رمضان قرآن سیریز: پہلا پارہ کیا سکھاتا ہے؟ سورۃ الفاتحہ سے سورۃ البقرہ تک ہدایت کا مکمل آسان خلاصہ
رمضان المبارک قرآنِ مجید سے تعلق کو تازہ کرنے کا مہینہ ہے. اور قرآن کا پہلا پارہ دراصل انسان کی ہدایت کے سفر کا آغاز ہے۔ اس پارے کی ابتدا سورۃ الفاتحہ سے ہوتی ہے جو پورے قرآن کا خلاصہ اور بندے کی اپنے رب کے ساتھ ایک عاجزانہ گفتگو ہے۔ یہاں انسان سب سے پہلے اپنے رب کی حمد بیان کرتا ہے، اسے تمام جہانوں کا پروردگار، نہایت مہربان اور انصاف کرنے والا مانتا ہے، پھر اپنی بندگی کا اعلان کرتے ہوئے یہ اقرار کرتا ہے کہ ہم صرف تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد چاہتے ہیں۔ اس کے بعد سب سے بڑی دعا سکھائی جاتی ہے کہ ہمیں سیدھا راستہ دکھا، ان لوگوں کا راستہ جن پر انعام ہوا، نہ کہ ان کا جو گمراہ یا غضب کا شکار ہوئے۔ یوں قرآن انسان کو یہ احساس دے کر شروع ہوتا ہے کہ ہدایت اللہ سے مانگنے والی چیز ہے اور انسان ہر لمحہ اس کا محتاج ہے۔
اس دعا کے فوراً بعد سورۃ البقرہ کا آغاز ہوتا ہے . جہاں بتایا جاتا ہے کہ یہ وہ کتاب ہے جس میں کوئی شک نہیں اور یہ ہدایت ہے. مگر ہر ایک کیلئے نہیں بلکہ ان لوگوں کیلئے جو دل میں اللہ کا خوف اور سچائی کی طلب رکھتے ہیں۔ ابتدا ہی میں انسانوں کی تین قسمیں بیان کی جاتی ہیں تاکہ قاری خود کو پہچان سکے۔ پہلی قسم مومنین کی ہے جو غیب پر ایمان رکھتے ہیں، نماز قائم کرتے ہیں اور اللہ کے دیے ہوئے رزق میں سے خرچ کرتے ہیں، جو سابقہ آسمانی کتابوں پر بھی ایمان رکھتے ہیں اور آخرت پر یقین رکھتے ہیں۔ دوسری قسم ان لوگوں کی ہے جو حق واضح ہونے کے باوجود انکار کر دیتے ہیں، جن کے دل اور آنکھیں سچائی قبول کرنے کیلئے بند ہو چکی ہوتی ہیں۔ تیسری قسم منافقین کی ہے جن کا ذکر سب سے تفصیل سے کیا گیا، کیونکہ ان کا خطرہ اندرونی ہوتا ہے؛ وہ زبان سے ایمان کا دعویٰ کرتے ہیں مگر دل میں انکار چھپائے رکھتے ہیں، فساد پھیلاتے ہیں مگر خود کو اصلاح کرنے والا کہتے ہیں اور اہل ایمان کا مذاق اڑاتے ہیں۔
منافقین کی حالت کو سمجھانے کیلئے قرآن مثالیں دیتا ہے۔ ایک مثال اس شخص کی ہے جس نے اندھیرے میں آگ جلائی، روشنی پھیلتے ہی اللہ نے اس کی روشنی چھین لی اور وہ دوبارہ اندھیروں میں بھٹکنے لگا۔ دوسری مثال بارش، گرج اور بجلی کی ہے جہاں خوف سے وہ کانوں میں انگلیاں ڈال لیتے ہیں۔ ان مثالوں کے ذریعے بتایا گیا کہ منافق سچائی دیکھتے ہیں مگر دل سے قبول نہیں کرتے، اس لیے روحانی اندھیرے میں رہتے ہیں۔ اس کے بعد پوری انسانیت کو مخاطب کر کے کہا جاتا ہے کہ اپنے اس رب کی عبادت کرو جس نے تمہیں اور تم سے پہلے لوگوں کو پیدا کیا، زمین کو بچھونا بنایا، آسمان کو چھت بنایا اور بارش کے ذریعے رزق عطا کیا۔ یوں انسان کو اپنی تخلیق اور کائنات کی نشانیوں پر غور کر کے توحید کی دعوت دی جاتی ہے اور چیلنج کیا جاتا ہے کہ اگر قرآن پر شک ہے تو اس جیسی ایک سورت بنا کر دکھاؤ۔
پھر انسان کی اصل حقیقت سمجھانے کیلئے حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق کا واقعہ بیان ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرشتوں کو بتاتے ہیں کہ زمین میں اپنا نائب بنانے والا ہوں، آدمؑ کو علم سکھایا جاتا ہے جس کی بنا پر انہیں فضیلت ملتی ہے، فرشتے حکم کے مطابق سجدہ کرتے ہیں مگر ابلیس تکبر کی وجہ سے انکار کرتا ہے اور مردود قرار پاتا ہے۔ یہاں یہ اصول واضح کیا جاتا ہے کہ علم انسان کی عزت کا سبب ہے جبکہ تکبر تباہی کا راستہ ہے۔ آدمؑ اور حوا جنت میں رہتے ہیں مگر شیطان کے بہکانے سے لغزش ہو جاتی ہے، تاہم وہ توبہ کرتے ہیں اور اللہ ان کی توبہ قبول فرما لیتا ہے۔ اس واقعے سے بتایا گیا کہ انسان خطا کر سکتا ہے مگر رجوع اور توبہ اس کی نجات کا ذریعہ ہے۔
اس کے بعد خطاب بنی اسرائیل کی طرف منتقل ہوتا ہے جنہیں بار بار اللہ کی نعمتیں یاد دلائی جاتی ہیں۔ انہیں کہا جاتا ہے کہ میرے احسانات کو یاد کرو، اپنے وعدے پورے کرو اور اس کتاب پر ایمان لاؤ جو پہلے سے موجود تعلیمات کی تصدیق کرتی ہے۔ انہیں تنبیہ کی جاتی ہے کہ حق کو باطل کے ساتھ نہ ملاؤ اور جانتے بوجھتے سچائی کو نہ چھپاؤ۔ یہاں علماء اور مذہبی پیشواؤں کی اس کمزوری کو بیان کیا گیا ہے کہ وہ لوگوں کو نیکی کا حکم دیتے تھے مگر خود عمل نہیں کرتے تھے۔ ساتھ ہی صبر اور نماز کے ذریعے اللہ سے مدد لینے کی تعلیم دی گئی، کیونکہ حقیقی طاقت اللہ سے تعلق میں ہے۔
پھر بنی اسرائیل کی تاریخ کے واقعات بیان کر کے ناشکری کے نتائج سمجھائے جاتے ہیں۔ انہیں فرعون کے ظلم سے نجات دی گئی، سمندر میں راستہ بنایا گیا، من و سلویٰ جیسی نعمتیں عطا ہوئیں مگر اس کے باوجود انہوں نے شکر ادا کرنے کے بجائے شکایتیں کیں۔ گائے کے ذبح کرنے کا واقعہ بھی اسی سلسلے میں آتا ہے جہاں ایک سادہ حکم کو بار بار سوالات کر کے مشکل بنایا گیا، یہاں یہ سبق دیا گیا کہ دین میں بلاوجہ بحث اور سختی انسان کو مشکل میں ڈال دیتی ہے۔ آگے بتایا گیا کہ مسلسل نافرمانی کے باعث ان کے دل سخت ہو گئے، یہاں تک کہ مثال دی گئی کہ بعض پتھروں سے بھی پانی نکل آتا ہے مگر کچھ دل ایسے ہو جاتے ہیں جو نصیحت سے متاثر نہیں ہوتے۔
اس کے بعد ان لوگوں کا ذکر ہے جو اللہ کی کتاب میں تحریف کرتے، الفاظ بدل دیتے اور دنیاوی فائدے کیلئے دین کو استعمال کرتے تھے، پھر جھوٹی تسلیوں میں مبتلا ہو کر کہتے تھے کہ ہمیں عذاب نہیں ہوگا۔ قرآن واضح کرتا ہے کہ نجات نسب یا دعوے سے نہیں بلکہ ایمان اور عمل صالح سے ملتی ہے۔ بنی اسرائیل سے لیے گئے عہد یاد دلائے جاتے ہیں کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو، والدین اور محتاجوں سے حسن سلوک کرو، خونریزی نہ کرو، مگر انہوں نے بار بار وعدے توڑے۔ یوں تاریخ کے واقعات کے ذریعے امت مسلمہ کو بھی متنبہ کیا گیا کہ جب قومیں اخلاقی اصول چھوڑ دیتی ہیں تو زوال ان کا مقدر بن جاتا ہے۔
پہلا پارہ دراصل انسان کو ابتدا ہی میں آئینہ دکھاتا ہے۔ اسے بتایا جاتا ہے کہ ہدایت مانگنے سے ملتی ہے، ایمان صرف دعویٰ نہیں بلکہ عمل کا نام ہے، تکبر شیطان کا راستہ ہے اور شکرگزاری بندے کو اللہ کے قریب کرتی ہے۔ قرآن کا یہ آغاز قاری کو اپنے اندر جھانکنے پر مجبور کرتا ہے تاکہ وہ فیصلہ کرے کہ وہ مومنوں کے راستے پر چلنا چاہتا ہے یا ان لوگوں کی طرح بننا چاہتا ہے جنہوں نے حق کو پہچان کر بھی نظر انداز کر دیا۔ یہی پہلا پارہ قرآن کے پورے پیغام کی بنیاد رکھتا ہے اور انسان کے دل میں یہ احساس پیدا کرتا ہے کہ اصل کامیابی اللہ کی ہدایت کو قبول کرنے میں ہے۔