رہیں۔”

متبادل جگہوں پر غور: تجاوزات مافیا کو باضابطہ سیٹلمنٹ کی پیشکش

اسسٹنٹ کمشنر نے تجاوزات مافیا کے لیے متبادل جگہوں کے حوالے سے بتایا کہ ضلعی انتظامیہ کے پاس کئی ایسی جگہیں موجود ہیں جہاں ٹھیہ بانوں کو سیٹل کیا جا سکتا ہے۔
"ہماری تجویز ہے کہ ٹی ایم او آفس کے ساتھ، جہاں پہلے رمضان بازار لگتا تھا، وہاں ان افراد کو جگہ فراہم کر دی جائے یا دیگر مقامات پر متبادل انتظام کیا جائے۔ مگر ابتدا میں تجاوزات قائم کرنے والے خود اس بات پر تیار نہیں تھے، اب اگر وہ سنجیدگی کا مظاہرہ کریں گے تو انتظامیہ بھی ان کے لیے آسانی پیدا کرے گی۔”

قانونی اقدامات اور جرمانے: سخت مگر انسانی ہمدردی پر مبنی حکمت عملی

انہوں نے مزید کہا کہ انتظامیہ نے کئی افراد کو جرمانے بھی کیے ہیں، خصوصاً ان لوگوں کو جنہوں نے تعاون سے انکار کیا یا مزاحمت کی۔ تاہم، انتظامیہ نے تاحال کسی کے خلاف ایف آئی آر درج نہیں کی، کیونکہ بعض افراد واقعی غریب ہیں اور ان کا نقصان ہو سکتا ہے۔
"ہماری پالیسی سختی کے ساتھ ساتھ انسانی ہمدردی پر بھی مبنی ہے۔ اگر صورتِ حال زیادہ خراب ہوئی تو ایف آئی آر کا اندراج بھی کیا جا سکتا ہے، مگر فی الحال ہم غیر ضروری قانونی کارروائی سے گریز کر رہے ہیں۔”

اسسٹنٹ کمشنر چکوال کے ان بیانات سے واضح ہوتا ہے کہ یہ آپریشن حکومتی احکامات کے عین مطابق اور عوامی مفاد کے تحت کیا جا رہا ہے، جس کا مقصد چکوال کے بازاروں کو ایک منظم اور خوبصورت شکل میں بحال کرنا ہے۔

چھپڑ بازار میں ریڑھی مافیا اور ملی بھگت: انتظامیہ کی توجہ درکار

چھپڑ بازار چکوال میں تجاوزات کے خلاف جاری آپریشن کے دوران ایک اور اہم مسئلہ سامنے آیا ہے—وہ افراد اور عناصر جو ان ٹھیہ بانوں اور ریڑھی مافیا کی پشت پناہی کرتے ہیں۔ گزشتہ ایک سے ڈیڑھ ماہ کے مشاہدے سے معلوم ہوا ہے کہ کمیٹی کے بعض اہلکار نہ صرف مخصوص افراد سے رشوت کے طور پر رقم یا اشیاء وصول کرتے ہیں، بلکہ ان کو بازار میں بیٹھنے کی جگہ بھی فراہم کرتے ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ چھپڑ بازار میں محدود جگہ ہونے کی وجہ سے ہر کوئی وہاں داخل نہیں ہو سکتا، مگر کچھ مخصوص افراد بڑے اطمینان کے ساتھ بازار میں گھومتے پھرتے ہیں، جبکہ انتظامیہ کی گاڑیاں بھی وہیں موجود ہوتی ہیں۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ یہ سب ملی بھگت کے بغیر ممکن نہیں۔ اس طرح کے کرپٹ عناصر نہ صرف تجاوزات کے خاتمے میں رکاوٹ ہیں بلکہ اس پورے آپریشن کی ساکھ کو بھی نقصان پہنچا رہے ہیں۔ اسسٹنٹ کمشنر اور دیگر متعلقہ افسران کو اس معاملے پر فوری توجہ دینی چاہیے اور ایسے اہلکاروں کے خلاف سخت کارروائی کرنی چاہیے تاکہ یہ غیر قانونی سلسلہ مکمل طور پر ختم ہو۔

بااثر افراد کی اجارہ داری: انصاف کے تقاضے پورے کیے جائیں

چھپڑ بازار میں تجاوزات کے پیچھے ایک اور پہلو بھی سامنے آیا ہے—کچھ مخصوص پٹھان تاجروں کی اجارہ داری، جو مرکزی مارکیٹوں میں دکانوں کے مالک ہیں۔ اطلاعات کے مطابق، یہ افراد  سیاسی اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے اپنی من مانیاں کر رہے ہیں۔ عام دکانداروں اور چھوٹے ٹھیہ بانوں کو دبانے کے ساتھ ساتھ، یہ لوگ اپنے پسندیدہ افراد کو اسٹال لگانے کی اجازت دیتے ہیں اور اپنی دکانوں کے سامنے مخصوص افراد کو جگہ فراہم کر کے پیسے وصول کرتے ہیں۔

یہ صورتِ حال کاروباری ماحول کو مزید خراب کر رہی ہے اور انتظامیہ کی رٹ کو چیلنج کر رہی ہے۔ اس لیے ضلعی و تحصیل حکام کو چاہیے کہ ایسے بااثر افراد کے خلاف بھی سخت اقدامات کیے جائیں تاکہ سب کے لیے یکساں مواقع میسر آئیں اور تجاوزات کا مستقل خاتمہ ممکن ہو سکے۔

کمیٹی کی دکانوں کا غیر منصفانہ کرایہ داری نظام: نئی پالیسی کی ضرورت

ضلعی و تحصیل سربراہان کو ایک اور اہم مسئلے پر بھی غور کرنا چاہیے—وہ دکانیں جو کمیٹی کی ملکیت ہیں اور کئی دہائیوں پہلے مخصوص افراد کو الاٹ کی گئی تھیں۔ ان دکانوں کے اصل مالکان نے یا تو یہ دکانیں غیر قانونی طور پر کرائے پر دے رکھی ہیں یا پھر کئی گنا زیادہ رقم وصول کر کے آگے سب لیز پر چڑھا دی ہیں۔ نتیجتاً، موجودہ دکاندار انتہائی زیادہ کرایہ ادا کر رہے ہیں جبکہ انتظامیہ کو اس کا خاطر خواہ فائدہ نہیں ہو رہا۔

اس مسئلے کا حل صرف یہ ہے کہ کمیٹی کی دکانوں کا ازسرِ نو جائزہ لیا جائے، ان پر نئی قانون سازی کی جائے، اور صرف ان ہی افراد کو دکانیں چلانے کی اجازت دی جائے جنہیں یہ الاٹ کی گئی تھیں۔ اس سے نہ صرف غیر قانونی سب لیزنگ کا خاتمہ ہوگا بلکہ اصل دکانداروں کو ان کا جائز حق بھی ملے گا، اور کاروباری ماحول شفاف اور منظم ہو جائے گا۔

یہ تمام مسائل فوری توجہ کے متقاضی ہیں تاکہ چکوال کے بازاروں کو تجاوزات اور کرپشن سے پاک کیا جا سکے، اور عوام کو ایک بہتر کاروباری اور خریداری کا ماحول فراہم کیا جا سکے۔

چھپڑ بازار کی نئی پہچان: ایک مثبت قدم

ہر شخص کا نقطۂ نظر مختلف ہو سکتا ہے—کچھ لوگ چھپڑ بازار میں جاری اصلاحاتی عمل کو سراہ رہے ہیں، جبکہ کچھ اس پر تنقید بھی کر رہے ہیں۔ مگر ہمارے نزدیک یہ ایک نہایت عمدہ اور قابلِ تحسین اقدام ہے۔ بازاروں کو ایک نئی پہچان دی جانی چاہیے، جہاں صفائی ستھرائی کا خاص خیال رکھا جائے اور جدید اصولوں کے مطابق کاروباری ماحول کو ترتیب دیا جائے۔

بازار میں ایک جیسی طرز کے سائن بورڈز نصب کیے جائیں، تاکہ بازار کا ایک متناسب اور خوبصورت منظر پیش ہو۔ دکانوں کو مین دروازے کے اندر رکھنے پر سختی سے عمل کیا جائے، اور نالیوں کے اوپر بنے تھڑوں پر سامان رکھنے کی اجازت نہ دی جائے۔ تجاوزات کے مکمل خاتمے کے ساتھ ساتھ، مستقل بنیادوں پر ایسا قانون بھی بنایا جائے جس کے تحت بازاروں کو ہر قسم کے جلسے، جلوس اور غیر متعلقہ سرگرمیوں سے محفوظ رکھا جائے، تاکہ ان کی ایک معیاری اور منظم حیثیت برقرار رہ سکے۔

بہتر سہولیات کی فراہمی: وقت کی ضرورت

بازاروں میں آنے والے افراد، خصوصاً دیہات سے آنے والی خواتین اور مرد حضرات، اکثر بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی کا شکار ہوتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ چھپڑ بازار میں خواتین اور مردوں کے لیے مناسب اور معیاری پبلک ٹوائلٹس کا انتظام کیا جائے، تاکہ وہ بوقتِ ضرورت ان کا استعمال کر سکیں۔

چونکہ گرمیوں میں چکوال کا موسم انتہائی گرم ہوتا ہے، اس لیے بازار میں ایسے انتظامات بھی کیے جائیں جن سے گرمی کی شدت کم ہو سکے۔ سایہ دار شیڈز، کولنگ سسٹم، یا دیگر مناسب تدابیر اختیار کر کے بازار کو زیادہ آرام دہ بنایا جا سکتا ہے، تاکہ یہاں خریداری کے لیے آنے والے افراد کو سہولت میسر ہو۔

چھپڑ بازار تجاوزات کے خلاف آپریشن مستقل حل: ٹھیہ بانوں کے لیے متبادل جگہ کی فراہمی

یہ اقدام مجموعی طور پر ایک احسن اور مثبت قدم ہے، مگر اسے مستقل بنیادوں پر نافذ کرنا ضروری ہے۔ اس کے لیے تجاوزات ختم کرنے کے بعد ٹھیہ بانوں کو کوئی متبادل جگہ فراہم کی جائے، جہاں وہ اپنے کاروبار کو جاری رکھ سکیں، تاکہ وہ دوبارہ چھپڑ بازار میں آ کر مسائل پیدا نہ کریں۔

یہ اصلاحات کسی ایک حکومت تک محدود نہیں ہونی چاہئیں، بلکہ اس نظام کو اتنا مؤثر اور مضبوط بنایا جائے کہ آئندہ آنے والی کوئی بھی حکومت اس پر مکمل عملدرآمد کی پابند ہو۔ اگر ان اقدامات کو تسلسل کے ساتھ جاری رکھا جائے تو چھپڑ بازار چکوال کا ایک جدید، صاف ستھرا اور منظم تجارتی مرکز بن سکتا ہے، جو خریداروں اور دکانداروں دونوں کے لیے فائدہ مند ہوگا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے